بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 36 از 67
حدیث نمبر: 25159 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: " بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ، وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرَةٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ، وَكَانَ لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کتنی رکعتوں پر وتر بناتے تھے؟ انہوں نے فرمایا چار اور تین پر، چھ اور تین پر، دس اور تین پر، لیکن تیرہ رکعتوں سے زیادہ اور سات سے کم پر وتر نہیں بناتے تھے اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25160 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ؟ فَقَالَتْ: " كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ، فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ، فَنَامَ" . قَالَ: قُلْتُ لَهَا: قَالَ: قُلْتُ لَهَا: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، أَيَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: " كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل جنابت کرتے تھے یا سونے کے بعد؟ انہوں نے فرمایا کبھی سونے سے پہلے غسل فرما لیتے تھے اور کبھی سونے کے بعد پھر میں نے یہ پوچھا کہ یہ بتایئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 307
الحكم: إسناده صحيح، م: 307
حدیث نمبر: 25161 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ، عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ صَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شعبان کے چاند کا اتنے اہتمام کے ساتھ خیال رکھتے تھے کہ کسی دوسرے مہینے کا اتنے اہتمام کے ساتھ خیال نہیں رکھتے تھے اور چاند دیکھ کر روزہ رکھ لیتے تھے اور اگر آسمان ابر آلود ہوتا تو تیس دن کی گنتی پوری کر کے پھر روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25162 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةُ ، رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَتَبَ مَعِي مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَدَفَعْتُ إِلَيْهَا كِتَابَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، أَلَا أُحَدِّثُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنِّي كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ يَوْمًا مِنْ ذَاكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَبْعَثُ لَكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا". فَقَالَتْ حَفْصَةُ أَلَا أُرْسِلُ لَكَ إِلَى عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ:" لَا" ثُمَّ دَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ، فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ:" يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُقَمِّصَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ" ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، وَاللَّهِ لَقَدْ أُنْسِيتُهُ حَتَّى مَا ظَنَنْتُ أَنِّي سَمِعْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر میرے ہاتھ حضرت عائشہ کے پاس بھیجا، میں نے ان کے پاس پہنچ کر وہ خط ان کے حوالے کیا تو وہ کہنے لگیں، بیٹا! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ میں اور حفصہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کاش! ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہم سے باتیں کرتا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں کسی کو بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے تو خاموش رہے، پھر فرمایا نہیں، میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے کہا، تب بھی یہی ہوا، پھر ایک آدمی کو بلا کر کچھ دیر اس سے سرگوشی کی، تھوڑی ہی دیر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ ہوگئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا، حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: اے ام المومنین! اب تک یہ بات آپ نے کیوں ذکر نہیں فرمائی؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں یہ بات بھول گئی تھی، مجھے یاد ہی نہیں رہی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25162]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 25163 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، ذَكْوَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25164 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" . قَالَ: وَقَالَ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ: فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ. [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 487
الحكم: إسناده صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 25165 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ: " لَهُمَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا" . قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَسْتَمِعُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَيَقُولُ لَهُمَا: أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا کہ یہ دو رکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25165]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 725
الحكم: إسناده صحيح، م: 725
حدیث نمبر: 25166 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِالْأَجْرَاسِ أَنْ تُقْطَعَ مِنْ أَعْنَاقِ الْإِبِلِ يَوْمَ بَدْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں پڑی ہوئی گھنٹیاں توڑ دی جائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25166]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن جعفر توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن جعفر توبع
حدیث نمبر: 25167 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بالغ لڑکی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے کہ وہ قبول نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25167]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25168 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي حَسَّانَ ، لِعَائِشَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَائِشَةَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الطِّيَرَةَ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ". فَغَضِبَتْ غَضَبًا شَدِيدًا، َطَارَتْ شُقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ، وَشُقَّةٌ فِي الْأَرْضِ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بد شگونی لیا کرتے تھے (اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25168]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25169 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، يُونُسُ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ، إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ وَلَعِبَ، وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ رَبَضَ فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے ہاہر ہوتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں تشریف لا رہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25169]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مجاهد لم يسمع هذا الحديث من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف، مجاهد لم يسمع هذا الحديث من عائشة
حدیث نمبر: 25170 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ، فَذُهِبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقِيلَ: إِنَّهُ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ؟ قَالَ: " إِنَّمَا هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدقہ کا گوشت کہیں سے آیا، انہوں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا کہ یہ صدقہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ تھا، اب ہمارے لئے ہدیہ بن گیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25170]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1493، م: 1504
الحكم: حديث صحيح، خ: 1493، م: 1504
حدیث نمبر: 25171 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْن عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْن عُمَيْرٍ قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ امْرَأَةٍ قَالَ عَفَّانُ: مِنْ عَجُوزَةٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ مِنْ نِسَاءِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ، هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ. قَالَتْ: فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ تَمَعُّرًا مَا كُنْتُ أَرَاهُ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ، أَوْ عِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَنْظُرَ أَرَحْمَةٌ أَمْ عَذَابٌ؟ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ جب بھی کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جو فوت ہوگئی اور جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ اس طرح سرخ ہوگیا جس طرح صرف نزول وحی کے وقت ہوتا تھا، یا بادل چھا جانے کے وقت جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دیکھتے تھے کہ یہ باعث رحمت ہے یا باعث زحمت [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2437
الحكم: إسناده صحيح، م: 2437
حدیث نمبر: 25172 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيجٍ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أخبرنا ابْنُ جُرَيجٍ ، أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ رَقَدَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي" . وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ:" أَنْ أَشُقَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء میں اتنی تاخیر کردی کہ رات کا اکثر حصہ بیت گیا اور مسجد والے بھی سو گئے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو نماز عشاء کا صحیح وقت یہ ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 638
الحكم: إسناده صحيح، م: 638
حدیث نمبر: 25173 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ" فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لَا نَرَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا۔ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ یا رسول اللہ! آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25173]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3217، م: 2447
الحكم: حديث صحيح، خ: 3217، م: 2447
حدیث نمبر: 25174 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اجْتَمَعْت أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا: قُولِي لَهُ: إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَتْ: فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُحِبِّينِي؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَحِبِّيهَا". فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ، فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ لَهَا، فَقُلْنَ: إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا، فَارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: هِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ، وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَتْ: ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتُمُنِي، فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ إِلَى طَرْفِهِ، هَلْ يَأْذَنُ لِي فِي أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ، قَالَتْ: فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا، فَاسْتَقْبَلْتُهَا، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا، قَالَتْ: فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ" . قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا مِنْهَا، وَأَكْثَرَ صَدَقَةً، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ، وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ زَيْنَبَ، مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ غَرْبٍ حَدٍّ كَانَ فِيهَا، تُوشِكُ مِنْهَا الْفِيئَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی چادر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کی معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پیاری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کروگی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا کہ پھر ان سے بھی محبت کرو، یہ سن کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کھڑی ہوئیں اور واپس چلی گئیں اور ازواج مطہرات کو اپنے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان ہونے والی گفتگو بتادی، جسے سن کر انہوں نے کہا آپ ہمارا کوئی کام نہ کرسکیں، آپ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جایئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ اب میں اس سے معاملے میں ان سے بھی بات نہیں کروں گی۔ پھر ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر حملے شروع کر دئیے (طعنے) میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتی رہی کہ کیا وہ مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہوگیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینا شروع کیا اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک انہیں خاموش نہیں کرادیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دوران مسکراتے رہے، پھر فرمایا یہ ہے بھی تو ابوبکر کی بیٹی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے اچھی، کثرت سے صدقہ کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی اور اللہ کی ہر عبادت میں اپنے آپ کو گھلانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، البتہ سوکن کی تیزی ایک الگ چیز ہے جس میں وہ برابری کے قریب آتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25174]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري
حدیث نمبر: 25175 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَوْ غَيْرِهِ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تُبَايِعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ عَلَيْهَا: أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ، قَالَتْ: فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً، فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى مِنْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" أَقِرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ، فَوَاللَّهِ مَا بَايَعَنَا إِلَّا عَلَى هَذَا، قَالَتْ: فَنَعَمْ إِذًا، فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے آیت بیعت کی شرائط پر بیعت لینا شروع کردی، اس پر فاطمہ نے شرم سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی اس حرکت پر تعجب ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں اے خاتون! مطمئن رہو، واللہ ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے انہی شرائط پر بیعت کی ہے، تو فاطمہ نے کہا کہ پھر صحیح ہے اور انہوں نے اس آیت کی شرائط پر بیعت کرلی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25175]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25176 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، مُوسى بْنِ سَرْجِسٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ مُوسى بْنِ سَرْجِسٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، وَيَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جا رہے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بےہوشیوں میں میری مدد فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25176]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة موسي بن سرجس
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 25177 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" يَا عَائِشَةُ، إِيَّاكِ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! معمولی گناہوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کے یہاں ان کی تفتیش بھی ہوسکتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25177]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25178 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ، يَقُولُ: " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ، وَإِنِّي لَفِي آخَرَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا میں سمجھی کہ شاید اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہوں، چنانچہ میں انہیں تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ ریز ہیں اور یہ کہ رہے ہیں۔ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اس پر میں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس حال میں ہیں اور میں کس سوچ میں ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25178]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن جريج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن جريج