بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 13 از 67
حدیث نمبر: 24699 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُطَرِّفٌ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَظَلُّ صَائِمًا، ثُمَّ يُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہوتے اور افطار کرنے تک جب چاہتے مجھے بو سہ دے دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24700 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَوَضَّأُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَيَتَتَبَّعُ أُصُولَ شَعَرِهِ، فَإِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ كُلَّهَا، أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَغْتَسِلُ" ، وقَالَ عُرْوَةُ: غَيْرَ أَنَّهُ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَهُ، ثُمَّ فَرْجَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے اور جب یقین ہوجاتا کہ کھال تک ہاتھ پہنچ گیا ہے، تو تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 248، م: 316
الحكم: إسناده صحيح، خ: 248، م: 316
حدیث نمبر: 24701 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيَبِيتُ جُنُبًا، فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ، وَشَعَرِهِ، فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا" قَالَ مُطَرِّفٌ: قُلْتُ لِعَامِرٍ: فِي رَمَضَانَ؟ قَالَ: سَوَاءٌ عَلَيْكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات رات کے وقت اختیاری طور پر جنبی ہوتے، حضرت بلال نماز فجر کی اطلاع دینے آتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھ کر غسل فرماتے اور میں دیکھتی تھی کہ پانی ان کی کھال اور بالوں سے ٹک رہا ہے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24701]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24702 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: رَأَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَغْسِلُ أَثَرَ جَنَابَةٍ أَصَابَتْ ثَوْبِي، فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ قُلْتُ: جَنَابَةٌ أَصَابَتْ ثَوْبِي، فَقَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّهُ يُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِهِ هَكَذَا: وَوَصَفَهُ مَهْدِيٌّ: حَكَّ يَدَهُ عَلَى الْأُخْرَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہ نے مجھے جنابت کے نشانات دھوتے ہوئے دیکھا جو میرے کپڑوں پر لگ گئے تھے، انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے کپڑوں پر جنابت کے نشان لگ گئے تھے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں پر یہ نشان لگ جاتے تو وہ اس طرح کردیتے تھے، اس سے زیادہ نہیں، راوی نے رگڑتے ہوئے دکھا یا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24702]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 288
الحكم: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 24703 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، وَرَوْحٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، وَرَوْحٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ" قَالَ عَفَّانُ:" وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ". وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ:" وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ"، وَقَالَ رَوْحٌ:" وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور تیسرے مجنون یہاں تک کہ اپنے ہوش و حو اس میں آجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24703]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 24704 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ، فَقَالَ: " لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ"، فَقَالَتْ النِّسَاءُ: ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ، فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس میں مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابوقحافہ کی بیٹی لے گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24704]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 24705 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، كَانَ جُنُبًا فَاغْتَسَلَ، وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24705]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24706 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ، قَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ، قَالَتْ: وَثَبَ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ: قَامَ، فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ: اغْتَسَلَ، وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا تُرِيدُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا، تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24706]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1146، م: 739
الحكم: حديث صحيح، خ: 1146، م: 739
حدیث نمبر: 24707 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ حَتَّى بَعْدَ ثَلَاثٍ؟ قَالَتْ: " لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُنَّ إِلَّا قَلِيلٌ، فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحِّ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُخَبِّئُ الْكُرَاعَ مِنْ أَضَاحِيِّنَا، ثُمَّ نَأْكُلُهَا بَعْدَ عَشْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کو بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24707]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، زهير سمع من أبى إسحاق بعد اختلاطه، ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، زهير سمع من أبى إسحاق بعد اختلاطه، ولكن توبع
حدیث نمبر: 24708 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ ، وَكَانَ لِي أَخًا أَوْ صَدِيقًا، فقلت أبا عمرو، حَدِّثْنِي مَا حَدَّثَتْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَالَتْ: " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ، فَرُبَّمَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ، ثُمَّ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ وَثَبَ، وَمَا قَالَتْ: قَامَ، فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَمَا قَالَتْ: اغْتَسَلَ، وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا، تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24708]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: قبل أن يمس ماء، خ: 1146، م: 739
الحكم: حديث صحيح دون قوله: قبل أن يمس ماء، خ: 1146، م: 739
حدیث نمبر: 24709 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، ابْنُ الزُّبَيْرِ ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ : حَدِّثْنِي بَعْضَ مَا كَانَتْ تُسِرُّ إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَرُبَّ شَيْءٍ كَانَتْ تُحَدِّثُكَ بِهِ تَكْتُمُهُ النَّاسَ. قَالَ: قُلْتُ: لَقَدْ حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا حَفِظْتُ أَوَّلَهُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ، أَوْ قَالَ:" بِكُفْرٍ"، قَالَ: يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ:" لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ فِي الْأَرْضِ، بَابًا يُدْخَلُ مِنْهُ، وَبَابًا يُخْرَجُ مِنْهُ" قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَأَنَا رَأَيْتُهَا كَذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن زبیر نے فرمایا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سناؤ، جو ام المومنین حضرت عائشہ نے صرف تم سے ہی بیان کی ہو کیونکہ وہ بہت سی چیزیں صرف تم سے بیان کرتی تھیں اور عام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا کہ انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی تھی جس کا پہلا حصہ مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔ (یہاں تک پہنچ کر اسود رک گئے) آگے حضرت ابن زبیر نے اسے مکمل کردیا کہ میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24709]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1584، م: 1333
الحكم: حديث صحيح، خ: 1584، م: 1333
حدیث نمبر: 24710 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے، یہاں تک کہ حاجی واپس آجاتے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24710]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5566، م: 1321
الحكم: حديث صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 24711 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى
حَدَّثَنَا بِهِ حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: وَمَا يَدَعُ حَاجَةً إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى امْرَأَةٍ، حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ.
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 24712 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ، مِنْ خَالٍ، أَوْ عَمٍّ، أَوْ ابْنِ أَخٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں مثلاً ماموں، چچا، بھتیجا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24712]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح، إن ثبت سماع محمد بن عبدالرحمن من عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح، إن ثبت سماع محمد بن عبدالرحمن من عائشة
حدیث نمبر: 24713 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَتْ فُلَانَةُ وَاسْتَرَاحَتْ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! فلاں عورت فوت ہوگئی اور اسے راحت نصیب ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناراضگی سے فرمایا اصل راحت تو اسے ملتی ہے جس کی بخشش ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24713]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، قد تفرد برفعه ، ومرسله هو الصحيح
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، قد تفرد برفعه ، ومرسله هو الصحيح
حدیث نمبر: 24714 مسند احمد
سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ، غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ يَأْكُلُ، أَوْ يَشْرَبُ، إِنْ شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے اور جب کھانا پینا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھوکر کھاتے پیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24714]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف، ولكن توبع، أنظر: 24872
الحكم: حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف، ولكن توبع، أنظر: 24872
حدیث نمبر: 24715 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً، وَكَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَائِمًا، فَلَمَّا كَبُرَ وَثَقُلَ، كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، وَكَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ، حَتَّى يُرِيدَ أَنْ يُوتِرَ، فَيَغْمِزُنِي، فَأَقُومُ، فَيُوتِرُ ثُمَّ يَضْطَجِعُ، حَتَّى يَسْمَعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يُلْصِقُ جَنْبَهُ بِالْأَرْضَ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور اکثر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی اور جسم بھاری ہوگیا تو اکثر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں اسی بستر پر ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آرام فرماتے تھے اور جب وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں بھی کھڑی ہو کر وتر پڑھ لیتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ جا تے، جب اذان کی آواز سن لیتے تو اٹھ کردو رکعتیں ہلکی سی پڑھتے پھر اپنے پہلو کو زمین پر لگا دیتے اور اس کے بعد نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24715]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن الهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن الهيعة
حدیث نمبر: 24716 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدٌ فَيُغْفَرَ لَهُ، يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ، وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَيَوْمَئِذٍ لا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلا جَانٌّ سورة الرحمن آية 39 يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ سورة الرحمن آية 41" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن کسی شخص کا حساب نہیں کیا جائے گا کہ اسے بخش دیا جائے، مسلمان تو اپنے اعمال کا انجام اپنی قبر میں ہی دیکھ لیتا ہے، ارشاد ربانی ہے " اس دن کسی کے گناہ سے متعلق کسی انسان یا جن سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی "۔۔۔۔ اور " مجرم اپنی علامات سے پہچان لئے جائیں گے۔ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24716]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لأجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 24717 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24717]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبن لهيعة توبع
الحكم: حديث صحيح، أبن لهيعة توبع
حدیث نمبر: 24718 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بُكَيْرٌ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَعَلْتُ عَلَى بَابِ بَيْتِي سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ،" فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ، نَظَرَ إِلَيْهِ، فَهَتَكَهُ" , قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ، فَقَطَعْتُ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ،" فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کردیئے، جس کے میں نے دو تکیے بنا لئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان پر ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24718]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة ، ولانقطاعه بين بكير والقاسم، خ: 2479، م: 2107
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة ، ولانقطاعه بين بكير والقاسم، خ: 2479، م: 2107