عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ، وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا، يَقُولُ ارْجِعَا، قَالَ: فَرَجَعَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ، وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا، فَإِذَا أَتَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ، وَأَعْلِمْهُ أَنَّا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا، وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ، لَأَرْسَلْنَا بِهَا إِلَيْهِ , قَالَ: فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ عَنِ الْخَلْوَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تاآنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہو گیا، جب آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2510]
الحكم: إسناده حسن