بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 30 از 67
حدیث نمبر: 25039 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ، وَيُعَجِّلُ الْعَصْرَ، وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ، وَيُعَجِّلُ الْعِشَاءَ فِي السَّفَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں ظہر کی نماز اس کے آخر وقت میں اور عصر کی نماز اول وقت میں، اسی طرح مغرب کی نماز آخر وقت میں اور عشاء کی نماز اول میں پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25039]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد مغيرة بن زياد وهو ممن لا يحتمل تفرده
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد مغيرة بن زياد وهو ممن لا يحتمل تفرده
حدیث نمبر: 25040 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ ، صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي؟! وَمَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جس نے میرا نام رکھنا حلال اور میری کنیت رکھنا حرام قرار دیا ہے، یا وہ کون ہے جس نے میری کنیت رکھنا حرام اور میرا نام رکھنا حلال قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25040]
حکم دارالسلام
حديث منكر، محمد بن عمران الحجبي لم يعرف إلا بهذا الحديث
الحكم: حديث منكر، محمد بن عمران الحجبي لم يعرف إلا بهذا الحديث
حدیث نمبر: 25041 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْعُمَرِيُّ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُلْحِدَ لَهُ لَحْدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک بغلی بنائی گئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25041]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 25042 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ؟ فَقَالَ: " رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ لِلْفَاجِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ناگہانی موت کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن کے لئے تو یہ راحت ہے اور گنہگار کے لئے افسوس کی پکڑ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25042]
حکم دارالسلام
إسناده واه، عبيدالله بن الوليد متروك، وعبدالله بن عبيد بن عمير لم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده واه، عبيدالله بن الوليد متروك، وعبدالله بن عبيد بن عمير لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25043 مسند احمد
وَكِيعٌ ، كَهْمَسٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالَتْ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ يَرْفَعُ بِي خَسِيسَتَهُ. " فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا". قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ لِلْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سے مروی ہے کہ ایک نوجوان عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میرے باپ نے میرا نکاح اپنے بھتیجے کے ساتھ کردیا ہے، وہ میرے ساتھ گھٹیا باتیں کرتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے معاملے کا اختیار دے دیا، سو کہنے لگی کہ میرے باپ نے جو نکاح کردیا ہے، میں اسی کو برقرار رکھتی ہوں لیکن میں چاہتی ہوں کہ آپ عورتوں کو بتادیں کہ باپ کو اس معاملے میں جبر کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25043]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25044 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اور اے بنو عبدالمطلب، میں اللہ کے یہاں تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ مجھ سے جتنا چاہو مال لے لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 255
الحكم: إسناده صحيح، م: 255
حدیث نمبر: 25045 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْمِقْدَامِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ، " مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو شخص تم سے یہ بات بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، تو تم اسے سچا نہ سمجھنا کیونکہ جب سے ان پر قرآن نازل ہوا، انہوں نے بلاعذر کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25046 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ عَظِيمَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مَوْجِيَّيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو صحت مند اور بڑے مینڈھوں کی قبربانی فرمائی جو خوبصورت تھے۔ سینگ دار تھے اور خصی تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25046]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف لاضطراب عبدالله بن محمد بن عقيل فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف لاضطراب عبدالله بن محمد بن عقيل فيه
حدیث نمبر: 25047 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" إِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُرَاعَ، فَيَأْكُلُهُ بَعْدَ شَهْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کرکے رکھ لیتے تھے اور مہینے بعد انہیں کھالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25047]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25048 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَاءِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَاءِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كَانَ عِنْدَنَا سَعَةٌ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَلَبَنَيْنَاهَا، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ" . قَالَتْ: فَلَمَّا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا، فَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ، قَالَتْ: فَكَانَتْ كَذَلِكَ، فَلَمَّا ظَهَرَ الْحَجَّاجُ عَلَيْهِ هَدَمَهَا، وَأَعَادَ بِنَاءَهَا الْأَوَّلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میرے پاس وقت کی گنجائش ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے از سر نو اس کی تعمیر کرتا اور اس کے دو دروازے بناتا، ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے، پھر جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے اس عمارت کو گرا کر اس کے دروازے بنا دیئے اور وہ تعمیر اسی طرح رہی، پھر جب حجاج بن یوسف ان پر غالب آیا گیا تو اس نے خانہ کعبہ کو دوبارہ شہید کر کے پہلی تعمیر پر لوٹا دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25048]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن عبدالملك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن عبدالملك
حدیث نمبر: 25049 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَكَتْ امْرَأَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ قِصَرَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ اغْتَبْتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجود کی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی اور اس کے ٹھگنے ہونے کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی غیبت کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25049]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25050 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَكَتْ امْرَأَةً، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں اور نہ اسے پسند کروں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25051 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُرِقَ لِي ثَوْبٌ، فَجَعَلْتُ أَدْعُو عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بددعائیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25051]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأن حديث حبيب عن عطاء ليس بمحفوظ
الحكم: إسناده ضعيف لأن حديث حبيب عن عطاء ليس بمحفوظ
حدیث نمبر: 25052 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهُ سُرِقَ ثَوْبٌ لَهَا، فَدَعَتْ عَلَى صَاحِبِهَا، فَقَالَ:" لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بددعائیں دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25052]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 25053 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ ، زِرٍّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً، وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25053]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: ولا عبدا ولا أمة فإسناده حسن من أجل عاصم ابن أبى النجود
الحكم: حديث صحيح دون قولها: ولا عبدا ولا أمة فإسناده حسن من أجل عاصم ابن أبى النجود
حدیث نمبر: 25054 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ، وَتَرَكَ شَيْئًا، وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کے ایک درخت سے گر کر مرگیا، اس نے کچھ ترکہ چھوڑا لیکن کوئی اولاد یا دوست نہ چھوڑا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی وراثت اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25054]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25055 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، جَابِرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحَائِضُ تَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حائضہ عورت تمام مناسک حج ادا کرے گی، لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25055]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر وهو الجعفي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر وهو الجعفي
حدیث نمبر: 25056 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي وَأَنْتَ قَرِيرُ الْعَيْنِ، طَيِّبُ النَّفْسِ، وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ حَزِينٌ؟ فَقَالَ: " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں سے باہر تشریف لے گئے تو بڑے خوش اور ہشاش بشاش تھے، لیکن تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو غمگین تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! جب آپ میرے یہاں سے گئے تو خوش اور ہشاش بشاش تھے اور اب واپس آئے ہیں تو غمگین ہیں، فرمایا میں خانہ کعبہ میں داخل ہوا تھا، پھر مجھے خیال آیا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح میں نے اپنے پیچھے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25056]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن عبدالملك
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن عبدالملك
حدیث نمبر: 25057 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم کی آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہی کیوں نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25058 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيذِ؟ فَقَالَتْ: هَذِهِ خَادِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلْهَا الْجَارِيَةُ حَبَشِيَّةٌ , فَقَالَتْ:" كُنْتُ أَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ عِشَاءً، فَأُوكِيِهِ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثمامہ بن حزن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے ایک حبشی باندی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھ لو، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی، اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت ایک مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی اور اس کا دہانہ باندھ کر لٹکا دیتی تھی، جب صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2005
الحكم: إسناده صحيح، م: 2005