عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مُعَاوِيَةُ ، رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَتَبَ مَعِي مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَدَفَعْتُ إِلَيْهَا كِتَابَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، أَلَا أُحَدِّثُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنِّي كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ يَوْمًا مِنْ ذَاكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَبْعَثُ لَكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا". فَقَالَتْ حَفْصَةُ أَلَا أُرْسِلُ لَكَ إِلَى عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ:" لَا" ثُمَّ دَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ، فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ:" يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُقَمِّصَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ" ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، وَاللَّهِ لَقَدْ أُنْسِيتُهُ حَتَّى مَا ظَنَنْتُ أَنِّي سَمِعْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر میرے ہاتھ حضرت عائشہ کے پاس بھیجا، میں نے ان کے پاس پہنچ کر وہ خط ان کے حوالے کیا تو وہ کہنے لگیں، بیٹا! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ میں اور حفصہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کاش! ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہم سے باتیں کرتا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں کسی کو بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے تو خاموش رہے، پھر فرمایا نہیں، میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے کہا، تب بھی یہی ہوا، پھر ایک آدمی کو بلا کر کچھ دیر اس سے سرگوشی کی، تھوڑی ہی دیر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ ہوگئے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا، حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: اے ام المومنین! اب تک یہ بات آپ نے کیوں ذکر نہیں فرمائی؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں یہ بات بھول گئی تھی، مجھے یاد ہی نہیں رہی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25162]
الحكم: حديث حسن