يُونُسُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ، فَقَالَ:" أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْك؟" , قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ:" بَلَغَنِي أَنَّكَ فَجَرْتَ بِأَمَةِ آلِ فُلَانٍ؟" , قَالَ: نَعَمْ , فَرَدَّهُ حَتَّى شَهِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”تمہارے بارے مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟“ انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا بات میرے متعلق معلوم ہوئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟“ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، تب کہیں جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2202]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 1693
الحكم: إسناده حسن، م: 1693