بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 21 از 67
حدیث نمبر: 24859 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيٌّ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيٌّ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، قالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا، خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ كَانَتْ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے، جس کا نام نکل آتا اسے اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے تھے اور ہر زوجہ مطہرہ کو دن اور رات میں اس کی باری دیتے تھے، البتہ حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری کا دن اور رات حضرت عائشہ کو ہبہ کردی تھی اور مقصد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24859]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2593، م: 2270 مطولا
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2593، م: 2270 مطولا
حدیث نمبر: 24860 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، وَمَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ وَمَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا سَكَتَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ" ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب مؤذن اذانِ فجر سے خاموش ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو مختصر رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 994، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 994، م: 736
حدیث نمبر: 24861 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، كَرِيمَةُ ابْنَةُ هَمَّامٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْزَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي كَرِيمَةُ ابْنَةُ هَمَّامٍ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَأَخْلَوْهُ لِعَائِشَةَ ، فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ: مَا تَقُولِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحِنَّاءِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ لَوْنُهُ، وَيَكْرَهُ رِيحَهُ، وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ عَلَيْكُنَّ بَيْنَ كُلِّ حَيْضَتَيْنِ أَوْ عِنْدَ كُلِّ حَيْضَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عائشہ کے لئے ایک الگ جگہ بنا رکھی ہے، ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ اے ام المومنین! مہندی کے متعلق آپ کیا کہتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا رنگ اچھا لگتا تھا لیکن مہک اچھی نہیں لگتی تھی، البتہ تم پر دو ماہواریوں کے درمیان اسے حرام نہیں کیا گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24861]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل كريمة بنت همام، فإنها مستورة
الحكم: إسناده ضعيف لأجل كريمة بنت همام، فإنها مستورة
حدیث نمبر: 24862 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، أَنَّ أُمَّهُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 297
حدیث نمبر: 24863 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ , وَمَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ، فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي قَدْ كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر آئے اور سیدھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بڑھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک ایک یمنی دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے چادر ہٹائی اور جھک کر بوسہ دیا اور رونے لگے، پھر فرمایا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کرے گا اور جو موت آپ کے لئے لکھی گئی تھی، وہ آپ کو آگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24863]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1242، م: 301
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1242، م: 301
حدیث نمبر: 24864 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مُجَالِدٌ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ، أَثْنَى عَلَيْهَا، فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ، قَالَتْ: فَغِرْتُ يَوْمًا، فَقُلْتُ: مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا، قَالَ: " مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا، قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت خدیجہ کا تذکرہ جب بھی کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے فرمایا اللہ نے مجھے اس کے بدلے میں اس سے بہتر کوئی بیوی نہیں دی، وہ مجھ سے اس وقت ایمان لائی جب لوگ کفر کررہے تھے، میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ میری تکذیب کررہے تھے اپنے مال سے میری ہمدردی اس وقت کی جب کہ لوگوں نے مجھے اس سے دور رکھا اور اللہ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جب کہ میری دوسری بیویوں سے میرے یہاں اولاد نہ ہوئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24864]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، لأن مجالد بن سعيد ليس بالقوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، لأن مجالد بن سعيد ليس بالقوي
حدیث نمبر: 24865 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُسْمِعُنِي ذَلِكَ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ نے ایک مرتبہ عروہ سے فرمایا کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تعجب نہیں ہوتا؟ وہ آئے اور میرے حجرے کی جانب بیٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے حدیثیں بیان کرنے لگے اور میرے کانوں تک اس کی آواز آتی رہی، میں اس وقت نوافل پڑھ رہی تھی، وہ میرے نوافل ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے، اگر میں انہیں ان کی جگہ پر پالیتی تو انہیں بات پلٹا کر ضرور سمجھاتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24865]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3568، م: 2493
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3568، م: 2493
حدیث نمبر: 24866 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَاصِمٌ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، وَأَقُولُ دَعْ لِي، دَعْ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 361
الحكم: إسناده صحيح، م: 361
حدیث نمبر: 24867 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ بِمَكَّةَ، مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ، وَدَخَلَ بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد جب مجھ سے مکہ مکرمہ میں نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی اور مدینہ منورہ میں پھر میری رخصتی اس وقت ہوئی جب میں نو سال کی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24867]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3894، م: 1422
الحكم: حديث صحيح، خ: 3894، م: 1422
حدیث نمبر: 24868 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنْ كَانَ لَيُوحَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَتَضْرِبُ بِجِرَانِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی اور وہ اپنی سواری پر ہوتے تو وہ جانور اپنی گردن زمین پر ڈال دیتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24868]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24869 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ , قَالَ لَهَا: يَا بُنَيَّةُ، أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: " يَوْمَ الِاثْنَيْنِ"، قَالَ: فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ:" يَا أَبَتِ، كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ، جُدُدٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ، أُدْرِجَ فِيهَا إِدْرَاجًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پو چھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے پوچھا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے عرض کیا ابا جان! ہم نے انہیں یمن کی تین نئی سفید سحولی چادروں میں کفن دیا تھا، جس میں قمیض تھی اور نہ ہی عمامہ، بس انہیں اس میں لپیٹ دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24869]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 1387
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 1387
حدیث نمبر: 24870 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ تَعْظِيمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَمْرًا عَجِيبًا، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَأْخُذُهُ الْخَاصِرَةُ، فَيَشْتَدُّ بِهِ جِدًّا، فَكُنَّا نَقُولُ: أَخَذَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِرْقُ الْكِلْيَةِ لَا نَهْتَدِي أَنْ نَقُولَ: الْخَاصِرَةَ، ثُمَّ أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَاشْتَدَّتْ بِهِ جِدًّا حَتَّى أُغْمِيَ عَلَيْهِ، وَخِفْنَا عَلَيْهِ، وَفَزِعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَظَنَنَّا أَنَّ بِهِ ذَاتَ الْجَنْبِ، فَلَدَدْنَاهُ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَفَاقَ فَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ لُدَّ، وَوَجَدَ أَثَرَ اللَّدُودِ، فَقَالَ: " ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَلَّطَهَا عَلَيَّ، مَا كَانَ اللَّهُ يُسَلِّطُهَا عَلَيَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَبْقَى فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ، إِلَّا عَمِّي". فَرَأَيْتُهُمْ يَلُدُّونَهُمْ رَجُلًا رَجُلًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَمَنْ فِي الْبَيْتِ يَوْمَئِذٍ، فَتَذْكُرُ فَضْلَهُمْ، فَلُدَّ الرِّجَالُ أَجْمَعُونَ، وَبَلَغَ اللَّدُودُ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلُدِدْنَ امْرَأَةً امْرَأَةً، حَتَّى بَلَغَ اللَّدُودُ امْرَأَةً مِنَّا، قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: لَا أَعْلَمُهَا إِلَّا مَيْمُونَةَ، قَالَ: وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ أُمُّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: إِنِّي وَاللَّهِ صَائِمَةٌ، فَقُلْنَا: بِئْسَمَا ظَنَنْتِ أَنْ نَتْرُكَكِ، وَقَدْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَدَدْنَاهَا وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي، وَإِنَّهَا لَصَائِمَةٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا اے بھانجے! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے چچا کی تعظیم کرتے ہوئے، اس دوران ایک تعجب خیز چیز دیکھی ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوکھ میں درد ہوتا اور بہت شدید ہوجاتا، ہم سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عرق النساء کی شکایت ہے، ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اس عارضے کو " خاصرہ " کہتے ہیں، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ درد شروع ہوا اور اتنا شدید ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بےہوشی طاری ہوگئی، ہمیں اندیشے ستانے لگے، لوگ بھی خوفزدہ ہوگئے اور ہمارے خیال کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو " ذات الجنب " کی شکایت تھی، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ میں دوا ٹپکا دی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوئی اور طبیعت کچھ سنبھلی تو آپ کو اندازہ ہوگیا کہ ان کے منہ میں دوا ٹپکائی گئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا اثر محسوس کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر اس بیماری کو مسلط کیا ہے، حالا ن کہ اللہ اسے مجھ پر کبھی بھی مسلط نہیں کرے گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، گھر میں میرے چچا کے علاوہ کوئی آدمی ایسا نہ رہے جس کے منہ میں دوا نہ ڈالی جائے، چنانچہ میں نے دیکھا کہ ان سب کے منہ میں ایک ایک مرد کو لے کر دواڈالی گئی، پھر حضرت عائشہ نے اس موقع پر گھر میں موجود افراد کی فضیلت کا ذکر کیا اور فرمایا جب تمام مردوں کے منہ میں دوا ڈالی جا چکی اور ازواج مطہرات کی باری آئی تو ایک ایک عورت کے منہ میں دوا ڈالی گئی، فرمایا تم کیا سمجھتی ہو کہ ہم تمہیں چھوڑ دیں گے؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں قسم دلائی اور ہم نے ان کے منہ میں بھی دوا ڈال دی جبکہ اے بھانجے! واللہ وہ روزے سے تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24870]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لأجل عبدالرحمن
الحكم: إسناده حسن لأجل عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24871 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْجَمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال کانوں کی لو سے کچھ زیادہ اور بڑے بالوں سے کم تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24871]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24872 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَيَشْرَبَ، قَالَتْ: يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو کر کھاتے پیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24872]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24873 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، وَعُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف، ولكن متابع
الحكم: حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف، ولكن متابع
حدیث نمبر: 24874 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، يُونُسُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَمَّنْ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ غَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَكَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو کر کھاتے پیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24874]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، راجع: 26872
الحكم: حديث صحيح، راجع: 26872
حدیث نمبر: 24875 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ نَاسًا يَقْرَأُ أَحَدُهُمْ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَتْ: أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقُومُ اللَّيْلَةَ التَّمَامَ، فَيَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، وَسُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ لَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَرَغِبَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَاسْتَعَاذَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ کے سامنے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایک ہی رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن پڑھ لیتے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف سورت بقرہ، آل عمران اور سورة نساء پڑھ پاتے تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسی جس آیت پر گذرتے جس میں خوف دلایا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور دعاء فرماتے اور خوشخبری کے مضمون پر مشتمل جس آیت سے گذرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور اس کی طرف اپنی رغبت کا اظہار فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24875]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن مخراق
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن مخراق
حدیث نمبر: 24876 مسند احمد
يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَهْدَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ فَأَهْدَى، فَلَا يَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ" . قَالَتْ عَائِشَةُ وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ لوگوں نے عمرے کا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر گئے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور وہ ہدی کا جانور نہیں لایا، وہ تو حلال ہوجائے اور جو لایا ہے وہ حلال نہ ہو اور جس شخص نے حج کا احرام باندھا ہو، وہ اپنا حج مکمل کرے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں سے تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24876]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 319، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 319، م: 1211
حدیث نمبر: 24877 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24877]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1036
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1036
حدیث نمبر: 24878 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، لَا أُرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کرتے اور دو رکعتیں پڑھ لیتے، غالباً وہ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24878]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه دون قولها: ويصلي الركعتين تفرد بها زهير، وقد سمع من أبى إسحاق بعد اختلاطه
الحكم: حديث حسن بطرقه دون قولها: ويصلي الركعتين تفرد بها زهير، وقد سمع من أبى إسحاق بعد اختلاطه