بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2214
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2214
حدیث نمبر: 2214 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَلَابٍ ، الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، أَبَا عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَلَابٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ السِّقَايَةِ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدة لَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ , أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ , قَالَ:" عَنْ أَيِّ بَالِهِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: عَنْ صِيَامِهِ , قَالَ:" إِذَا أَنْتَ أَهْلَلْتَ الْمُحَرَّمَ فَاعْدُدْ تِسْعًا، ثُمَّ أَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا" , قال: قُلْتُ: كَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیت السقایہ حاضر ہوا، وہ اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2214]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1133، على بن عاصم يخطئ لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 1133، على بن عاصم يخطئ لكنه متابع
← پچھلی حدیث (2213) باب پر واپس اگلی حدیث (2215) →