بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي حَسَّانَ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ , أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ، قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ، قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي كُلُّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ , فَقَالَ:" سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ , قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1244
الحكم: إسناده صحيح، م: 1244