بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 26 از 67
حدیث نمبر: 24959 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب کوئی بیمار ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1967، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1967، م: 1106
حدیث نمبر: 24960 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :" لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْآيَاتِ آيَاتِ الرِّبَا مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات جو سود سے متعلق ہیں نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے ان کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 459، م: 1580
الحكم: إسناده صحيح، خ: 459، م: 1580
حدیث نمبر: 24961 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، وَكَانَ إِذَا بَقِيَتْ عَلَيْهِ ثَلَاثُونَ آيَةً أَوْ أَرْبَعُونَ، قَامَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ سَجَدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کی نماز کا کچھ حصہ بھی بیٹھ کر نہ پڑھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر ہی جتنی اللہ کو منظور ہوتی نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
حدیث نمبر: 24962 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَاهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ؟ فَقَالَتْ:" مَا قَالَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ. قُلْتُ: فَمَا اضْطَرَّكُمْ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَضَحِكَتْ، وَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنے قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5623، م: 2970
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5623، م: 2970
حدیث نمبر: 24963 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5446، م: 2975
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5446، م: 2975
حدیث نمبر: 24964 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذَهَبْتُ أَحْكِي امْرَأَةً أَوْ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا" . أَعْظَمَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں اور نہ اسے پسند کروں، (میں نے کہہ دیا یارسول اللہ! صفیہ تو اتنی سی ہے اور یہ کہہ کر ہاتھ سے اس کے ٹھگنے ہونے کا اشارہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے جسے اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بھی بدل جائے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24965 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ:" أَيُبَاشِرُ الصَّائِمُ يَعْنِي امْرَأَتَهُ؟ قَالَتْ: لَا. قُلْتُ: أَلَيْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ روزہ دار اپنے بیوی کے جسم سے اپنا جسم ملا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے کہا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اس طرح نہیں کرلیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24965]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1967، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، خ: 1967، م: 1106
حدیث نمبر: 24966 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبولگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24966]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حماد حسن الحديث، ولكن متابع
الحكم: حديث صحيح، حماد حسن الحديث، ولكن متابع
حدیث نمبر: 24967 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ" . وَكَانَ يَقُولُ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، فَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا، وَإِنْ قَلَّ". وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً يُدَاوِمُ عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریبا شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھے جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24967]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالوهاب مختلف فيه، ولكن توبع، خ: 738، م: 1156
الحكم: حديث صحيح، عبدالوهاب مختلف فيه، ولكن توبع، خ: 738، م: 1156
حدیث نمبر: 24968 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24968]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وإسناده كسابقه، خ: 619، م: 724
الحكم: حديث صحيح وإسناده كسابقه، خ: 619، م: 724
حدیث نمبر: 24969 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَتْ: " نَعَمْ، وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24969]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالوهاب إن كان فيه كلام ولكن متابع
الحكم: حديث صحيح، عبدالوهاب إن كان فيه كلام ولكن متابع
حدیث نمبر: 24970 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهِيَ صَائِمَةٌ، وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَفْطِرِي، فَقَالَتْ: أُفْطِرُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ " إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء خراسانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، وہ عرفہ کا دن تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روزے سے تھیں اور ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ روزہ کھول لیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا روزہ ختم کر دوں جبکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ ایک سال قبل کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24970]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لا نقطاعه، عطاء الخراساني لم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لا نقطاعه، عطاء الخراساني لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24971 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: " رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَاَكْشِفْ عَنْهَا، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، يُمْضِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئی تھیں اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے ریشم کے ایک کپڑے میں تمہاری تصویر اٹھا رکھی تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے، میں نے سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ ایسا کرکے رہے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24971]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3895، م: 2438
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3895، م: 2438
حدیث نمبر: 24972 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، أَبِي بَكْرٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ فَلَا تَطْهُرُ، فَذُكِرَ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهُ، فَلْتَتْرُكْ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لِتَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَلْتَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُصَلِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش جو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ معمول کے ایام نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہوجائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں اور اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24972]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: فلتغتسل عند كل صلاة.....فهو غير محفوظ، والصحيح أنها فعلته أم حبيبة من نفسها
الحكم: حديث صحيح دون قوله: فلتغتسل عند كل صلاة.....فهو غير محفوظ، والصحيح أنها فعلته أم حبيبة من نفسها
حدیث نمبر: 24973 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1032
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1032
حدیث نمبر: 24974 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٍ ، مُسْلِمٍ ، وَأَبِي حَصِينٍ ، يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ. وَأَبِي حَصِينٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وَتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ:" مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ، وَسَطَهُ وَآخِرَهُ، وَأَوَّلَهُ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ حَتَّى مَاتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے آغاز، درمیان اور آخر ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24974]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له إسنادان: الإسناد الأول حسن، والاسناد الثاني صحيح، م: 745
الحكم: هذا الحديث له إسنادان: الإسناد الأول حسن، والاسناد الثاني صحيح، م: 745
حدیث نمبر: 24975 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ. وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ابْنَةَ زَمْعَةَ" . قَالَتْ: فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبدزمعہ رضی عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یارسول ا اللہ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور سعد رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، کیونکہ بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا چنانچہ وہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو کبھی نہ دیکھ سکا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6618، م: 1457
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6618، م: 1457
حدیث نمبر: 24976 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، أَيُّوبُ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ، ثُمَّ لَا يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ الْمُحْرِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ھدی کا جانور بھیج دیتے تھے اور پھر وہ کام نہیں کرتے تھے جو محرم کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24976]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل سعيد بن عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل سعيد بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24977 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ، إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ" . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ مَرَّةٍ، حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد نبوت کا کچھ حصہ باقی نہیں رہے گا، البتہ مبشرات رہ جائیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہ عنہھم نے پوچھا یا رسول اللہ! مبشرات سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اچھے خواب جو کوئی آدمی اپنے متعلق خود دیکھتا ہے یا کوئی دوسرا اس کے لئے دیکھتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24977]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل سعيد بن عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل سعيد بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24978 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّا لَجُنُبَانِ، وَلَكِنَّ الْمَاءَ لَا يَجْنُبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے، ہم تو جنبی ہوتے لیکن پانی جنبی نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24978]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر