عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا أَخَذَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، فَحَرَّقَهُمْ بِالنَّارِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَدًا" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دَيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ" , فَبَلَغَ عَلِيًّا مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَيْحَ ابْنِ أُمِّ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ مرتدین کو نذر آتش کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پتہ چلا تو فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو“، بلکہ میں انہیں قتل کر دیتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔“ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا (کہ یہ بات پہلے سے معلوم کیوں نہ ہو سکی؟)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2552]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3017
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3017