بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 1 از 67
حدیث نمبر: 24459 مسند احمد
حَسَنْ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، أُمَّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنْ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24459]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24460 مسند احمد
مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَة ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ مِنْ حِينِ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَمَنْ حِينِ تَصُوبُ حَتَّى تَغِيبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے تاآنکہ وہ بلند ہوجائے اسی طرح غروب کے وقت منع فرمایا ہے تاآنکہ وہ مکمل غروب ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24460]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 24461 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ بِخَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ أَذَانِهِ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَيَخْرُجَ مَعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤ ذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤ ذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24461]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، م: 736
حدیث نمبر: 24462 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا، قُلْتُ: رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْكَ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ. قَالَ:" وَرَأَيْتِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ". قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ، وَنِعْمَ الدَّخِيلُ ، قَالَ سُفْيَانُ: الدَّخِيلُ: الضَّيْفُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے تھے، میں نے جب دیا " وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ " اللہ اسے جزائے خیر دے یعنی میزبان کو بھی اور مہمان کو بھی، کہ میزبان بھی کیا خوب ہے اور مہمان بھی کیا خوب ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24462]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد، وقد سلف بغير هذا السياق بإسناد صحيح برقم: 24281
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد، وقد سلف بغير هذا السياق بإسناد صحيح برقم: 24281
حدیث نمبر: 24463 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟ قَالَ: " الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ هُوَ جِهَادُ النِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یارسول اللہ! کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورتوں کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24463]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2875
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 24464 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءِ الشَّنِّيُّ ، صَالِحُ بْنُ سَرْجٍ ، عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءِ الشَّنِّيُّ مَنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ سَرْجٍ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَذَاكَرْتُهَا حَتَّى ذَكَرْنَا الْقَاضِيَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَاعَةٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمران بن حطان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرتا رہا، اس دوران قاضی کا تذکرہ آگیا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن عدل و انصاف کرنے والے قاضی پر بھی ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ تمنا کرے گا کہ اس نے کبھی دو آدمیوں کے درمیان ایک کھجور کے متعلق بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24464]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة صالح بن سرج، وتفرده
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة صالح بن سرج، وتفرده
حدیث نمبر: 24465 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ لِرَجُلٍ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: شِهَابٌ، فَقَالَ:" أَنْتَ هِشَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دوسرے سے یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ تمہارا کیا نام ہے؟ اس نے جواب دیا شہاب، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا نام ہشام ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24465]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24466 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا"، فَقُلْتُ: أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ؟ فَسَكَتَ. قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَسَارَّهُ، فَذَهَبَ، قَالَتْ: فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ، فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ، فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى أَنْ تَخْلَعَهُ، فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ وَلَا كَرَامَةَ" يَقُولُهَا لَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے کہ عائشہ! اگر ہمارے پاس کوئی ہوتا جو ہم سے باتیں ہی کرتا (تو وقت گذر جاتا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کسی کو بھیج کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد پھر وہی بات دہرائی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کسی کو بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ایک خادم کو بلا کر اس کے کان میں سرگوشی کی، وہ چلا گیا، کچھ ہی دیر بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آکر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، وہ اندر آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کافی دیر تک ان سے باتیں کرتے رہے، پھر فرمایا عثمان! اللہ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین چاہیں کہ تم اسے اتار دو تو تم اسے اتار نہ دینا، یہ کوئی عزت والی بات نہ ہوگی، یہ جملہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے دو تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24466]
حکم دارالسلام
صحيح من قوله: يا عثمان إن الله ... أو ثلاثا ، وهذا إسناد فيه ضعف لضعف فرج ابن فضالة
الحكم: صحيح من قوله: يا عثمان إن الله ... أو ثلاثا ، وهذا إسناد فيه ضعف لضعف فرج ابن فضالة
حدیث نمبر: 24467 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، الْحَضْرَمِيُّ بْنُ لَاحِقٍ ، ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَضْرَمِيُّ بْنُ لَاحِقٍ ، أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ لِي:" مَا يُبْكِيكِ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ كَفَيْتُكُمُوهُ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي، فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِي يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ، فَيَنْزِلَ نَاحِيَتَهَا، وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ، فَيَخْرُجَ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا حَتَّى الشَّامِ مَدِينَةٍ بِفِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ" ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً:" حَتَّى يَأْتِيَ فِلَسْطِينَ بَابَ لُدٍّ، فَيَنْزِلَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقْتُلَهُ، ثُمَّ يَمْكُثَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے دجال کا خیال آگیا اور رونے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر دجال میری زندگی میں نکل آیا تو میں تمہاری اس سے کفایت کروں گا اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کا خروج اصفہان کے علاقے " یہودیہ " سے ہوگا اور وہ سفر کرتا ہوا مدینہ منورہ آئے گا اور ایک جانب پڑاؤ کرے گا، اس زمانے میں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور اس کے ہر سوراخ پر دو فرشتے مقرر ہوں گے اور مدینہ منورہ میں جو لوگ برے ہوں گے وہ نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، پھر وہ شام روانہ ہوجائے گا اور فلسطین کے ایک شہر میں باب لد کے قریب پہنچے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوجائے گا اور وہ اسے قتل کردیں گے اور اس کے بعد چالیس سال تک زمین میں منصف حکمران اور انصاف کرنے والے قاضی کے طور پر زندہ رہیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24467]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24468 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْكَعْبَةِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ، لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار کا حکم صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24468]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وهو مكرر الحديث: 24351
الحكم: إسناده حسن، وهو مكرر الحديث: 24351
حدیث نمبر: 24469 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، يَزِيدَ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ، قَالَ: " شِبْرٌ"، قَالَتْ: قُلْتُ: إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ، قَالَ:" فَذِرَاعٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کے دامن کی لمبائی ایک بالشت کے برابر بیان فرمائی تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں نظر آنے لگیں گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24469]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جداً، الأن يزيد أبا المهزم منكر الحديث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جداً، الأن يزيد أبا المهزم منكر الحديث
حدیث نمبر: 24470 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ، فَقَالُوا: أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: " غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ، وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ"، قَالُوا: فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو لوگوں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، لوگوں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24470]
حکم دارالسلام
إسناده فيه ضعف وانقطاع، على بن زيد وهو ابن جدعان - ضعيف، والحسن لم يصح له سماع من عائشة
الحكم: إسناده فيه ضعف وانقطاع، على بن زيد وهو ابن جدعان - ضعيف، والحسن لم يصح له سماع من عائشة
حدیث نمبر: 24471 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا الْمَعْنَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَجَاءَ بَعِيرٌ فَسَجَدَ لَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَسْجُدُ لَكَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ، فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ. فَقَالَ: " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَأَكْرِمُوا أَخَاكُمْ، وَلَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَمَرَهَا أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَصْفَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ، وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَبْيَضَ، كَانَ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَفْعَلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہاجرین و انصار کے کچھ لوگوں کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا، یہ دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! درندے اور درخت آپ کو سجدہ کرسکتے ہیں تو ہمیں اس کا زیادہ حق پہنچتا ہے کہ آپ کو سجدہ کریں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عبادت صرف اپنے رب کی کرو اور اپنے " بھائی کی عزت کرو، اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حکم دے کہ اس زرد پہاڑ سے اس سیاہ پہاڑ پر یا اس سیاہ پہاڑ سے اس سفید پہاڑ پر منتقل ہوجائے تو اس کے لئے یونہی کرنا اس کے حق میں مناسب ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24471]
حکم دارالسلام
قوله: لو كنت آمرا.... لزوجها صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: قوله: لو كنت آمرا.... لزوجها صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 24472 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، عَطَاءٍ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقُومُ فِي صَلَاةِ الآَيَاتِ، فَيَرْكَعُ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يَرْكَعُ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَسْجُدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز توبہ کے لئے کھڑے ہوتے تو تین مرتبہ رکوع کرتے پھر سجدہ فرماتے، پھر تین مرتبہ رکوع کرتے اور سجدہ فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24472]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 901
الحكم: إسناده صحيح، م: 901
حدیث نمبر: 24473 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلَّى، فَكَبَّرَ، وَكَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَرَأَ، فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَامَ، فَقَرَأَ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَفَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ ر صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مصلیٰ پر پہنچ کر نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی زندگی اور موت سے گہن نہیں لگتا، اس لئے جب ایسا ہو تو فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24473]
حکم دارالسلام
حديث صحيح سليمان بن كثير - وإن كان ضعيفا فى الزهري- متابع
الحكم: حديث صحيح سليمان بن كثير - وإن كان ضعيفا فى الزهري- متابع
حدیث نمبر: 24474 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ الْقُرَيْعِيُّ ، عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمَّ هِلَالٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ الْقُرَيْعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أُمَّ هِلَالٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى غَيْمًا إِلَّا رَأَيْتُ فِي وَجْهِهِ الْهَيْجَ، فَإِذَا مَطَرَتْ، سَكَنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ہمیشہ دیکھا کہ جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور جب بارش ہوجاتی تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مطمئن ہوتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24474]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24475 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ ، شَرِيكٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَأْتِي بَعْضَ نِسَائِهِ، فَاتَّبَعْتُهُ، فَأَتَى الْمَقَابِرَ، ثُمَّ قَالَ: " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا بِكُمْ لَلَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ"، قَالَتْ: ثُمَّ الْتَفَتَ، فَرَآنِي، فَقَالَ:" وَيْحَهَا، لَوْ اسْتَطَاعَتْ مَا فَعَلَتْ" قَالَ: ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، میں سمجھی کہ وہ اپنی کسی اہلیہ کے پاس گئے ہیں، میں تلاش میں نکلی تو پتہ چلا کہ وہ بقيع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرما اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پلٹ کر دیکھا تو مجھ پر نظر پڑ گئی اور فرمایا افسوس! اگر اس میں طاقت ہوتی تو یہ ایسا نہ کرتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24475]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24476 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَاصِمٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَسْتَأْذِنُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْمَرْأَةِ مِنَّا" بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51 قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا: مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لَهُ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَقُولُ لَهُ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ، فَإِنِّي لَا أُرِيدُ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کر دیں اور جیسے چاہیں اپنے قریب کر لیں۔۔۔۔ تب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اجازت لیا کرتے تھے، ہم میں سے جس کی بھی باری کا دن ہوتا، عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہتی تھی کہ یا رسول اللہ! اگر یہ میرے اختیار میں ہے تو میں آپ پر کسی دوسرے کو ترجیح نہیں دینا چاہتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4789، م: 1476
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4789، م: 1476
حدیث نمبر: 24477 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ سَوْدَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لِعَائِشَةَ. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْسِمُ لَهَا يَوْمَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ جب بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنی باری کا دن مجھے دے دیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی باری کا دن مجھے دیتے تھے اور وہ پہلی خاتون تھیں جن سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے بعد نکاح فرمایا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24477]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5212، م: 1463
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5212، م: 1463
حدیث نمبر: 24478 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ، تَيْسِيرَ خِطْبَتِهَا، وَتَيْسِيرَ صَدَاقِهَا، وَتَيْسِيرَ رَحِمِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کے مبارک ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا نکاح آسانی سے ہو جائے اس کا مہر آسان ہو اور اس کا رحم سہل ہو (نطفہ قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24478]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن