زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ". قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا هَذَا فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ، وَأَشْبَاهِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔ راوی نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا کہ یہ حکم طلاق و عتاق میں بھی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، صرف بیع و شراء میں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1712
الحكم: إسناده صحيح، م: 1712