بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24583
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24583
حدیث نمبر: 24583 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَحِيحٌ، يَقُولُ: " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يَحْيَا"، فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخْذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهُوَ صَحِيحٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر میری ران پر تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی، جب اس سے افاقہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہیں چھت کی طرف اٹھ گئیں اور فرمایا اے اللہ! رفیق اعلیٰ سے ملا دے، میں سمجھ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تندرستی کی حالت میں فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4437، م: 2444
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4437، م: 2444
← پچھلی حدیث (24582) باب پر واپس اگلی حدیث (24584) →