عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِقَوْمٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الزَّنَادِقَةِ وَمَعَهُمْ كُتُبٌ، فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ، ثُمَّ أَحْرَقَهُمْ وَكُتُبَهُمْ، قَالَ عِكْرِمَةُ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ، لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَتَلْتُهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے، ان کے پاس کچھ کتابیں بھی تھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم پر آگ دہکائی گئی اور پھر انہوں نے ان لوگوں کو ان کی کتابوں سمیت نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو“، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2551]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6922
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6922