مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، لِلْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ : هَلْ سَأَلْتَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟ قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْبَيْتِ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل بیت کو دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995