بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 60 از 67
حدیث نمبر: 25639 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ" . قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا، فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا طلوع و غروب کے وقت کا اہتمام کر کے اس میں نماز نہ پڑھا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 833
الحكم: إسناده صحيح، م: 833
حدیث نمبر: 25640 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ، فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ يَسْتَنُّ بِهِ، فَثَقُلَتْ يَدُهُ وَثَقُلَ عَلَيَّ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى، اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى"، مَرَّتَيْنِ، قَالَتْ: ثُمَّ قُبِضَ. تَقُولُ عَائِشَةُ: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دنیا سے رخصتی میرے گھر میں میری باری کے دن، میرے سینے اور حلق کے درمیان ہوئی، اس دن عبدالرحمن بن ابی بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنی عمدگی کے ساتھ مسواک فرمائی کہ اس سے پہلے میں نے اس طرح مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہاتھ اوپر کر کے وہ مجھے دینے لگے تو وہ مسواک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ سے گرگئی اور فرمایا " اللہم الرفیق الاعلیٰ " اور اس دم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح مبارک پرواز کرگئی، بہر حال! اللہ کا شکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے آخری دن میرے اور ان کے لعاب کو جمع فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ، 1389، م: 2443
الحكم: إسناده صحيح، خ، 1389، م: 2443
حدیث نمبر: 25641 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَالْأَنْصَارِيُّ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، وَالْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَالْأَنْصَارِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ" . وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر " ذریرہ " خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طواف زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5930، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5930، م: 1189
حدیث نمبر: 25642 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ:" لَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ، وَيُقِيمُ فَمَا يَتَّقِي مِنْ شَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1698، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1698، م: 321
حدیث نمبر: 25643 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، نَافِعًا ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْتُلُوا الْوَزَغَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام النَّارَ" . قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقْتُلُهُنَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھپکلی کو مار دیا کرو، کیونکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر " اسے بھڑکانے کے لئے " پھونکیں مار رہی تھی، اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے مار دیا کرتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25643]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن عبدالرحمن لم يعرف حاله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن عبدالرحمن لم يعرف حاله
حدیث نمبر: 25644 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" فَهُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبد زمعہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2218، م: 1457
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2218، م: 1457
حدیث نمبر: 25645 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمَيِّتِ مَيْتًا كَمِثْلِ كَسْرِهِ حَيًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25645]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 25646 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25646]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 286، م: 305
الحكم: إسناده صحيح، خ: 286، م: 305
حدیث نمبر: 25647 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ" ، قُلْتُ: أَبَيْنَهُمَا جُدُرُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَتْ:" لَا فِي الْبَيْتِ إِلَى جُدُرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 25648 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ كَلِمَاتٍ، كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ جِدًّا يَقُولُ: " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ" . قَالَ: كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ، وَيَذْكُرُهُنَّ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن طاؤس کہتے ہیں کہ ان کے والد نماز عشاء کے دوسرے تشہد میں چند کلمات کہا کرتے تھے اور انہیں بہت اہمیت دیتے تھے اور وہ کلمات یہ تھے " میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، مسیح دجال کے شر سے " عذاب قبر سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں "۔ اور وہ ان کلمات کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25648]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون تقييده بالعشاء الآخرة
الحكم: حديث صحيح دون تقييده بالعشاء الآخرة
حدیث نمبر: 25649 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ سَالِمًا لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، مَعَنَا فِي بَيْتِنَا، وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَعَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ قَالَ: " أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ" . قَالَ: فَمَكَثْتُ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا لَا أُحَدِّثُ بِهِ رَهْبَةً، ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ، فَقُلْتُ: لَقَدْ حَدَّثَتنِي حَدِيثًا مَا حَدَّثْتُهُ بَعْدُ. قَالَ: مَا هُوَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: فَحَدَّثَهُ عَنِّي، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْنِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں اپنے یہاں سالم کے آنے جانے سے (اپنے شوہر) حذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھتی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے دودھ پلاؤ، تم اس پر حرام ہو جاؤگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25649]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1453
الحكم: إسناده صحيح، م: 1453
حدیث نمبر: 25650 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ تَبَنَّى سَالِمًا وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ، وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5 فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ، فَمَوْلًى وَأَخٌ فِي الدِّينِ، فَجَاءَتْ سَهْلَةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ وَيَرَانِي فُضُلًا، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ؟ فَقَالَ: " أَرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتٍ" . فَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے سالم کو " جو ایک انصاری خاتون کے آزاد کردہ غلام تھے " اپنا منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنا لیا تھا، زمانہ جاہلیت میں لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے اور اسے وراثت کا حق دار بھی قرار دیتے تھے، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی انہیں ان کے اباؤ و اجداد کی طرف منسوب کر کے بلایا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی ہے اگر تمہیں ان کے باپ کا نام معلوم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور آزاد کردہ غلام ہیں۔ اس کے بعد لوگ انہیں ان کے باپ کے نام سے پکارنے لگے جس کے باپ کا نام معلوم نہ ہوتا وہ دینی بھائی اور موالی میں شمار ہوتا، اسی پس منظر میں ایک دن حضرت سہلہ رضی اللہ عنہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کردیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے پانچ گھونٹ اپنا دودھ پلاؤ چنانچہ اس کے بعد سالم رضی اللہ عنہ ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25650]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5088، م: 1453
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5088، م: 1453
حدیث نمبر: 25651 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ . وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَبُو الْجَعْدِ قَالَ: رَوْحٌ: أَبُو الْجُعَيْدِ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ، قَالَ لَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: فَرَدَدْتُهُ، فَقَالَ لِي هِشَامٌ: إِنَّمَا هُوَ أَبُو الْقُعَيْسِ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ، قَالَ: " فَهَلَّا أَذِنْتِ لَهُ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ، أَوْيَدُكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے رضاعی چچا ابوالجعد (یا ابوالجعید یا ابوالقعیس) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25651]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4796، م: 1445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4796، م: 1445
حدیث نمبر: 25652 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عَائِشَةَ ، عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَزَعَمَ عَطَاءٌ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ مَا شَاءَ" . قُلْتُ: عَمَّنْ تَأْثُرُ هَذَا؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے اس وقت تک رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ عورتیں ان کے لئے حلال نہ کردی گئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25652]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف لاختلاف فى السند
الحكم: حديث ضعيف لاختلاف فى السند
حدیث نمبر: 25653 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25653]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 25654 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَارَةَ ، عَمَّةٍ لَهُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری اولاد تمہاری سب سے پاکیزہ کمائی ہے لہذا تم اپنی اولاد کی کمائی کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25654]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 25655 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْفِرَاشِ، فَالْتَمَسْتُهُ، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات میں سخت خوفزدہ ہوگئی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نے ہاتھ بڑھا کر محسوس کرنے کی کوشش کی تو میرے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدموں سے ٹکرا گئے جو کھڑے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے اور یہ دعا فرما رہے تھے کہ اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25655]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 486
الحكم: إسناده صحيح، م: 486
حدیث نمبر: 25656 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ وَدَخَلَ فِي عُمْرَةٍ مِنْ كُدًى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں بالائی حصے سے داخل ہوئے تھے اور عمرے میں نشیبی حصے سے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25656]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4291، م: 1258
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4291، م: 1258
حدیث نمبر: 25657 مسند احمد
حَمَّادٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" إِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، فَتَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بعض اوقات سردی کی صبح میں وحی نازل ہوتی تھی اور ان کی پیشانی پسینے سے تر ہوجاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25657]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2333
الحكم: إسناده صحيح، م: 2333
حدیث نمبر: 25658 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ، ثُمَّ يُهْدِي فِي خَلَائِلِهَا مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مجھے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ پر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مجھ سے نکاح فرمانے سے تین سال قبل ہی وہ فوت ہوگئی تھیں اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کا بکثرت ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کے رب نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو جنت میں لکڑی کے ایک عظیم الشان مکان کی خوشخبری دے دیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات کوئی بکری ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی سہلیوں کے پاس ہدیہ میں بھیجتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25658]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6004، م: 2435
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6004، م: 2435