بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 18 از 67
حدیث نمبر: 24799 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، ثُمَّ يَنْتَبِهُ، ثُمَّ يَنَامُ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل واجب ہوتا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے، پھر بیدار ہوتے اور دوبارہ یونہی سوجاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24799]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير شريك، فهو ضعيف، راجع 24778
الحكم: رجاله ثقات غير شريك، فهو ضعيف، راجع 24778
حدیث نمبر: 24800 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، رَجُلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ سورة القلم آية 4. قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثِينِي عَنْ ذَاكَ، قَالَتْ: صَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا، وَصَنَعَتْ لَهُ حَفْصَةُ طَعَامًا، فَقُلْتُ: لِجَارِيَتِي اذْهَبِي، فَإِنْ جَاءَتْ هِيَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَتْهُ قَبْلُ فَاطْرَحِي الطَّعَامَ، قَالَتْ: فَجَاءَتْ بِالطَّعَامِ، قَالَتْ: فَأَلْقَتْهُ الْجَارِيَةُ، فَوَقَعَتْ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ، وَكَانَ نِطْعًا , قَالَتْ: فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " اقْتَصُّوا أَوْ اقْتَصِّي شَكَّ أَسْوَدُ ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكِ" ، فَمَا قَالَ شَيْءٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو سواء کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ میں نے عرض کیا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی واقعہ سنایئے، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانا پکایا، ادھر حضرت حفصہ نے بھی کھانا پکا لیا، میں نے اپنی باندی کو سمجھا دیا کہ جا کر دیکھ اگر حفصہ کھانا لے آئیں اور پہلے رکھ دیں تو تم وہ کھانا گرا دینا، چنانچہ حضرت حفصہ کھانا پہلے لے آئیں، باندی نے اسے گرادیا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، نیچے دستر خوان بچھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے جمع کرنے لگے اور فرمایا کہ اس برتن کے بدلے میں دوسرا برتن قصاص کے طور پر وصول کرلو، لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24800]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عائشة، وشريك سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عائشة، وشريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 24801 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِرَاشِهِ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ بَعْضَ نِسَائِهِ، فَتَبِعْتُهُ حَتَّى قَامَ عَلَى الْمَقَابِرِ، فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ". قَالَتْ: فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ:" وَيْحَهَا لَوْ تَسْتَطِيعُ مَا فَعَلَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہیں پایا، میں سمجھی کہ وہ اپنی کسی اہلیہ کے پاس گئے ہیں، میں تلاش میں نکلی تو پتہ چلا کہ وہ جنت البقیع میں ہیں، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " سلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم نہ فرمایا اور ان کے بعد کسی آزمائش میں مبتلا نہ فرما پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پلٹ کر دیکھا تو مجھ پر نظر پڑگئی اور فرمایا افسوس! اگر اس میں طاقت ہوتی تو یہ ایسا نہ کرتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24801]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 24802 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَوْ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، شَكَّ شَرِيكٌ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ عَلَى الْخُمْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ یا ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چٹائی پر سجدہ کیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24802]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل شريك
حدیث نمبر: 24803 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي عَرُوسٌ مَرِضَتْ، فَتَمَرَّقَ شَعَرُهَا، أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَتْ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" , أَوْ قَالَتْ: الْوَاصِلَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24803]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24804 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْت أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْت أَبِي بَكْرٍ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي ابْنَةً عَرُوسًا، وَإِنَّهَا مَرِضَتْ، فَتَمَرَّقَ شَعَرُهَا، أَفَأَصِلُهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24804]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 24805 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْعَتَكِيُّ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْعَتَكِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ زُوِّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ، فَتَمَعَّطَ شَعَرُهَا، فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24805]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5934، م: 2123
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5934، م: 2123
حدیث نمبر: 24806 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ ذَلِكَ الْيَوْمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24806]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24807 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَهِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، قَالَتْ: قُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ؟ قَالَ:" إِنَّ حَيْضَكِ لَيْسَ بِيَدِكِ" . قَالَ أَبُو أَحْمَدَ:" إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24807]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 298
الحكم: حديث صحيح، م: 298
حدیث نمبر: 24808 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَادِيَةِ، إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَأَعْطَى نِسَاءَهُ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَهُنَّ بَعِيرًا بَعِيرًا غَيْرِي، فَأَعْطَانِي بَعِيرًا آدَمًَا صَعْبًا، لَمْ يُرْكَبْ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، ارْفُقِي بِهِ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَا يُخَالِطُ شَيْئًا إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُفَارِقُ شَيْئًا إِلَّا شَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے مجھے ایک ایسی اونٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24808]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2594
الحكم: إسناده صحيح، م: 2594
حدیث نمبر: 24809 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، جَرِيرٌ ، مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى قَائِمًا، رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، رَكَعَ قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24809]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 24810 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ؟ فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ، أَلَمْ تَقْرَأْ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 قَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوُلِدَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین! میں گوشہ نشین ہونا چاہتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا ایسا مت کرو، کیا تم قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھتے " تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں اسوہ حسنہ موجود ہے " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکاح بھی کیا ہے اور ان کے یہاں اولاد بھی ہوئی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24810]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24811 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرِّجَالِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَا يُمْنَعُ نَقْعُ مَاءٍ، وَلَا رَهْوُ بِئْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24811]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24812 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا اشْتَرَتْ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَتْهُ إِيَّاهُ، وَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَهُ حَجَلَةً، فَقَالَ لَهَا: " اقْطَعِيهِ وِسَادَتَيْنِ". قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَكُنْتُ أَتَوَسَّدُهُمَا، وَيَتَوَسَّدُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک چادر خریدی جس پر کچھ تصویریں بنی ہوئی تھیں، ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس سے چھپر کھٹ بنائیں گی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو انہیں دکھایا اور اپنا ارادہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کاٹ کردو تکیے بنا لو، میں نے ایسا ہی کیا اور میں بھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس سے ٹیک لگالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24812]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لأجل أبى أويس
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لأجل أبى أويس
حدیث نمبر: 24813 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ ، سَالِمٍ سَبَلَانَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ إِلَى مَكَّةَ، قَالَ: وَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي بِهَا، قَالَ: فَأَدْرَكَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَأَسَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْوُضُوءَ، فَقَالَتْ: عَائِشَةُ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24813]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول، ولكن تابعه يحيي بن أبى كثير
الحكم: حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول، ولكن تابعه يحيي بن أبى كثير
حدیث نمبر: 24814 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، حَبَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، عَنْ حَبَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24814]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم، خ: 5595، م: 1995
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن قرم، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 24815 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرًا ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهَا: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُقْرِئُكِ السَّلَامَ". فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24815]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6253، م: 2447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6253، م: 2447
حدیث نمبر: 24816 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهِ بِلَالٌ، فَيُؤْذِنُهُ لِلصَّلَاةِ وَهُوَ جُنُبٌ، " فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي، وَأَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ، وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات رات کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے، حضرت بلال نماز فجر کی اطلاع دینے آتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھ کر غسل فرماتے اور میں دیکھتی تھی کہ پانی ان کی کھال اور بالوں سے ٹپک رہا ہے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24816]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 514
الحكم: حديث صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 24817 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ الشُّعَبِ الْأَرْبَعِ، ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص عورت کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24817]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل على بن زيد
حدیث نمبر: 24818 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ، فَإِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعِبَ وَاشْتَدَّ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ، رَبَضَ، فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے باہر ہوتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں تشریف لارہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24818]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات إلا أن مجاهد لم يصرح بما يفيد سماعه هذا الحديث من عائشة
الحكم: رجاله ثقات إلا أن مجاهد لم يصرح بما يفيد سماعه هذا الحديث من عائشة