بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 51 از 67
حدیث نمبر: 25459 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، ذَكْوَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ . قَالَ: عَفَّانُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25460 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، السُّدِّيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْجَارِيَةِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ:" نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ"، قَالَتْ: أَرَادَ أَنْ يَبْسُطَهَا فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ:" إِنَّ حَيْضَتَهَا لَيْسَتْ فِي يَدِهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تھے کہ ایک باندی سے فرمایا مجھے چٹائی پکڑانا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بچھا کر اس پر نماز پڑھنا چاہتے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ ایام سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے " ایام " اس کے ہاتھ میں سرایت نہیں کرگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25460]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 298
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 298
حدیث نمبر: 25461 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، زَائِدَةُ ، إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، فَذَكَرَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25462 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، السُّدِّيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَبْقَى عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا إِلَّا فِي شَعْبَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25462]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالبهي اختلف فى سماعه من عائشة، خ: 1950، م: 1146
الحكم: حديث صحيح، عبدالبهي اختلف فى سماعه من عائشة، خ: 1950، م: 1146
حدیث نمبر: 25463 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، ابْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ، بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرِيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتْ الْكَعْبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے زمین کی سطح پر اس کے دو دروازے بنا دیتا، ایک دروازہ داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر نکلنے کے لئے اور حطیم کی جانب سے چھ گز زمین بیت اللہ میں شامل کردیتا، کیونکہ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے کم کردیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25463]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رجل الراوي عن عائشة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة رجل الراوي عن عائشة
حدیث نمبر: 25464 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، رَجُلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنَ امْرِئٍ يَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ مِنَ اللَّيْلِ يَغْلِبُهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً، وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہو اور سوجاتا ہو تو اس کے لئے نماز کا اجر تو لکھا جاتا ہی ہے اس کی نیند بھی صدقہ ہوتی ہے جس کا ثواب اسے ملتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25464]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
حدیث نمبر: 25465 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يُقَلِّدُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَا يَدَعُ شَيْئًا أَحَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اپنا قلادہ باندھتے تھے، پھر میرے والد کے ساتھ اسے بھیج دیتے اور ہدی کا جانور ذبح ہونے تک کوئی حلال چیز نہ چھوڑتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25465]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1700، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1700، م: 1321
حدیث نمبر: 25466 مسند احمد
بَهْزٌ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ خَالَتِهِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِالشِّرْكِ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ"، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
حدیث نمبر: 25467 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وُهَيْبٌ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک ان کے لئے عورتیں حلال نہیں کردی گئیں۔ فائدہ: دراصل یہ سورت احزاب کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ اب آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے، بعد میں یہ پابندی ختم کردی گئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث اسی بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25467]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف لاختلاف فيه على عطاء
الحكم: حديث ضعيف لاختلاف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 25468 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَقُولُ: إِنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتِبَةً لِأُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَهَا، فَأَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَهُمْ، فَتُخْبِرَهُمْ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْتَاعَهَا، فَأُعْتِقَهَا، فَقَالُوا: إِنْ جَعَلْتِ لَنَا وَلَاءَهَا ابْتَعْنَاهَا مِنْهَا. فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" . وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمِرْجَلُ يَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا؟" قُلْتُ: أَهْدَتْهُ لَنَا بَرِيرَةُ، وَتُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَذَا لبَرِيرَةَ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ" . قَالَتْ: وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقَهَا، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْتَارِي، فَإِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْكُثِي تَحْتَ هَذَا الْعَبْدِ، وَإِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ انصار کے کچھ لوگوں کی " مکاتبہ " تھی، میں نے اسے خرید نے کا ارادہ کیا اور اس سے کہا کہ تم اپنے مالکوں کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ میں تمہیں خرید کر آزاد کرنا چاہتی ہوں، وہ کہنے لگے کہ اگر آپ اس کی ولاء ہمیں دینے کا وعدہ کریں تو ہم اسے آپ کو بیچ دیتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولا اسی کو ملتی ہے جو غلام کو آزاد کرے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو ہنڈ یا میں گوشت ابل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کہاں سے آیا؟ میں نے عرض کیا کہ بریرہ نے ہمیں ہدیہ دیا ہے اور اسے صدقہ میں ملا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بریرہ کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ غلام کے نکاح میں تھی، جب وہ آزاد ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اختیار دیتے ہوئے فرمایا کہ چاہو تو اسی غلام کے نکاح میں رہو اور چاہو تو جدائی اختیار کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25468]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: اختاري ... تفارقيه وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح دون قوله: اختاري ... تفارقيه وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 25469 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَبَسَطَ يَدَهُ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ، أَوْ آذَيْتُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25469]
حکم دارالسلام
ضعيف بهذه السياقة ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: ضعيف بهذه السياقة ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 25470 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ انہوں نے جو اعمال آگے بھیجے تھے، وہ ان کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25470]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1393
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1393
حدیث نمبر: 25471 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكِ بْنِ أبي نَمِرٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أبي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَائِشَة قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ عَائِشَةَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ دَارِ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، فَإِنَّا وَإِيَّاكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ: تُؤَجَّلُونَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے دو پہر گذرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع تشریف لے گئے، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " السلام علیکم دار قوم مومنین " تم لوگ ہم سے چلے گئے اور ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25471]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 974
الحكم: إسناده صحيح، م: 974
حدیث نمبر: 25472 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ الْقَاسِمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا، فَهُوَ رَدٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25472]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1718
الحكم: إسناده صحيح، م: 1718
حدیث نمبر: 25473 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ" . قَالَ: وَسَمِعْتُهُ قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا ہے؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگر تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25473]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6465، م: 782
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6465، م: 782
حدیث نمبر: 25474 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ زَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عام طور پر جرائم میں ملوث نہ ہونے والے افراد کی معمولی لغزشوں کی نظر انداز کردیا کرو، الاّ یہ کہ حدود اللہ کا معاملہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25474]
حکم دارالسلام
حديث جيد بطرقه وشواهده
الحكم: حديث جيد بطرقه وشواهده
حدیث نمبر: 25475 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا ثَلَاثَةَ نَفَرٍ: التَّارِكُ الْإِسْلَامَ، وَالْمُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ" . قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصاً قتل کرنا پڑے یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کردے اور جماعت سے جدا ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25475]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6878، م: 1676
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6878، م: 1676
حدیث نمبر: 25476 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ، قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1754، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1754، م: 1189
حدیث نمبر: 25477 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ ، أَنَّ عَائِشَة قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ: أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي؟ قَالَ: قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ، وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي. قَالَتْ: أَوَمَا عَلِمْتَ، مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ، إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ، أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ، أَوْ زَنَى، بَعْدَمَا أُحْصِنَ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اشتر سے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25477]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمرو بن غالب تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عمرو بن غالب تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق
حدیث نمبر: 25478 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ مِنْ عَذْقِ نَخْلَةٍ، فَمَاتَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" هَلْ لَهُ مِنْ نَسَبٍ أَوْ رَحِمٍ؟"، قَالُوا: لَا. قَالَ: " أَعْطُوا مِيرَاثَهُ بَعْضَ أَهْلِ قَرْيَتِهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مرگیا، اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25478]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن