بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 5 از 67
حدیث نمبر: 24539 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، زَبَّانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَبَّانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ وَأَنَا فِي الْبَيْتِ، فَيَفْصِلُ بَيْنَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ بِتَسْلِيمٍ يُسْمِعُنَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجرے میں نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں کمرے میں ہوتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتوں اور وتر کے درمیان سلام پھیر کر " جس کی آواز ہم سنتے تھے " وصل فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24539]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عمر بن عبدالعزيز لم يدرك عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عمر بن عبدالعزيز لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24540 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ سورة المعارج آية 23.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24540]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24541 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى، تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ، فَقَالَ: " دَعْهُنَّ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ" . وَقَالَتْ عَائِشَةُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ، فَأَقْعُدُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ، الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ مزید کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی، اب تم خود اندازہ لگا لو کہ ایک نوعمر لڑکی کو کھیل تماشے کی کتنی رغبت ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 987، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 987، م: 892
حدیث نمبر: 24542 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ السَّنَةِ، أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس ماہ تقریباً وہ پو را مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24542]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، م: 1156
حدیث نمبر: 24543 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، بُهْلُولُ بْنُ حَكِيمٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، سَالِمٌ الدَّوْسِيُّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي بُهْلُولُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ الدَّوْسِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ : تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم سدوسی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24543]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سالم الدوسي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سالم الدوسي
حدیث نمبر: 24544 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ، فَأَذِنَ لَهَا، فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا، فَضُرِبَ، وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَعَلَتْ، فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا، فَضُرِبَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ، أَمَرَتْ بِبِنَائِهَا، فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى، انْصَرَفَ، فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟" قَالُوا: بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِرَّ أَرَدْتُنَّ بِهَذَا؟ مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ". فَرَجَعَ، فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشَرَ شَوَّالٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے ارادے کا ذکر فرمایا تو حضرت عائشہ نے ان سے اعتکاف کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی چنانچہ حضرت عائشہ نے اپنا خیمہ لگانے کا حکم دیا اور وہ لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کہ ان کے لئے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لیں، انہوں نے اجازت لی تو حضرت حفصہ کے حکم پر ان کا خیمہ بھی لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت زینب نے بھی اپنا خیمہ لگا نے کا حکم دے دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چونکہ نماز پڑھ کر واپس آجاتے تھے، اس دن مسجد میں بہت سارے خیمے دیکھے تو فرمایا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عائشہ، حفصہ، زینب کے خیمے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ اس سے نیکی حاصل کرنا چاہتی ہو؟ میں اعتکاف ہی نہیں کرتا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آگئے اور عید گذرنے کے بعد شوال کے دس دن کا اعتکاف فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24544]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2033، م: 1173
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2033، م: 1173
حدیث نمبر: 24545 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، عُتْبَةُ يَعْنِي ابْنَ ضَمْرَةَ بْنَ حَبِيبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ يَعْنِي ابْنَ ضَمْرَةَ بْنَ حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى غُطَيْفٍ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: مَنْ الرَّجُلُ؟ قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى غُطَيْفِ بْنِ عَازِبٍ، فَقَالَتْ: ابْنُ عُفَيْفٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلَهَا عَنْ " الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أَرَكَعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" قَالَتْ لَهُ: نَعَمْ . وَسَأَلَهَا عَنْ ذَرَارِيِّ الْكُفَّارِ؟ فَقَالَتْ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُمْ مَعَ آبَائِهِمْ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِلَا عَمَلٍ؟ قَالَ:" اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس " جو غطیف بن عفیف کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں سلام کیا، انہوں نے پوچھا کون آدمی ہے؟ عرض کیا کہ میں عبداللہ ہوں، غطیف کا غلام، انہوں نے پوچھا جس کے والد کا نام عفیف ہے؟ عرض کیا جی ام المومنین! پھر انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پڑھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! انہوں نے کفار کے نابالغ بچوں کے متعلق پوچھا تو حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے وہ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ ہوں گے، حالانکہ میں نے یہ عرض بھی کیا تھا کہ یا رسول اللہ! بغیر کسی عمل کے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ معلوم ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24545]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب عبدالله بن أبى قيس فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب عبدالله بن أبى قيس فيه
حدیث نمبر: 24546 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ إِلَّا الْحِمَارُ، وَالْكَافِرُ، وَالْكَلْبُ، وَالْمَرْأَةُ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوءٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی نماز گدھے، کافر، کتے اور عورت کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی، حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں تو گندے جانوروں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24546]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وفي متنه نكارة، راشد ابن سعد كثير الإرسال
الحكم: إسناده ضعيف، وفي متنه نكارة، راشد ابن سعد كثير الإرسال
حدیث نمبر: 24547 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشُّؤْمُ سُوءُ الْخُلُقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست بد اخلاقی کا نام ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24547]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه انقطاع وضعف، حبيب بن عبيد لم يسمع من عائشة، و أبو بكر الغساني ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، فيه انقطاع وضعف، حبيب بن عبيد لم يسمع من عائشة، و أبو بكر الغساني ضعيف
حدیث نمبر: 24548 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ مُكَاتِبًا لَهَا دَخَلَ عَلَيْهَا بِبَقِيَّةِ مُكَاتَبَتِهِ، فَقَالَتْ لَهُ: أَنْتَ غَيْرُ دَاخِلٍ عَلَيَّ غَيْرَ مَرَّتِكَ هَذِهِ، فَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ رَهَجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان کا ایک مکاتب غلام ان کے پاس اپنا بقیہ بدل کتابت ادا کرنے کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ آج کے بعد تم میرے پاس نہیں آسکو گے، البتہ تم اپنے اوپر جہاد فی سبیل اللہ کو لازم کرلینا کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان آدمی کے دل میں جہاد فی سبیل اللہ کا غبار خلط ملط ہوجائے تو اللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24548]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 24549 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ فِي الْإِسْلَامِ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب بھی اسلام میں دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے زیادہ آسان کو اختیار فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24549]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل محمد بن مصعب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل محمد بن مصعب
حدیث نمبر: 24550 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مؤذن کے اذان دینے کے بعد دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24550]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهو مكرر: 24537
الحكم: حديث صحيح، وهو مكرر: 24537
حدیث نمبر: 24551 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی سفر میں پڑھی ہے اور نہ حضر میں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24551]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب وإن كان ضعيفا لكن توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب وإن كان ضعيفا لكن توبع
حدیث نمبر: 24552 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِي يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ كَيْفَ يَلْعَبُونَ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ، وَاقْدُرْ قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں اپنے حجرے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی، اب تم خود اندازہ کرلو کہ ایک نوعمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24552]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع
حدیث نمبر: 24553 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24553]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد ابن مصعب متابع
الحكم: حديث صحيح، محمد ابن مصعب متابع
حدیث نمبر: 24554 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَإِنَّ الشَّمْسَ لَطَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے میں چمک رہی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24554]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب وإن كان ضعيفا لكن توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب وإن كان ضعيفا لكن توبع
حدیث نمبر: 24555 مسند احمد
بُهْلُولُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَرْقَسَانِيُّ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بُهْلُولُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَرْقَسَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24555]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وقد اختلف فى متنه على الأوزاعي
الحكم: رجاله ثقات، وقد اختلف فى متنه على الأوزاعي
حدیث نمبر: 24556 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اتَّخَذْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ الصُّوَرُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَتَكَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پر دہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لئے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24556]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب توبع
حدیث نمبر: 24557 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ، إِنَّا لَا نَعْلَمُ الْحَرَامَ يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے دور رہتے اور نہ ترک فرماتے، ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ احرام سے انسان بیت اللہ کے طواف کے بعد ہی نکلتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24557]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب مختلف فيه، ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب مختلف فيه، ولكن توبع
حدیث نمبر: 24558 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا حَائِضٌ، فَقَالَ: " عَقْرَى، أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟". قَالُوا: إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، فَنَفَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ: مَا سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَرَّةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے اور روانہ ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24558]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف