بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 7 از 67
حدیث نمبر: 24579 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ، يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ، يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ". فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24579]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 24580 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ , أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ: عَمَّا مَسَّتْ النَّارُ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24580]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 353
الحكم: إسناده صحيح، م: 353
حدیث نمبر: 24581 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حِينَ تُوُفِّيَ، سُجِّيَ بِثَوْبٍ حِبَرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
حدیث نمبر: 24582 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ وَهِيَ تَقُولُ لِي: أَشَعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، فَارْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّمَا تُفْتَنُ الْيَهُودُ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ " يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ یہ کہہ رہی تھی کیا تمہیں معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کی ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کی مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24582]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24583 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَحِيحٌ، يَقُولُ: " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يَحْيَا"، فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخْذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر میری ران پر تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی، جب اس سے افاقہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہیں چھت کی طرف اٹھ گئیں اور فرمایا اے اللہ! رفیق اعلیٰ سے ملا دے، میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4437، م: 2444
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4437، م: 2444
حدیث نمبر: 24584 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الصِّيَامِ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ، وَكَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمِ الْخَمِيسِ وَالِاثْنَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24584]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل بقية ، فإنه يدلس تدليس التسوية
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل بقية ، فإنه يدلس تدليس التسوية
حدیث نمبر: 24585 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، أَبِي زِيَادٍ خِيَارِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ خِيَارِ بْنِ سَلَمَةَ , أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الْبَصَلِ؟ فَقَالَتْ:" إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ فِيهِ بَصَلٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوزیاد خیار ابن سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لہسن کھانے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری کھانا جو کھایا تھا اس میں لہسن شامل تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24585]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي
الحكم: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي
حدیث نمبر: 24586 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح مسلسل روزے رکھنے سے منع فرماتے تھے کہ درمیان میں روزہ افطار ہی نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24586]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1964، م: 1105
الحكم: حديث صحيح، خ: 1964، م: 1105
حدیث نمبر: 24587 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ عَلَيْهِمْ السَّلَام، يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً، رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کے فرشتے صفوں کو ملا کر رکھنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں اور جو شخص صفوں کا درمیانی خلاء پر کردے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24587]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل إسماعيل بن عياش
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل إسماعيل بن عياش
حدیث نمبر: 24588 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ ، الزُّبَيْدِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا"، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ؟! قَالَ:" لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں جمع کئے جاؤ گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مرد و عورت ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس دن ہر آدمی کی ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بےنیاز کردے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24588]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24589 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، نَافِعٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ , قَالَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24590 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ , قَالَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! خوب موسلادھار اور خو شگوار بنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24590]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24591 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَيُثِيبُ عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اپنی طرف سے اس کا تبادلہ بھی فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2585
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2585
حدیث نمبر: 24592 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى، فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى، وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ، فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ، وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ لَا يَقِفُ عِنْدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آخری دن ظہر کی نماز پڑھ کر واپس منیٰ کی طرف روانہ ہوتے اور ایام تشریق وہیں گذارے، زوال شمس کے بعد جمرات کی رمی فرماتے تھے، ہر جمرے کو سات کنکریاں مارتے تھے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے تھے اور جمرہ اولیٰ اور جمرہ ثانیہ کی رمی کر کے رک جاتے تھے اور کافی دیر کھڑے رہ کر دعائیں کرتے تھے، لیکن تیسرے جمرے کی رمی کے بعد نہیں رکتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24592]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 24593 مسند احمد
سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَتَى إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ، فَلْيُكَافِئْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَلْيَذْكُرْهُ، فَمَنْ ذَكَرَهُ، فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ تَشَبَّعَ بِمَا لَمْ يَنَلْ، فَهُوَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی سے کوئی احسان کیا ہو تو اسے اس کا بدلہ اتارنا چاہیے اور جو شخص ایسا نہ کرسکے وہ اس کا اچھے انداز میں ذکر ہی کر دے کیونکہ اچھے انداز میں ذکر کرنا بھی شکر یہ ادا کرنے کا طرح ہے اور جو شخص ایسی چیز سے اپنے آپ کو سیراب ظاہر کرتا ہو جو اسے حاصل نہ ہو تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24593]
حکم دارالسلام
قوله : من تشيع ... صحيح، وبقية الحديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبى الأخضر
الحكم: قوله : من تشيع ... صحيح، وبقية الحديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبى الأخضر
حدیث نمبر: 24594 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ " إِذَا دَهَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَدَعْتُ فَرْقَةً مِنْ فَوْقِ يَافُوخِهِ، وَأَرْسَلْتُ لَهُ نَاصِيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر تیل لگاتی تھی تو مانگ سر کے اوپر سے نکالتی تھی اور پیشانی کو چھوڑ دیتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24594]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فيه
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فيه
حدیث نمبر: 24595 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پالیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24595]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره
الحكم: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 24596 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا عَائِشَةُ، قَوْمُكِ أَسْرَعُ أُمَّتِي بِي لَحَاقًا". قَالَتْ: فَلَمَّا جَلَسَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُولُ كَلَامًا ذَعَرَنِي. فَقَالَ:" وَمَا هُوَ؟" قَالَتْ: تَزْعُمُ أَنَّ قَوْمِي أَسْرَعُ أُمَّتِكَ بِكَ لَحَاقًا. قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَتْ: وَعَمَّ ذَاكَ؟ قَالَ:" تَسْتَحْلِيهِمْ الْمَنَايَا، فَتَنَفَّسُ عَلَيْهِمْ أُمَّتُهُمْ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَكَيْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَوْ عِنْدَ ذَلِكَ. قَالَ:" دَبًى يَأْكُلُ شِدَادُهُ ضِعَافَهُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِمْ السَّاعَةُ" وَالدَّبَى الْجَنَادِبُ الَّتِي لَمْ تَنْبُتْ أَجْنِحَتُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ! لوگوں میں سب سے پہلے ہلاک ہونے والے تمہاری قوم کے لوگ ہوں گے، میں نے عرض کیا اللہ مجھے آپ پر فداء کرے کیا بنوتیم کے لوگ مراد ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ قریش کا یہ قبیلہ، ان کے سامنے خواہشات مزین ہوجائیں گی اور لوگ ان سے پیچھے ہٹ جائیں گے اور یہی سب سے پہلے ہلاک ہونے والے ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ان کے بعد لوگوں کی بقاء کیا رہ جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ایک بیماری ہوگی جس میں مضبوط لوگ کمزوروں کو کھا جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24596]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 24597 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ! قَالَتْ: وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَلِكَ،" لَمَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کہ اے ام المومنین! اس دفعہ تو چاند ٢٩ ویں تاریخ کو ہی نظر آگیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ٣٠ سے زیادہ ٢٩ کے روزے رکھے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24597]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24598 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ" قَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ هِشَامٍ شَيْئًا إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح