بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2199
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2199
حدیث نمبر: 2199 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ، وَمَنْ رَمَاهَا، أَوْ رَمَى وَلَدَهَا، فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ، وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا عليه وَلَا سُكْنَى، مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ، وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعان کرنے والی عورت کی اولاد کے متعلق یہ فیصلہ فرما دیا کہ اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2199]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه عباد بن منصور، تكلم فيه وفي سماعه من عكرمة
الحكم: إسناده ضعيف، فيه عباد بن منصور، تكلم فيه وفي سماعه من عكرمة
← پچھلی حدیث (2198) باب پر واپس اگلی حدیث (2200) →