عَفَّانُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، فَقَالَ: أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ , قَالَ: فَقُمْتُ، وَأَنَا نَاعِسٌ، فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي، قال: فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگھ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خیمے کی ایک چوب سے لٹک گیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ تئیسویں رات تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2547]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة