أَبُو الْوَلِيدِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَطَاءٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَاسْأَلُوا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، أَوْ بَعْدَ الْمَائِدَةِ؟" وَاللَّهِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ، وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلَى ظَهْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاةِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَيْهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موزوں پر تو مسح کیا ہے لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول سے پہلے یا بعد میں مسح کیا تھا، اب ان سے پوچھ لو، واللہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح نہیں کیا تھا، اور مجھے جنگل میں بھی موزوں پر مسح کرنے سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ کسی اونٹ کی پشت پر مسح کر لوں۔ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذاتی رائے ہے، ورنہ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ مائدہ کے نزول کے بعد موزوں پر مسح کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2975]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء بن سائب كان قد اختلط ، وأبو عوانة سمع من عطاء فى الصحة وفي الاختلاط جميعا
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء بن سائب كان قد اختلط ، وأبو عوانة سمع من عطاء فى الصحة وفي الاختلاط جميعا