بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 64 از 67
حدیث نمبر: 25719 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ الْبَيْتَ لَيْلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت اللہ کی زیارت کے لئے رات کے وقت تشریف لے گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25719]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، راجع: 2611
الحكم: إسناده ضعيف، راجع: 2611
حدیث نمبر: 25720 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَيْسَ نُزُولُ الْمُحَصَّبِ بِالسُّنَّةِ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25720]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
حدیث نمبر: 25721 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، وَأَفْلَحُ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ صَفِيَّةَ، فَقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ، قَالَ:" فَلَا إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25721]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1757، م: 1211
الحكم: حديث صحيح، خ: 1757، م: 1211
حدیث نمبر: 25722 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَفْلَحُ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو ہماری نیت صرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25722]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1788، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1788، م: 1211
حدیث نمبر: 25723 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5918، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5918، م: 1190
حدیث نمبر: 25724 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَفْلَحُ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1754، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1754، م: 1189
حدیث نمبر: 25725 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25725]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5928، م: 1189
الحكم: حديث صحيح، خ: 5928، م: 1189
حدیث نمبر: 25726 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الْقَاسِمُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ تَعْنِي بَرِيرَةَ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہوتا ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25726]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2578، م: 1504
الحكم: حديث صحيح، خ: 2578، م: 1504
حدیث نمبر: 25727 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں جہنم کے فتنے سے اور عذاب جہنم سے، قبر کے فتنے سے اور عذاب قبر سے مالداری کے فتنے اور تنگدستی کے فتنے کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے، میرے گناہوں کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ پیدا فرما دے، اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، گناھوں اور تاوان سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25727]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6375، م: 589
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6375، م: 589
حدیث نمبر: 25728 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25728]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2684
الحكم: إسناده صحيح، م: 2684
حدیث نمبر: 25729 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ ضِجَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کجھور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25729]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6456، م: 2082
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6456، م: 2082
حدیث نمبر: 25730 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ رَجُلًا يَسْرُدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: " أَنْتَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزے رکھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25730]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1943، م: 1121
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1943، م: 1121
حدیث نمبر: 25731 مسند احمد
وَكِيعٌ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، طَلْحَةَ ، عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ الْمَعْنَى، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟" قُلْنَا: لَا، قَالَ:" فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ"، ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَأَخْبَأْنَا لَكَ مِنْهُ، فَقَالَ: " أَدْنِيهِ، فَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا" فَأَكَلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے اور روزے سے ہوتے، پھر پوچھتے کہ آج صبح کے اس وقت تمہارے پاس کچھ ہے جو تم مجھے کھلا سکو؟ وہ جواب دیتیں کہ نہیں، آج ہمارے پاس صبح کے اس وقت کچھ نہیں ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ پھر میں روزے سے ہی ہوں اور کبھی آتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہہ دیتیں کہ ہمارے پاس سے کہیں سے ہدیہ آیا ہے جو ہم نے اپ کے لئے رکھا ہوا ہے اور حیس (ایک قسم کا حلوہ) ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے صبح تو روزے کی نیت کی تھی، پھر اسے تناول فرما لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25731]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1154
الحكم: إسناده صحيح، م: 1154
حدیث نمبر: 25732 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ" ، ثُمَّ ضَحِكَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ایک بیوی کو روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے پھر وہ ہنسنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25732]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1928، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 25733 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، فَإِنْ نَسِيَ فِي أَوَّلِهِ، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لیا کرے بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25733]
حکم دارالسلام
حديث حسن بشواهده وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم كلثوم
الحكم: حديث حسن بشواهده وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم كلثوم
حدیث نمبر: 25734 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَتْ لَهُ خَمِيصَةٌ مُعَلَّمَةٌ، وَكَانَ يَعْرِضُ لَهُ عَلَمُهَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ، وَأَخَذَ كِسَاءً لَهُ أَنْبِجَانِيًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کے نقش و نگار نے اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ چادر ابوجہم کو دے دی اور ان کی سادہ چادر لے لی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25734]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 373، م: 556
الحكم: إسناده صحيح، خ: 373، م: 556
حدیث نمبر: 25735 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّهَا كَانَتْ تُرَجِّلُ شَعَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 295، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 295، م: 297
حدیث نمبر: 25736 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُهَا، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بھیج دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25736]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1321
حدیث نمبر: 25737 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى مَرَّةً غَنَمًا مُقَلَّدَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بکری کو بھی ہدی کے جانور کے طور پر بیت اللہ کی طرف روانہ کیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25737]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1703
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1703
حدیث نمبر: 25738 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25738]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح