بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 11 از 67
حدیث نمبر: 24659 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، النَّخَعِيِّ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ النَّخَعِيِّ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَإِذَا رَأَيْتَهُ فَاغْسِلْهُ، فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكَ، فَارْشُشْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی، اس لئے جب تم اسے دیکھا کرو تو کپڑے کو دھو لیا کرو، ورنہ پانی چھڑک دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24659]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 288
الحكم: حديث صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 24660 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَقْضِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ : أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ ؟ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟" لَقَدْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَقْضِي شَيْئًا مِنَ الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24660]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 321، م: 335
الحكم: حديث صحيح، خ: 321، م: 335
حدیث نمبر: 24661 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدَأَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا، کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24661]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 24662 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَافِعٍ ، امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ: " كَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے، گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24662]
حکم دارالسلام
صحيح من حديث أم سلمة
الحكم: صحيح من حديث أم سلمة
حدیث نمبر: 24663 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، نَافِعٍ ، إِنْسَانٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِنْسَانٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً، لَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجِيًا مِنْهَا، نَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قبر کو ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے، اگر کوئی شخص اس عمل سے بچ سکتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24663]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24664 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَهُوَ يُصَلِّي" قَالَ سَعْدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَهِيَ حَائِضٌ. قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: سَعْدٌ الَّذِي يَشُكُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24664]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 24665 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ نے کبھی مسلسل دو دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24665]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2970
الحكم: إسناده صحيح، م: 2970
حدیث نمبر: 24666 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَنَالُ شَيْئًا مِنْ وُجُوهِنَا وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بھی ہمیں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24666]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 24667 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ إِمْلَاءً، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَهَذَا الَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ يَتَتَعْتَعُ فِيهِ، لَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کرکے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24667]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4937، م: 798
الحكم: حديث صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 24668 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَيُّكُمْ أَمْلَكُ لِإِرْبِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24668]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1927، م:1106
الحكم: حديث صحيح، خ: 1927، م:1106
حدیث نمبر: 24669 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24669]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 24670 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي حَفْصَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ" أَنَّهُ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ وَأَمَرَ، فَنُودِيَ: إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ، قَالَتْ: فَأَحْسِبُهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ، وَلَمْ يَسْجُدْ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ، وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو رباسعادت میں جب سورج گرہن ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کا حکم دیا، نماز کا اعلان کردیا گیا کہ نماز تیار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور نماز میں طویل قیام فرمایا اور غالباً اس میں سورت بقرہ کی تلاوت فرمائی، پھر ایک طویل رکوع کیا، پھر " سمع اللہ لمن حمدہ " کہہ کر پہلے کی طرح کافی دیر کھڑے رہے اور سجدے میں نہیں گئے بلکہ دو بارہ رکوع کیا، پھر سجدے میں گئے اور دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر بھی اس طرح کیا کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے، پھر التحیات میں بیٹھ گئے اور اس دوران سورج گرہن ختم ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24670]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حفصة مولي عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حفصة مولي عائشة
حدیث نمبر: 24671 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، الْأَشْعَثِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24671]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالله بن معقل مجهول ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، عبدالله بن معقل مجهول ولكن توبع
حدیث نمبر: 24672 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ بِمِنًى، قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5922، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5922، م: 1189
حدیث نمبر: 24673 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى، وَأُوَافِي قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ النَّاسُ، فَقَالُوا لِعَائِشَةَ: وَاسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ؟ قَالَتْ: إِنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً،" فَأَذِنَ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کہ کاش! میں بھی حضرت سودہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منیٰ میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کرلیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ نے اس کی اجازت لے رکھی تھی؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
حدیث نمبر: 24674 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ بِمِنًى، وَقَدْ أَفَاضَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أُرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتَنَا؟ قَالَ:" لِمَ؟" قُلْتُ: حَاضَتْ، قَالَ: " أَوَلَمْ تَكُنْ قَدْ أَفَاضَتْ؟" قُلْتُ: قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَتْ: بَلَى، شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ:" فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ، فَارْتَحِلِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طواف زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طواف زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24674]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على قلب فى متنه
الحكم: حديث صحيح على قلب فى متنه
حدیث نمبر: 24675 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ هَذِهِ الْمُرَحَّلَاتِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ، وَعَلَيَّ بَعْضُهُ، وَالْمِرْطُ مِنْ أَكْسِيَةٍ سُودٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کو نا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 514
الحكم: إسناده صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 24676 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أُمَيْنَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمَيْنَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَتْ: تَعْجِزُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ مِنْ أُضْحِيَّتِهَا سِقَاءً! ثُمّ قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ" ، وَكَذَا وَكَذَا نَسِيَهُ سُلَيْمَانُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے مٹ کی کی نبیذ کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم عورتیں اس بات سے بھی عاجز ہو کہ اپنی قربانی کے جانور کی کھال کا کوئی مشکیزہ ہی بنالو، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور فلاں فلاں چیز سے منع فرمایا ہے۔ " فلاں فلاں چیز " کی وضاحت سلیمان بھول گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24676]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أمينة
الحكم: المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أمينة
حدیث نمبر: 24677 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ أَكْمَلَ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کامل ترین ایمان والا وہ آدمی ہوتا ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ عمدہ ہوں اور وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24677]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره
الحكم: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24678 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، سَالِمٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى دَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24678]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح