بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 49 از 67
حدیث نمبر: 25419 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا، فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً بَعْدُ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی، وہ کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! عذاب قبر برحق ہے، اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو نماز بھی پڑھتے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں عذاب قبر سے پناہ مانگی [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25419]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1372 ، م: 586
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1372 ، م: 586
حدیث نمبر: 25420 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، مُجَاهِدٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَجَّاجٌ، وَبَهْزٌ، أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ بَهْزٌ: ابْنُ وَرْدَانَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: مُجَاهِدُ بْنُ وَرْدَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيرَاثِهِ، فَقَالَ: " هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ؟" قَالَ بَهْزٌ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مرگیا ' اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا ' نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25420]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25421 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِهِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَهُ، قَالَ: فَسَأَلَ أَبِي عَائِشَةَ وَأَخْبَرَهَا، بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَتْ:" يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْتَضِحُ طِيبًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا آدمی اپنے احرام پر (احرام کی نیت سے قبل) خوشبو لگا سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ایسا کرنے سے زیادہ پسند یہ کہ اپنے کپڑوں پر تار کول مل لوں، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی مسئلہ پوچھا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب بھی ان سے زیادہ ذکر کردیا تو انہوں نے فرمایا ابوعبدالرحمن پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میں تو خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے، پھر صبح کو احرام کی نیت کرلیتے اور ان کے احرام سے خوشبو مہک رہی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25421]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 267، م: 1192
الحكم: إسناده صحيح، خ: 267، م: 1192
حدیث نمبر: 25422 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ الْمَعْلُومَةَ مِنَ الشَّهْرِ؟ فَقَالَتْ:" نَعَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہینے میں متعین دنوں کا روزہ رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25422]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25423 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عِمْرَانَ ، طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ طَلْحَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي جَارَيْنِ، فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ: " أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےفرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2595
حدیث نمبر: 25424 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عِمْرَانَ ، طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ طَلْحَةَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2595
حدیث نمبر: 25425 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، ذَكْوَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ . قَالَ رَوْحٌ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّار. فَقَالَ: " وَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَأَرَاهُمْ يَتَرَدَّدُونَ" قَالَ الْحَكَمُ:" كَأَنَّهُمْ" أَحْسَبُ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلَّ كَمَا أَحَلُّوا" . قَالَ رَوْحٌ: يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ، قَالَ: كَأَنَّهُمْ هَابُوا، أَحْسَبُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذی الحجہ کی چار تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو غصے کی حالت میں تھے، میں نے کہا یارسول اللہ! آپ کو کس نے غصہ دلایا ہے؟ اللہ اسے جہنم رسید کرے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی، میں نے لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا، پھر انہیں تردد کا شکار دیکھ رہا ہوں، اگر یہ چیز جواب میرے سامنے آئی ہے، پہلے آجاتی تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لاتا بلکہ یہاں آ کر خرید لیتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام کھولا جیسے لوگوں نے احرام کھول لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1211
حدیث نمبر: 25426 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ فَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ". وَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا . وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے خریدنا چاہا تو اس کے مالکوں نے اس کی ولاء اپنے لئے مشروط کرلی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ غلام کی وراثت اسی کو ملتی ہے جو اسے آزاد کرتا ہے، نیز لوگ اسے صدقات کی مد میں کچھ دیتے تھے تو وہ ہمیں بھی اس میں سے کچھ ہدیہ کردیتی تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے تمہارے لئے ہدیہ ہوتا ہے لہذا تم اسے کھا سکتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ اس کا خاوند آزاد آدمی تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25426]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1492، م: 1075
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1492، م: 1075
حدیث نمبر: 25427 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہیوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِاحرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25427]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 25428 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ رَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً أَوْ حَزِينَةً حَاضَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعَقْرَى أَوْ حَلْقَى، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَانْفِرِي إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کے بعد واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو اپنے خیمے کے دوازے پر غمگین اور پریشان دیکھا کیونکہ ان کے ایام شروع ہوگئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25428]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5329، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5329، م: 1211
حدیث نمبر: 25429 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْروِ بْنِ مُرَّةَ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْروِ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً، أَوْ حَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25429]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2572
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2572
حدیث نمبر: 25430 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ عَوْفٍ ، يَعْقُوبُ ، أَبِيهِ ، ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ: حَجَّاجٌ: ابْنُ عَوْفٍ . وحَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، قَالَ: " وَأَنَا صَائِمٌ" فَقَبَّلَنِي . قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ لِي سَعْدٌ: طَلْحَةُ عَمُّ أَبِي سَعْدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بوسہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی روزے سے ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف ہاتھ بڑھا کر مجھے بوسہ دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25430]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25431 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، بَهْزٌ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . قَالَ بَهْزٌ : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: " أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ" قَالَ بَهْزٌ:" مَا دُووِمَ عَلَيْهِ"، وَقَالَ:" اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6465، م: 782
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6465، م: 782
حدیث نمبر: 25432 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . قَالَ بَهْزٌ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ" . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: قَالَ سَعْدٌ: وَأَحْسَبُهُ، قَدْ قَالَ: وَهِيَ حَائِضٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 25433 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَرَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدٍ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَت: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ، يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69، قَالَتْ: فَظَنَنْتُ، أَنَّهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ . قَالَ رَوْحٌ: إِنَّهُ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مرض الوفات میں دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء کرام علیہ السلام اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت کیا خوب ہے، میں سمجھ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس وقت اختیار دیا گیا ہے "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4435، م: 2444
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4435، م: 2444
حدیث نمبر: 25434 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25434]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 487
الحكم: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 25435 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ، فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ، وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَإِلَّا تَوَضَّأَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رات نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے پہلے پہر سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرما لیتے اور نماز کے لئے چلے جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25435]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1146، م:739
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1146، م:739
حدیث نمبر: 25436 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25437 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، وَمَسْرُوقٍ ، أنهما قَالَا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا كَانَ يَوْمُهُ الَّذِي يَكُونُ عِنْدِي إِلَّا صَلَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي تَعْنِي: الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق مروی ہے کہ میرے پاس تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس دن بھی تشریف لائے، انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25437]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 593، م: 835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 593، م: 835
حدیث نمبر: 25438 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، لِلْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِلْأَسْوَدِ حَدِّثْنِي عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَإِنَّهَا كَانَتْ تُفْضِي إِلَيْكَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ ثُمَّ لَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ" . فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا، وَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے کوئی حدیث سناؤ، جو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف تم سے ہی بیان کی ہو کیونکہ وہ بہت سی چیزیں صرف تم سے بیان کرتی تھیں اور عام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا کہ انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی جس کا پہلا حصہ مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، چنانچہ خلیفہ بننے کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کردیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25438]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح