بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 23 از 67
حدیث نمبر: 24899 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، فِرَاسٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقُلْنَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيَّتُنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا؟ فَقَالَ: " أَطْوَلُكُنَّ يَدًا". فَأَخَذْنَا قَصَبًا فَذَرَعْنَاهَا، فَكَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ أَطْوَلَنَا ذِرَاعًا، فَقَالَتْ: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَنَا بِهِ لُحُوقًا، فَعَرَفْنَا بَعْدُ أَنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ، وَكَانَتْ امْرَأَةً تُحِبُّ الصَّدَقَةَ . وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: قَصَبَةً نَذْرَعُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تمام ازواج مطہرات جمع تھیں، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے آکر ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کا ہاتھ تم میں سب سے زیادہ لمبا ہوگا، ہم ایک لکڑی لے کر اس سے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کرنے لگے، حضرت سودہ بنت زمعہ کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا نکلا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد جلد ہی حضرت سودہ ان سے جاملیں، بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ ہاتھ کی لمبائی سے مراد صدقہ خیرات میں کشادگی تھی اور وہ صدقہ خیرات کرنے کو پسند کرنے والی خاتون تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24899]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وذكر سودة فيه خطأ، والصواب أنها زينب ، خ: 1420، م: 2452
الحكم: حديث صحيح، وذكر سودة فيه خطأ، والصواب أنها زينب ، خ: 1420، م: 2452
حدیث نمبر: 24900 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أُمُّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَا يَرْقُدُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا، فَيَسْتَيْقِظُ، إِلَّا تَسَوَّكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات یا دن کے جس حصے میں بھی سو کر بیدار ہوتے تو مسواک ضرور فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24900]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ولجهالة أم محمد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ولجهالة أم محمد
حدیث نمبر: 24901 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، فَلَيُقَطَّعَنَّ رِجَالٌ دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَلَيُقَالَنَّ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو لوگ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے میں ان کا انتظار کروں گا، کچھ لوگوں کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، میں کہوں گا کہ پروردگار! یہ میرے امتی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے پیچھے کیا عمل کئے، یہ مسلسل اپنی ایڑیوں کے بل واپس لوٹتے چلے گئے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24901]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2294
الحكم: حديث صحيح، م: 2294
حدیث نمبر: 24902 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يَرْقُدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24902]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات راجع: 24083
الحكم: رجاله ثقات راجع: 24083
حدیث نمبر: 24903 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جیسے تم میں سے کوئی آدمی کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جوتی خود سی لیتے تھے اور اپنے کپڑوں پر خود ہی پیوند لگا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24903]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 676
الحكم: حديث صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 24904 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو الْمُؤَمَّلِ ، الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، رُبَّمَا اضْطَجَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر سے پہلے دور رکعتیں پڑھ کر بعض اوقات دائیں پہلو پر لیٹ جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24904]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: ربما، وقد انفرد بها أبو المؤمل
الحكم: حديث صحيح دون قوله: ربما، وقد انفرد بها أبو المؤمل
حدیث نمبر: 24905 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ، لَمْ أَجِدْ رِيحًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو ان کا سر مبارک میرے حلق اور سینہ کے درمیان تھا اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح نکلی تو اس کے ساتھ ایک ایسی مہک آئی جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24905]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1389، م: 2442
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1389، م: 2442
حدیث نمبر: 24906 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا أَنَّمَا هُوَ الْحَجُّ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَطَافَ وَلَمْ يَحْلِلْ، وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَطَافَ مَنْ مَعَهُ مِنْ نِسَائِهِ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَّ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَحَاضَتْ هِيَ، فَقَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا مِنْ حَجِّنَا، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، لَيْلَةُ النَّفْرِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَرْجِعُ أَصْحَابُكَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجٍّ؟ فَقَالَ: " أَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا؟" قَالَتْ: قُلْتُ: لَا، قَالَ:" انْطَلِقِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا". قَالَتْ: وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ، فَقَالَ:" عَقْرَى أَوْ حَلْقَى، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، أَمَا كُنْتِ طُفْتِ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قَالَتْ: بَلَى. قَالَ:" لَا بَأْسَ، فَانْفِرِي". قَالَتْ: فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدْلِجًا، وَهُوَ مُصْعِدٌ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهِمْ، أَوْ هُوَ مُنْهَبِطٌ عَلَيْهِمْ، وَأَنَا مُصْعِدَةٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا لیکن احرام نہیں کھولا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہدی کا جانور تھا، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابہ نے بھی طواف وسعی کی اور ان تمام لوگوں نے احرام کھول لیا جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا۔ حضرت عائشہ ایام سے تھیں، ہم لوگ اپنے مناسک حج ادا کرکے جب کوچ کرنے کے لئے مقام حصبہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تھے تو کیا تم نے ان دونوں میں طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے عرض کیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم چلی جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کر آؤ اور فلاں جگہ پر آکر ہم سے ملنا۔ اسی دوران حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کردو گی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کے وقت ملی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ کے بالائی حصے پر چڑھ رہے تھے اور میں نیچے اتر رہی تھی، یا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے اتر رہے تھے اور میں اوپر چڑھ رہی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24906]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 24907 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ؟ فَقَالَ: " خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ:" تَوَضَّئِي بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا، ثُمَّ قَالَ:" تَوَضَّئِي بِهَا". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَفَطِنْتُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ، فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! جب میں پاک ہوجاؤں تو غسل کس طرح کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خوشبو لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کیا کرو، اس نے پھر یہی سوال کیا تو سبحان اللہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا چہرہ ہی پھیرلیا اور پھر فرمایا اس سے پاکی حاصل کرو، میں سمجھ گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا مقصد ہے؟ چنانچہ میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا مقصد ہے؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 315، م: 3332
الحكم: إسناده صحيح، خ: 315، م: 3332
حدیث نمبر: 24908 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مَرْوَانُ أَبُو لُبَابَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ أَبُو لُبَابَةَ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24908]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: كان يقرأ، فحسن لأجل مروان
الحكم: حديث صحيح دون قوله: كان يقرأ، فحسن لأجل مروان
حدیث نمبر: 24909 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، مَكْحُولٌ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِيهِ مَكْحُولٌ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ، فَهُوَ لَهَا، وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ، وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان جس چیز کے ذریعے کسی عورت کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کرتا ہے مثلاً مہر یا کوئی اور سامان تو وہ اس عورت کی ملکیت میں ہوتا ہے اور جس چیز سے اس عورت کے باپ، بھائی یا سرپرست کا معاملہ نکاح کے بعد اکرام کیا جاتا ہے تو وہ اس کا ہوجا تا ہے اور انسان کی بیٹی یا بہن اس بات کی زیادہ حقدار ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کا اکرام کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24909]
حکم دارالسلام
حسن من حديث عبدالله بن عمرو بن العاص، وهذا إسناد مختلف فيه
الحكم: حسن من حديث عبدالله بن عمرو بن العاص، وهذا إسناد مختلف فيه
حدیث نمبر: 24910 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، جَابِرٍ ، الشَّعْبِيِّ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ، يَعْنِي أَنْ لَا يُفْشِيَ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ، كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ"، قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلْيَلِهِ أَقْرَبُ أَهْلِهِ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ، فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ، فَلْيَلِهِ مِنْكُمْ مَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ أَوْ أَمَانَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مردے کو غسل دے اور اس کے متعلق امانت کی بات بیان کردے اور اس کا کوئی عیب " جو غسل دیتے وقت ظاہر ہوا ہو " فاش نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے اپنی پیدائش کے دن ہوتا ہے، پھر فرمایا کہ تم میں سے جو شخص مردے کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، وہ اس کے قریب رہے بشرطیکہ کچھ جانتا بھی ہو اور اگر کچھ نہ جانتا ہو تو اسے قریب رکھو جس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کے پاس امانت اور تقویٰ کا حظ و افر موجود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24910]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر وهو الجعفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر وهو الجعفي
حدیث نمبر: 24911 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابُ، وَالْعَقْرَبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24911]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 24912 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامٌ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ نَاسًا كَانُوا يَتَعَبَّدُونَ عِبَادَةً شَدِيدَةً، فَنَهَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَخْشَاكُمْ لَهُ". وَكَانَ يَقُولُ:" عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ عبادت میں بہت محنت مشقت برداشت کیا کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں منع کرتے ہوئے فرمایا واللہ میں اللہ کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں اور فرمایا کرتے تھے کہ اپنے اوپر اتنا عمل لازم کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا لیکن تم اکتا جاؤ گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24912]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24913 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24913]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1175
الحكم: إسناده صحيح، م: 1175
حدیث نمبر: 24914 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ، اغْتَسَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24914]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24915 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، يُبَادِرُنِي مُبَادَرَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24915]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 361
الحكم: إسناده صحيح، م: 361
حدیث نمبر: 24916 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ، وَيَمُصُّ لِسَانَهَا" . قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دے دیا کرتے تھے اور ان کی زبان چوس لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24916]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: ويمص لسانها وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار وقد انفرد بهذه اللفظة
الحكم: حديث صحيح دون قوله: ويمص لسانها وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار وقد انفرد بهذه اللفظة
حدیث نمبر: 24917 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَمَّادٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ إِلَيْهِ ضَبٌّ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا: میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24917]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: لا تطعموهم مما.... وهذا إسناد مختلف فيه راجع: 24736
الحكم: صحيح دون قوله: لا تطعموهم مما.... وهذا إسناد مختلف فيه راجع: 24736
حدیث نمبر: 24918 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، أَبِي الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ شِبْرًا" . قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ؟ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: أَسْوُقُهُنَّ؟ قَالَ فَذِرَاعٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کے دامن کی لمبائی ایک بالشت کے برابر بیان فرمائی تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں نظر آنے لگیں گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24918]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل أبى المهزم
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل أبى المهزم