بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 25 از 67
حدیث نمبر: 24939 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ ، قَالَ بَهْزٌ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ النَّخَعِ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ، فَاحْتَلَمَ، فَأَبْصَرَتْهُ جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ، وَهُوَ يَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ مِنْ ثَوْبِهِ، أَوْ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ. قَالَ بَهْزٌ: هَكَذَا قَالَ شُعْبَةُ. فَقَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أَفْرُكَهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے یہاں ایک مہمان قیام پذیر ہوا، حضرت عائشہ نے اپنا زرد رنگ کا لحاف اسے دینے کا حکم دیا، وہ اسے اوڑھ کر سوگیا، خواب میں اس پر غسل واجب ہوگیا، اسے اس بات سے شرم آئی کہ اس لحاف کو گندگی کے نشان کے ساتھ ہی واپس بھیجے اس لئے اس نے اسے پانی سے دھو دیا اور پھر حضرت عائشہ کے پاس واپس بھیج دیا، حضرت عائشہ نے فرمایا کئی مرتبہ میں نے اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 288
الحكم: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 24940 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامَ بْنَ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ هَمَّامَ بْنَ الْحَارِثِ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24941 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ:" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سیدھی بات کہا کرو، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا کرو اور خوشخبریاں دیا کرو، کیونکہ کسی شخص کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جاسکیں گے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے بھی نہیں، الاّ یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمل وہ ہے جو دائیمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6464، م: 2818
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6464، م: 2818
حدیث نمبر: 24942 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، زُبَيْدٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَرِّثُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24942]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24943 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24943]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24944 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ذَكَرَ جَهْدًا شَدِيدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ"، فَقُلْتُ: مَا يُجْزِئُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ مِنَ الطَّعَامِ؟ قَالَ:" مَا يُجْزِئُ الْمَلَائِكَةَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ". قُلْتُ: فَأَيُّ الْمَالِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ؟ قَالَ:" غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ مِنَ الْمَاءِ، وَأَمَّا الطَّعَامُ، فَلَا طَعَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، میں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24944]
حکم دارالسلام
إسناده فيه ضعف وانقطاع، راجع: 24470
الحكم: إسناده فيه ضعف وانقطاع، راجع: 24470
حدیث نمبر: 24945 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَرْسَلَنِي مُدْرِكٌ أَوْ ابْنُ مُدْرِكٍ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ. قَالَ: فَأَتَيْتُهَا، فَإِذَا هِيَ تُصَلِّي الضُّحَى، فَقُلْتُ: أَقْعُدُ حَتَّى تَفْرُغَ، فَقَالُوا: هَيْهَاتَ، فَقُلْتُ: لِآذِنِهَا كَيْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا؟ فَقَالَ: قُلْ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، السَّلَامُ عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ: أَخُو عَازِبٍ، نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ. فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْوِصَالِ؟ فَقَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا الْهِلَالَ أَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ زَادَ لَزِدْتُ". فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَاكَ أَوْ شَيْئًا نَحْوَهُ؟ قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي" . وَسَأَلْتُهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، قَالَتْ: فَجَاءَتْهُ عِنْدَ الظُّهْرِ، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، وَشُغِلَ فِي قِسْمَتِهِ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ صَلَّاهَا"، وَقَالَتْ:" عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ، فَإِنْ مَرِضَ قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ" ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ أَحَدَكُمْ , يَقُولُ: بِحَسْبِي أَنْ أُقِيمَ مَا كُتِبَ لِي، وَأَنَّى لَهُ ذَلِكَ. وَسَأَلْتُهَا عَنِ الْيَوْمِ الَّذِي يُخْتَلَفُ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: " لَأَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ" ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، قَالَ: أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِذَاكَ مِنَّا. سَمِعْت أَبِي يَقُولُ: يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، صَالِحُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبِي: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُوسَى هُوَ خَطَأٌ، أَخْطَأَ فِيهِ شُعْبَةُ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مد رک یا ابن مدرک نے کچھ سوالات پوچھنے کے لئے حضرت عائشہ کے پاس بھیجا، میں ان کے پاس پہنچا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے سوچا کہ ان کے فارغ ہونے تک بیٹھ کر انتظار کرلیتا ہوں لیکن لوگوں نے بتایا کہ انہیں بہت دیر لگے گی، میں نے انہیں اطلاع دینے والے سے پوچھا کہ میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں؟ اس نے کہا کہ یوں کہو: السَلَا مُ عَلَیکَ اَ یُھَا النَبِیُ وَرَحمَتُ اللہِ وَ بَرَ کَاتُہ، السَلَامُ عَلَینا وَ عَلَی عِبَادِ اللہِ الصَالِحِینَ السَلاَ مُ عَلیَ اُمَھِاتِ المُومِنِینَ میں اس طرح سلام کرکے اندر داخل ہوا اور ان سے سوالات پوچھنے لگا، انہوں نے فرمایا عازب کے بھائی ہو، وہ کتنا اچھا گھرانہ ہے۔ پھر میں نے ان سے مسلسل روزے " جن میں افطاری نہ ہو " رکھنے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے صحابہ نے اس طرح روزے رکھے تھے لیکن صحابہ کرام مشقت میں پڑگئے تھے اس لئے چاند دیکھتے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتادیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ مہینہ مزید آگے چلتا تو میں بھی روزے رکھتا رہتا (اس پر نکیر فرمائی) کسی نے کہا کہ آپ خود بھی تو اس طرح کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ پھر میں نے ان سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، زکوٰۃ کا وہ مال ظہر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اور نماز عصر تک اسے تقسیم کرنے میں مشغول رہے، اس دن عصر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پھر انہوں نے فرمایا کہ تم اپنے اوپر قیام اللیل کو لازم کرلو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، اگر بیمار ہوتے تو بیٹھ کر پڑھ لیتے، میں جانتی ہوں کہ تم میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں فرض نمازیں پڑھ لوں، یہی کافی ہے لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ پھر میں نے ان سے اس دن کے متعلق پوچھا جس کے رمضان ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہوجائے تو انہوں نے فرمایا کہ میرے نزدیک شعبان کا ایک روزہ رکھ لینا رمضان کا ایک روزہ چھوڑنے سے زیادہ محبوب ہے، اس کے بعد میں وہاں سے نکل آیا اور یہی سوالات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھے، تو ان میں سے ہر ایک نے یہی جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات ہم سے زیادہ یہ باتیں جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24945]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: لأن أصوم من شعبان.....من رمضان وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حديث صحيح دون قولها: لأن أصوم من شعبان.....من رمضان وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 24946 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا". فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَذَهَبْتُ لِأَقُولَ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاجْعَلْنِي فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرنے فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، میں یوں ہی کرتی رہی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور کہنے لگے پروردگار! مجھے معاف فرما دے اور میرے رفیق سے ملا دے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24946]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2191
الحكم: إسناده صحيح، م: 2191
حدیث نمبر: 24947 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ, قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذًا لَدَابَّةُ سُوءٍ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ، وَهُوَ يُصَلِّي" . قَالَ شُعْبَةُ: بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فِيمَا أَظُنُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ عروہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا عورت اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر، انہوں نے فرمایا پھر تو عورت بہت برا جانور ہوئی، میں نے تو وہ وقت دیکھا ہے جبکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24947]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، م: 512
حدیث نمبر: 24948 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ خَرَجَ فَصَلَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 676
الحكم: إسناده صحيح، خ: 676
حدیث نمبر: 24949 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا، فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ، أَوْ يَأْكُلَ، تَوَضَّأَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا یا کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 305
الحكم: إسناده صحيح، م: 305
حدیث نمبر: 24950 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ عَلْقَمَةَ وَشُرَيْحَ بْنَ أَرْطَاةَ كَانَا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: سَلْهَا عَنِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَا أَرْفُثُ عِنْدَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ اور شریح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دینے کا حکم پوچھا، دوسرے نے کہا کہ آج میں ان کے یہاں بےتکلف کھلی گفتگو نہیں کرسکتا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود ہی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے اور تم سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24950]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد صورته الإرسال، خ: 1967، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد صورته الإرسال، خ: 1967، م: 1106
حدیث نمبر: 24951 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ، مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ، فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ هَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے لہٰذا تم ان کا مال رغبت کے ساتھ کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24951]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم عمارة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم عمارة
حدیث نمبر: 24952 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ، فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 952، م:892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 952، م:892
حدیث نمبر: 24953 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 248، م: 316
الحكم: إسناده صحيح، خ: 248، م: 316
حدیث نمبر: 24954 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي، وَأَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ، فَيَأْخَذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي، وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 300
الحكم: إسناده صحيح، م: 300
حدیث نمبر: 24955 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُهُ كَانَ يُفَضِّلُ لَيْلَةً عَلَى لَيْلَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی رات پر دوسری رات کو فضیلت دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24955]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم، وهو النخعي، لم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم، وهو النخعي، لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24956 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، الشَّعْبِيَّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنِ الرَّجُلِ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ، هَلْ يُمْسِكُ عَمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ؟ قَالَ: فَسَمِعْتُ صَوْتَ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ، ثُمَّ قَالَتْ:" قَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُرْسِلُ بِهِنَّ، ثُمَّ لَا يَحْرُمُ مِنْهُ شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایک آدمی اپنی ہدی کا جانور بھیج دیتا ہے تو کیا وہ ان تمام چیزون سے اجتناب کرے گا جن سے محرم اجتناب کرتا ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24956]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1361
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5566، م: 1361
حدیث نمبر: 24957 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَمَّةٍ لَهُ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ سَأَلَتْ عَائِشَةَ، عَنْ يَتِيمٍ فِي حِجْرِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24957]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمة عمارة
حدیث نمبر: 24958 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، بَكَّارٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ الصَّنْعَانِيَّ ، ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكَّارٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ الصَّنْعَانِيَّ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا. قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ". قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8؟ قَالَ: " إِنَّمَا ذَاكُمْ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4939، م: 2876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4939، م: 2876