الزُّبَيْرِيُّ ، وَأَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَأَسْوَدُ ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِيرٍ أَقْبَلَتْ، فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرَامِلِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا أَبْتَاعُ بَيْعًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چند اوقیہ چاندی کا منافع ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ ”میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2970]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف وانظر 2093
الحكم: إسناده ضعيف وانظر 2093