بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 33 از 67
حدیث نمبر: 25099 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھے تو وہ ناقص ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25099]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق وقد صرح بالتحديث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق وقد صرح بالتحديث
حدیث نمبر: 25100 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فِي سَاعَةٍ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا، فَرَاثَ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَهُ بِالْبَابِ قَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي انْتَظَرْتُكَ لِمِيعَادِكَ"، فَقَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا، وَلَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، وَكَانَ تَحْتَ سَرِيرِ عَائِشَةَ جِرْوُ كَلْبٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكِلَابِ حِينَ أَصْبَحَ فَقُتِلَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی وقت آنے کا وعدہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وقت مقرہ پر ان کا انتظار کرتے رہے، لیکن جب وہ نہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے باہر نکلے، دیکھا کہ دروازے پر کھڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں آپ کے وعدہ کے مطابق آپ کا انتظار کرتا رہا، انہوں نے جواب دیا کہ گھر کے اندر کتا موجود ہے اور ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویریں ہوں، دراصل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے اسی وقت باہر نکال دیا گیا اور صبح ہونے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25100]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: "ثم أمر بالكلاب..... فقتلت" فصحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
الحكم: حديث صحيح دون قوله: "ثم أمر بالكلاب..... فقتلت" فصحيح لغيره، وهذا اسناد حسن
حدیث نمبر: 25101 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ؟ قَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، لَمْ أَرَهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25101]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد
حدیث نمبر: 25102 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْأَصْبَغُ ، ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، رَبِيعَةُ الْجُرَشِيُّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَصْبَغُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ الْجُرَشِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ وَبِمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيُهَلِّلُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي" عَشْرًا، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّيقِ يَوْمَ الْحِسَابِ" عَشْرًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ربیعہ جرشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کو بیدار ہوتے تو کیا دعا پڑھتے تھے اور کس چیز سے آغاز فرماتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس مرتبہ تکبیر کہتے تھے، دس مرتبہ الحمد، دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ لا الہ الا اللہ اور دس مرتبہ استغفر اللہ کہتے تھے اور دوسری مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء فرما اور دس مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے، اے اللہ! میں حساب کے دن کی تنگی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25102]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد غير محفوظ
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد غير محفوظ
حدیث نمبر: 25103 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَمَيْتُمْ وَحَلَقْتُمْ، فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ الطِّيبُ وَالثِّيَابُ وَكُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم رمی کر چکو اور سر کا حلق کروالو تو تمہارے لئے خوشبو، سلے ہوئے کپڑے اور دوسری تمام چیزیں " سوائے عورتوں کے " حلال ہوگئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25103]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: وحلقتم وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
الحكم: صحيح دون قوله: وحلقتم وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 25104 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات ایام کی حالت میں ہوتیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تہبند کے اوپر سے اپنی ازواج سے مباشرت فرمایا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25104]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل حجاج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل حجاج
حدیث نمبر: 25105 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَته بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ قَامَ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَيَخْرُجَ مَعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے۔ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھا نے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25106 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، بُدَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ، فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہ عنہھم کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ کھانا سب کو کفایت کرجاتا اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پرھ لیا کرے بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25106]
حکم دارالسلام
حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد منقطع لأن عبدالله بن عبيد لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن بشواهده، وهذا إسناد منقطع لأن عبدالله بن عبيد لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25107 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: سَأَلَهَا أَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ " فَدَعَتْ بِمَاءٍ قَدْرَ الصَّاعِ، فَاغْتَسَلَتْ وَصَبَّتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک رضاعی بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ایک برتن منگوایا جو ایک صاع کے برابر تھا اور غسل کرنے لگیں، انہوں نے اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا، (اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 251، م: 320
الحكم: إسناده صحيح، خ: 251، م: 320
حدیث نمبر: 25108 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر شرمگاہ کو دھوتے، پھر دونوں ہاتھ دھو کر کلی کرتے، ناک میں پانی ڈالتے اور سر پر پانی ڈالتے، پھر سارے جسم پر پانی بہاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25108]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، سمع شعبة من عطاء قبل اختلاطه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، سمع شعبة من عطاء قبل اختلاطه
حدیث نمبر: 25109 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِعَائِشَةَ : أَتَجْزِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا؟ قَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟" قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ رحمہ اللہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تم خارجی ہوگئی ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، 321، م: 335
الحكم: إسناده صحيح، 321، م: 335
حدیث نمبر: 25110 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ، فَقُلْتُ: أَلَا نُطْعِمُهُ الْمَسَاكِينَ؟ قَالَ: " لَا تُطْعِمُوهُمْ مِمَّا لَا تَأْكُلُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے گوہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا: میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم یہ مسکینوں کو نہ کھلا دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو چیز تم خود نہیں کھاتے وہ انہیں بھی مت کھلاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25110]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: لا تطعموهم مما لا تأكلون
الحكم: صحيح دون قوله: لا تطعموهم مما لا تأكلون
حدیث نمبر: 25111 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ . وَعَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ. قَالَ عَفَّانُ: وحَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَيَعْدِلُ. قَالَ عَفَّانُ وَيَقُولُ:" هَذِهِ قِسْمَتِي"، ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی باریاں مقرر فرما رکھی تھیں اور وہ ان کے درمیان انصاف سے کام لیتے اور فرماتے تھے اے اللہ! جتنا مجھے اختیار ہے اس کے اعتبار سے میں یہ کرلیتا ہوں، اب اس کے بعد جس چیز میں تجھے اختیار ہے اور مجھے کوئی اختیار نہیں، مجھے ملامت نہ کرنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25111]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، الطرف الاول منه صحيح والثاني مرسل، انظر الارواء، حديث: 2018
الحكم: رجاله ثقات، الطرف الاول منه صحيح والثاني مرسل، انظر الارواء، حديث: 2018
حدیث نمبر: 25112 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَوُادَ الْهَاشِمِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَوُادَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158؟ قَالَ: فَقُلْتُ: فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، قال: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ عَلَى مَا أَوَّلْتَهَا عليه، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، وَلَكِنَّهَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ، أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا تَحَرَّجَ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158. قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا، فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ جو فرمان ہے فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجے! یہ تم نے غلط بات کہی، اگر اس آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے تو پھر آیت اس طرح ہوتیفَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انصار کے لوگ " منات " کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشلل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص اس کا احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کا ثبوت اپنی سنت سے پیش کیا لہٰذا اب کسی کے لئے صفا مروہ کی سعی چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1643، م: 1277
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1643، م: 1277
حدیث نمبر: 25113 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي بُدِئَ فِيهِ، فَقُلْتُ: وَارَأْسَاهْ، فَقَالَ:" وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ، فَهَيَّأْتُكِ وَدَفَنْتُكِ". قَالَتْ: فَقُلْتُ غَيْرَى: كَأَنِّي بِكَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ عَرُوسًا بِبَعْضِ نِسَائِكَ. قَالَ: " وَأَنَا وَارَأْسَاهْ، ادْعُوا ِلَيَّ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ وَيَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد ہورہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ زندگی میں ہوجائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کرکے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے؟ آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہائے میرا سر اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے لئے ایک تحریر لکھ دوں، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی کہنے والا کہے گا اور کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا کہ خلافت کا زیادہ مستحق میں ہوں اور اللہ اور تمام مسلمان ابوبکر کے علاوہ کسی کو نہیں مانیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5666، م: 2387
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5666، م: 2387
حدیث نمبر: 25114 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَبْرَأَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے اور تیسرے مجنوں یہاں تک کہ اپنے ہوش وحو اس میں آجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25114]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 25115 مسند احمد
يَزِيدُ ، صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، إِسْمَاعِيلَ ، أَبِي خَلَفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي خَلَفٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا أَوْ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا سورة المؤمنون آية 60؟ فَقَالَتْ:" أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ؟" فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأَحَدُهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، قَالَتْ:" أَيَّتُهُمَا؟"، قَالَ: الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا، فَقَالَتْ: " أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، وَكَذَاكَ أُنْزِلَتْ وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حُرِّفَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو خلف کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اس وقت میں آپ کے پاس ایک آیت کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تلاوت کس طرح فرماتے تھے؟ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا۔ یا اس طرح ہے يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں ان دونوں قرائتوں میں سے کون سی قرأت پسند ہے؟ عبید نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ایک قرأت تو مجھے تمام دنیاو مافیہا سے زیادہ پسند ہے، انہوں نے پوچھا وہ کون سی؟ عبید نے عرض کیا الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا۔ انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن ہجے کرنے میں دونوں ایک ہی حرف ہیں (دونوں کا مادہ ایک ہی ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25115]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى خلف
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى خلف
حدیث نمبر: 25116 مسند احمد
عَفَّانُ ، صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، أَبُو خَلَفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25116]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف وهو مكرر سابقه
الحكم: إسناده ضعيف وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 25117 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" جُعِلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةٌ سَوْدَاءُ مِنْ صُوفٍ، فَذَكَرَ بَيَاضَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَادَهَا، فَلَمَّا عَرِقَ، وَجَدَ مِنْهَا رِيحَ الصُّوفِ، فَقَذَفَهَا". قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَدْ قَالَتْ: كَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رنگت کے اجلاپن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25118 مسند احمد
يَزِيدُ ، جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَفَّانُ ، جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ الْعَدَوِيُّ ، مُعَاذَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيَّةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى، وهذا لفظ حديث يزيد لم يختلفوا في الإسناد والمعنى قَالَا: أخبرنا جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا مُعَاذَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيَّةُ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ:" غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ، الْمُقِيمُ بِهَا كَالشَّهِيدِ، وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت نیزہ بازی اور طاعون سے ہی ہلاک ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نیزہ بازی کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، یہ طاعون سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایک گلٹی ہوتی ہے جو اونٹ کی گلٹی کے مشابہ ہوتی ہے، اس میں ثابت قدم رہنے والا شہید کی طرح ہوگا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25118]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد