بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 20 از 67
حدیث نمبر: 24839 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ وَلِي النِّعْمَةَ". قَالَ: وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا، فَأَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ لَحْمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ:" هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو انصار کے کچھ لوگوں سے خریدنا چاہا تو انہوں نے " ولاء " کی شرط لگا دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نکاح باقی رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار دے دیا اور اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا (اپنے خاوند سے نکاح ختم کردیا) اس کا خاوند غلام تھا، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24839]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1493، م: 1504
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1493، م: 1504
حدیث نمبر: 24840 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، لِلْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟ قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْبَيْتِ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل بیت کو دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 24841 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ الثَّقَفِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24841]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، سمع زائدة من عطاء قبل الاختلاط
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، سمع زائدة من عطاء قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 24842 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، عُمَارَةُ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنَ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ. قَالَ: فَكَانَتْ سَبْعَ مِئَةِ بَعِيرٍ. قَالَ: فَارْتَجَّتْ الْمَدِينَةُ مِنَ الصَّوْتِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا" . فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَقَالَ: إِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا، فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ اپنے گھر میں بیٹھی تھیں کہ مدینہ منورہ میں ایک شور و غلغلہ کی آواز سنائی دی، انہوں نے پوچھا کیسی آواز ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا قافلہ شام سے آیا ہے اور اس میں ہر چیز موجود ہے، راوی کہتے ہیں کہ یہ قافلہ سات سو اونٹوں پر مشتمل تھا اور مدینہ منورہ میں اس کا ایک غلغلہ بلند ہوگیا تھا، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف کو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا ہے، حضرت عبدالرحمن بن عوف تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا اگر میرے لئے ممکن ہوا تو میں کھڑا ہونے کی حالت میں ہی جنت میں داخل ہوں گا، یہ کہہ کر انہوں نے ان اونٹوں کا سارا سامان حتیٰ کہ رسیاں تک اللہ کے راستہ میں خرچ کردیں۔ فائدہ: اس حدیث کو محدثین نے موضوع روایت قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24842]
حکم دارالسلام
حديث منكر باطل لأجل تفرد عمارة
الحكم: حديث منكر باطل لأجل تفرد عمارة
حدیث نمبر: 24843 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ ، شُعْبَةُ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَفَّانُ: قَالَ: قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" . قَالَ شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِهِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 487
الحكم: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 24844 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، ابْنِ قُسَيْطٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ رِجْلَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا طویل قیام فرماتے تھے کہ پاؤں مبارک ورم آلود ہوجاتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24844]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 4837، م: 2820
الحكم: إسناده حسن، خ: 4837، م: 2820
حدیث نمبر: 24845 مسند احمد
هَارُونُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، أَبِي قُسَيْطٍ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ أَبِي قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا، قَالَتْ: فَغِرْتُ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ:" مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ، أَغِرْتِ؟" قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَمَا لِي أَنْ لَا يَغَارَ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَأَخَذَكِ شَيْطَانُكِ؟ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَمَعِي شَيْطَانٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قُلْتُ: وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قُلْتُ: وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت میرے پاس چلے گئے، مجھے بڑی غیرت آئی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آگئے اور میری کیفیت دیکھ کر فرمایا: عائشہ! کیا بات ہے؟ کیا تمہیں غیرت آئی؟ میں نے عرض کیا کہ میرے جیسی بیوی آپ جیسے شوہر پر غیرت کیوں نہیں کھائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں تمہارے شیطان نے پکڑ لیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے عرض کیا کہ کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ کے ساتھ بھی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24845]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه، م: 2815
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه، م: 2815
حدیث نمبر: 24846 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فِي أَمْرٍ يُنْتَهَكُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حُرْمَةٌ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2560، م: 2327
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2560، م: 2327
حدیث نمبر: 24847 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24847]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 24848 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ابْتَسِطُوهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے کاٹ کردو تکیے بنالو۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پھر ہم نے اس پردے کے دو تکیے بنا لئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24848]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24849 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَجَعَلْنَاهُنَّ وِسَادَتَيْنِ، يعني: الستر.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24850 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، خَوَّاتِ بْنِ صَالِحٍ ، أُمِّ عَمْرٍو بِنْتِ خَوَّاتٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ عَمْرٍو بِنْتِ خَوَّاتٍ ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ: إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَهَا مَرَضٌ، فَسَقَطَ شَعَرُهَا فَهُوَ مُوَفَّرٌ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُمَشِّطَهُ، وَهِيَ عَرُوسٌ، أَفَأَصِلُ فِي شَعَرِهَا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ :" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24850]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خوات بن صالح، خ: 5934، م: 2133
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خوات بن صالح، خ: 5934، م: 2133
حدیث نمبر: 24851 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ:" عَلَيْكُمْ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: عَلَيْكُمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَلَعْنَةُ اللَّاعِنِينَ، قَالُوا: مَا كَانَ أَبُوكِ فَحَّاشًا، فَلَمَّا خَرَجُوا، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ؟" قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا؟ قَالَ: " فَمَا رَأَيْتِينِي قُلْتُ: عَلَيْكُمْ، إِنَّهُ يُصِيبُهُمْ مَا أَقُولُ لَهُمْ، وَلَا يُصِيبُنِي مَا قَالُوا لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی اور السام علیک کہا، (جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا علیکم یہ سن کر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ تم پر ہی اللہ کی اور لعنت کرنے والوں کی لعنت طاری ہو، اس پر وہ یہودی کہنے لگے کہ تمہارے والد تو اس طرح کی گفتگو نہیں کرتے، جب وہ چلے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، وَعَلَیکُم (تم پر ہی موت طاری ہو) میں جو کہوں گا وہ انہیں جا پہنچے گا لیکن جو وہ کہیں گے، وہ مجھے نہیں پہنچے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24851]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات إلا أن ابا بكر لم يسمع من عائشة، وقد سلف بغير هذه السياقة بإسناد صحيح برقم: 24090
الحكم: رجاله ثقات إلا أن ابا بكر لم يسمع من عائشة، وقد سلف بغير هذه السياقة بإسناد صحيح برقم: 24090
حدیث نمبر: 24852 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ، فَسَقَطَ شَعَرُ رَأْسِهَا، وَإِنَّ زَوْجَهَا قَدْ أَشْقَانِي، أَفَتَرَى أَنْ أَصِلَ بِرَأْسِهَا؟ فَقَالَ: " لَا، فَإِنَّهُ لُعِنَ الْمَوْصُولَاتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24852]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5205، م: 2123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5205، م: 2123
حدیث نمبر: 24853 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ الْأَيْلِيُّ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ مَسْحَ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ، وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ! سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی ہتھیلیاں جمع کرتے اور ان پر سورت اخلاص اور معوذ تین پڑھ کر پھو نکتے اور جہاں جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر ان ہاتھوں کو پھیر لیتے اور سب سے پہلے اپنے سر اور چہرے اور سامنے کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تھے اور تین مرتبہ اس طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5017
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5017
حدیث نمبر: 24854 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَقْنِي عَلَى مَنْكِبَيْهِ لِأَنْظُرَ إِلَى زَفْنِ الْحَبَشَةِ، حَتَّى كُنْتُ الَّتِي مَلِلْتُ فَانْصَرَفْتُ عَنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24854]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عبدالرحمن بن أبى الزناد متابع، م: 892 نحوه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عبدالرحمن بن أبى الزناد متابع، م: 892 نحوه
حدیث نمبر: 24855 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ لِي عُرْوَةُ : إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمَئِذٍ لَتَعْلَمُ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً، إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کو جان لینا چاہیے کہ ہمارے دین میں بڑی گنجائش ہے اور مجھے خالص ملت حنیفی کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24855]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24856 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عنبسة بن سعيد ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ . وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عنبسة بن سعيد عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" أَجَلْ، وَاللَّهِ مَا تَدْرِي , إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا، تَجْرِي فِيهَا أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ وَالدَّمِ"، قُلْتُ: أَنْهَارًا؟ قَالَ:" لَا، بَلْ أَوْدِيَةً،" ثُمّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" أَجَلْ، وَاللَّهِ مَا نَدْرِي" . حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ: وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سورة الزمر آية 67، فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " هُمْ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا اچھا واقعی تمہیں معلوم نہیں ہوگا، اہل جہنم کے کانوں کی لو سے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت حائل ہوگی اور اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہہ رہی ہوں گی، میں نے عرض کیا " نہریں " فرمایا نہیں بلکہ وادیاں، پھر دوبارہ پو چھا کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا اچھا، واقعی تمہیں معلوم نہیں ہوگا، مجھے حضرت عائشہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آیت کے متعلق پو چھا تھا قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان لپیٹے ہوئے اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے، تو یارسول اللہ! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم کے پل پر ہوں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24856]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24857 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ". فَقُلْتُ: عَلَيْكَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لَا نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَ عَلیہِ السلاَم وَرَحمَۃُ اللہِ یارسول اللہ! آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24857]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3617
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3617
حدیث نمبر: 24858 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ مَعْمَرٍ , وَيُونُسَ. وَعَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , وَيُونُسُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:" لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور مرض میں شدت آگئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گذارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2593، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2593، م: 418