بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 8 از 67
حدیث نمبر: 24599 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْمُبَارَكُ ، أُمِّي ، مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَأَنَا أَقُولُ لَهُ أَبْقِ لِي، أَبْقِ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24599]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أم المبارك وابنها قد توبعا
الحكم: حديث صحيح، أم المبارك وابنها قد توبعا
حدیث نمبر: 24600 مسند احمد
هَاشِمٌ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، زُبَيْدٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَرِّثُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24600]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 24601 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، مُبَارَكٌ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبِرِينِي بِخُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ، أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ سورة القلم آية 4" . قُلْتُ: فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ، قَالَتْ: " لَا تَفْعَلْ، أَمَا تَقْرَأُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 , فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ وُلِدَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المومنین! مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق کے بارے بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق تو قرآن ہی تھا، کیا تم قرآن نہیں پڑھتے، اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ» [سورۃ القلم، آیت 4] میں نے عرض کیا کہ میں گوشہ نشین ہونا چاہتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ایسا مت کرو، کیا تم قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھتے، «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» [سورۃ الأحزاب، آیت 21] تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں اسوہ حسنہ موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکاح بھی کیا ہے اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24601]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المبارك بن فضالة مدلس ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، المبارك بن فضالة مدلس ولكن توبع
حدیث نمبر: 24602 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، يَحْيَى ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مِنَ النِّسَاءِ مَا رَأَيْنَا، لَمَنَعَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ، كَمَا مَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا" , قُلْتْ لِعَمْرَةَ: وَمَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرئیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 869، م: 445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 869، م: 445
حدیث نمبر: 24603 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ، ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میری نظروں کے سامنے اب بھی وہ منظر موجود ہے، جب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 24604 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، وَهِشَامٍ ، وَيُونُسَ ، الْحَسَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، وَهِشَامٍ , وَيُونُسَ , عَنْ الْحَسَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَعَوَاتٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ يَدْعُوَ بِهَا: " يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُكْثِرُ تَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ؟ فَقَالَ:" إِنَّ قَلْبَ الْآدَمِيِّ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا شَاءَ أَزَاغَهُ، وَإِذَا شَاءَ أَقَامَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کچھ دعائیں ایسی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت فرمایا کرتے تھے اے مقلب القلوب! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ اکثر یہ دعائیں کیوں کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے اگر وہ چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے اور اگر چاہے تو سیدھا رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24604]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن لم يسمع من عائشة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24605 مسند احمد
يُونُسُ ، نَافِعٌ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حُوسِبَ يَوْمَئِذٍ عُذِّبَ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، قَالَ:" ذَاكَ الْعَرْضُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ، عُذِّبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 103، م: 2876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 103، م: 2876
حدیث نمبر: 24606 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، ابْنِ قُرَيْط الصَّدَفِيِّ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ قُرَيْط الصَّدَفِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاجِعُكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارِي، وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِذْ ذَاكَ إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، فَلَمَّا رَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اعْتَزَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پو چھا کیا ایام کی حالت میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے ساتھ لیٹ جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں، میں جب اپنا ازار باندھ لیتی تھی، کیونکہ اس وقت ہمارے پاس ایک ہی بستر ہوتا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے مجھے دوسرا بستر دیدیا تو میں الگ ہوجاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24606]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن قريط الصدفي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن قريط الصدفي
حدیث نمبر: 24607 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُمْنُ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرُ خِطْبَتِهَا، وَتَيْسِيرُ صَدَاقِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کے مبارک ہونے کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا نکاح آسانی سے ہوجائے اور اس کا مہر آسان ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24607]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24608 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا، وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہے، اسے نماز والا وضو کرلینا چاہیے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24608]
حکم دارالسلام
حديث صحيح من فعله، وصحيح لغيره من قوله ابن لهيعة توبع ، راجع: 24083
الحكم: حديث صحيح من فعله، وصحيح لغيره من قوله ابن لهيعة توبع ، راجع: 24083
حدیث نمبر: 24609 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ ، مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَتْ: أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا،" كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ التَّمَامِ، فَكَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءِ، فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَغِبَ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ کے سامنے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایک ہی رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن پڑھ لیتے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف سورت آل عمران اور سورت نساء پڑھ پاتے تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسی جس آیت پر گذرتے جس میں خوف دلایا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور دعاء فرماتے اور خوشخبری کے مضمون پر مشتمل جس آیت سے گذرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور اس کی طرف اپنی رغبت کا اظہار فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24609]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال مسلم بن مخراق
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال مسلم بن مخراق
حدیث نمبر: 24610 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، أَبِيهِ ، مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَجَبِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَجَبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ، وَأَبْصَرَتْ الْمَاءَ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ:، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ تَرِبَتْ يَدَاكِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعِيهَا، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ. إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ، أَشْبَهَ أَخْوَالَهُ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا، أَشْبَهَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت " خواب " دیکھے اور اسے " پانی " کے اثرات نظر آئیں تو کیا وہ بھی غسل کرے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! حضرت عائشہ نے اس عورت سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں (کیا عورت بھی اس کیفیت سے دوچار ہوتی ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اسے چھوڑ دو، بچے کی اپنے والدین سے مشابہت اسی وجہ سے تو ہوتی ہے کہ اگر عورت کا " پانی " مرد کے " پانی " پر غالب آجائے تو بچہ اپنے ماموں کے مشابہہ ہوتا ہے اور اگر مرد کا " پانی " عورت کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ اس کے مشابہہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24610]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، مصعب بن شيبة لين الحديث، ولكن توبع م: 314
الحكم: إسناده صحيح، مصعب بن شيبة لين الحديث، ولكن توبع م: 314
حدیث نمبر: 24611 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، ابْنِ الْهَادِ ، زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَهُ , عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا، فَأَطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً، وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا، فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا، فَشَقَّتْ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا، قَالَتْ: فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ، وَأَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بچیوں کو اٹھائے میرے پاس آئی، میں نے اسے تین کھجوریں دی، اس نے ان میں سے ہر بچی کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور خود کھانے کے لئے اپنے منہ کی طرف بڑھائی، لیکن اسی وقت اس کی بچیوں نے اس سے مزید کھجور مانگی تو اس نے اسی کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کرکے انہیں دے دیا، مجھے اس واقعے پر بڑا تعجب ہوا، بعد میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے لئے اس بناء پر جنت واجب کردی اور اسے جہنم سے آزاد کردیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2630
الحكم: إسناده صحيح، م: 2630
حدیث نمبر: 24612 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَرْسَلْتُ بَرِيرَةَ فِي أَثَرِهِ لِتَنْظُرَ أَيْنَ ذَهَبَ، قَالَتْ: فَسَلَكَ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَوَقَفَ فِي أَدْنَى الْبَقِيعِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَرَجَعَتْ إِلَيَّ بَرِيرَةُ، فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ سَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ خَرَجْتَ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: " بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت گھر سے نکلے، میں نے بریرہ کو ان کے پیچھے یہ دیکھنے کے لئے بھیجا کہ وہ کہاں جاتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع کی طرف چل پڑے، وہاں پہنچ کر اس کے قریبی حصے میں کھڑے رہے، پھر ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرکے واپس آگئے، بریرہ نے مجھے واپس آکر اس کی اطلاع کردی، جب صبح ہوئی تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ رات کو کہاں گئے تھے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ ان کے لئے دعا کروں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24612]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين ،
الحكم: إسناده محتمل للتحسين ،
حدیث نمبر: 24613 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے پھر ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2026، م: 1172
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2026، م: 1172
حدیث نمبر: 24614 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخَرِ مَرَّتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی دو مرتبہ کوئی نماز اس کے آخری وقت میں نہیں پڑھی حتیٰ کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24614]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إسحاق بن عمر مجهول، ولم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف، إسحاق بن عمر مجهول، ولم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24615 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ، فَلْيَفْعَلْ". وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ، وَلَمْ يَعْتَمِرْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجۃ الوداع کے سال لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص حج سے پہلے عمرہ کرنا چاہے تو وہ ایسا کرلے اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ہدی کا جانور ہمراہ ہونے کی وجہ سے) صرف حج کیا تھا، عمرہ نہیں کیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24615]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: ولم يعتمر ، وهذا إسناد ضعيف لأجل جهالة حال أم علقمة
الحكم: حديث صحيح دون قولها: ولم يعتمر ، وهذا إسناد ضعيف لأجل جهالة حال أم علقمة
حدیث نمبر: 24616 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ، فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَأَدْخَلَنِي فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ لِي: " صَلِّي فِي الْحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنَ الْبَيْتِ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ، فَأَخْرَجُوهُ مِنَ الْبَيْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھوں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے حطیم میں داخل کردیا اور فرمایا اگر تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہتی ہو تو حطیم میں نماز پڑھ لو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے لیکن تمہاری قوم کے پاس جب حلال سرمایہ کم ہوگیا تو انہوں نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اس حصے کو اس تعمیر سے باہر نکال دیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24616]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: صلى فى الحجر ... من البيت فحسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: حديث صحيح دون قوله: صلى فى الحجر ... من البيت فحسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 24617 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الْمَرِيضِ: " بِسْمِ اللَّهِ، بِتُرْبَةِ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، لِيُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مریض پر یہ کلمات پڑھ کر دم کرتے تھے " بسم اللہ " ہماری زمین کی مٹی میں ہم میں سے کسی کا لعاب شامل ہوا، تاکہ ہمارے رب کے حکم سے ہمارے بیمار کو شفاء یابی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5746، م: 2194
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5746، م: 2194
حدیث نمبر: 24618 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، عُثْمَانَ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24618]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3536، م: 2349
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3536، م: 2349