بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3106
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3106
حدیث نمبر: 3106 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، قَالَ: وَكَانَتْ حُبْلَى، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا. قال: وَالْعَفْرُ: أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنَ السَّقْيِ، بَعْدَ الْإِبَارِ بِشَهْرَيْنِ، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا حَمْشَ السَّاقَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ، أَصْهَبَ الشَّعَرَةِ، وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ أَجْلَى جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا"؟ قَالَ: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كانت قَدْ أَعْلَنَتْ فِي الْإِسْلَامِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس وقت اس کی بیوی امید سے تھی، عجلانی نے کہا کہ واللہ! درختوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اس کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سفید مائل بہ سرخی تھے، اس عورت کو شریک بن سحماء کے ساتھ متہم کیا گیا تھا، اور اس کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا اور اس کے بازو بھرے ہوئے تھے، ابن شداد نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں گواہوں کے بغیر کسی پر حد رجم جاری کرتا، تو اس عورت پر کرتا؟ فرمایا: نہیں، وہ تو وہ عورت تھی جن نے زمانہ اسلام میں لعان کیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (3105) باب پر واپس اگلی حدیث (3107) →