عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ ، قَالَ بَهْزٌ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ النَّخَعِ كَانَ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ، فَاحْتَلَمَ، فَأَبْصَرَتْهُ جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ، وَهُوَ يَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ مِنْ ثَوْبِهِ، أَوْ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ. قَالَ بَهْزٌ: هَكَذَا قَالَ شُعْبَةُ. فَقَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أَفْرُكَهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے یہاں ایک مہمان قیام پذیر ہوا، حضرت عائشہ نے اپنا زرد رنگ کا لحاف اسے دینے کا حکم دیا، وہ اسے اوڑھ کر سوگیا، خواب میں اس پر غسل واجب ہوگیا، اسے اس بات سے شرم آئی کہ اس لحاف کو گندگی کے نشان کے ساتھ ہی واپس بھیجے اس لئے اس نے اسے پانی سے دھو دیا اور پھر حضرت عائشہ کے پاس واپس بھیج دیا، حضرت عائشہ نے فرمایا کئی مرتبہ میں نے اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے اسے کھرچا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 288
الحكم: إسناده صحيح، م: 288