بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 32 از 67
حدیث نمبر: 25079 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ لَهَا: أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ كَافِرٍ:" إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا کہ میت پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کافر کے متعلق فرمائی تھی کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25079]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25080 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ، لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار کا حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25080]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل عبيدالله بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لأجل عبيدالله بن أبى زياد
حدیث نمبر: 25081 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ ، أُسَامَةُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" . وقَالَ أُسَامَةُ : عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25081]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25082 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٍ ، الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُسَامَةَ عَثَرَ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَدَمِيَ. قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمُصُّهُ، وَيَقُولُ: " لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهَا وَلَكَسَوْتُهَا حَتَّى أُنْفِقَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ دروازے کی چوکھٹ پر لڑکھڑا کر گرپڑے اور ان کے خون نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں چوسنے اور فرمانے لگے اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اسے خوب زیورات اور عمدہ کپڑے پہناتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25082]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف الأجل شريك ولاختلاف سماع عبدالله البهي من عائشة
الحكم: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف الأجل شريك ولاختلاف سماع عبدالله البهي من عائشة
حدیث نمبر: 25083 مسند احمد
وَكِيعٌ ، كَهْمَسٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ وَلَا أَفْطَرَه حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا ہو، ناغہ نہ کیا ہو یا ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو، تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25083]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، م: 1156
حدیث نمبر: 25084 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25084]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 25085 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، أَبِي عُذْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ رَجُلٌ كَانَ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَآزِرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبند کے ساتھ حمام میں جاسکتے ہیں لیکن عورتوں کو پھر بھی اجازت نہیں دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25085]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى عذرة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى عذرة
حدیث نمبر: 25086 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّمَا هِيَ سُهَيْلَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ" فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهَا " أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَأَنْ تَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہیلہ بنت سہل کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دے دیا، لیکن جب ان کے لئے ایسا کرنا مشکل ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کر کے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25086]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف
الحكم: حديث ضعيف
حدیث نمبر: 25087 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يُمْنَعَ نَقْعُ الْبِئْرِ" . قَالَ يَزِيدُ: يَعْنِي: فَضْلَ الْمَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد پانی یا کنوئیں میں بچ رہنے والے پانی کے استعمال سے کسی کو روکا نہ جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25087]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25088 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهَا إِذْ مَرَّ رَجُلٌ قَدْ ضُرِبَ فِي خَمْرٍ عَلَى بَابِهَا، فَسَمِعَتْ حِسَّ النَّاسِ، فَقَالَتْ أَيُّ شَيْءٍ هَذَا؟ قُلْتُ: رَجُلٌ أُخِذَ سَكْرَانًا مِنْ خَمْرٍ، فَضُرِبَ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ يَعْنِي الْخَمْرَ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ مُنْتَهِبٌ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا رُءُوسَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، وہاں سے ایک آدمی گذرا جسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے دروازے پر شراب پینے کی وجہ سے مارا جا رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب لوگوں کی آہٹ سنی تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ میں نے بتایا کہ ایک آدمی کو شراب کے نشے میں مد ہوش پکڑ لیا گیا ہے اسے مارا جا رہا ہے، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص شراب پیتا ہے وہ شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا، جو شخص بدکاری کرتا ہے وہ بدکاری کرتے وقت مومن نہیں رہتا، جو شخص چوری کرتا ہے وہ چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا اور جو شخص کوئی قیمتی چیز " جس کی طرف لوگ سر اٹھا کر دیکھتے ہوں " لوٹتا ہے، وہ لوٹتے وقت مومن نہیں رہتا اس لئے تم ان کاموں سے بچو، بچو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25088]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح ليغره، وهذا اسناد ضعيف لتدليس محمد بن اسحاق
الحكم: مرفوعه صحيح ليغره، وهذا اسناد ضعيف لتدليس محمد بن اسحاق
حدیث نمبر: 25089 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، ذَكْوَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ يَهُودِيَّةٌ، فَاسْتَطْعَمَتْ عَلَى بَابِي، فَقَالَتْ: أَطْعِمُونِي، أَعَاذَكُمْ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَلَمْ أَزَلْ أَحْبِسُهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ؟ قَالَ:" وَمَا تَقُولُ؟"، قُلْتُ: تَقُولُ: أَعَاذَكُمْ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ! قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا فِتْنَةُ الدَّجَّالِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، تَحْذِيرًا لَمْ يُحَذِّرْهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ" . " فَأَمَّا فِتْنَةُ الْقَبْرِ، فَبِي تُفْتَنُونَ، وَعَنِّي تُسْأَلُونَ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ، وَلَا مَشْعُوفٍ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: فِي الْإِسْلَامِ؟ فَيُقَالُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَصَدَّقْنَاهُ، فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا، وَيُقَالُ: عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا، فَيُقَالُ لَهُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيُقَالُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟، فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ، يَقُولُونَ قَوْلًا، فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا، فَتُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْكَ، ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا، كُنْتَ عَلَى الشَّكِّ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُعَذَّبُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عوت میرے دروازے پر آکر کھانا مانگتے ہوئے کہنے لگی کہ مجھے کھانا کھلاؤ اللہ تمہیں دجال اور عذاب قبر کی آزمائش سے محفوط رکھے، میں نے اسے اپنے پاس روکے رکھا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگئے، میں نے ان سے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ یہودیہ کیا کہہ رہی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا کہہ رہی ہے؟ میں نے کہا یہ کہہ رہی ہے کہ اللہ تمہیں دجال اور عذاب قبر کی آزمائش سے محفوظ رکھے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور اپنے ہاتھ پھیلا کر اللہ سے دجال اور عذاب قبر کی آزمائش سے بچنے کی دعاء کرنے لگے، پھر فرمایا جہاں تک فتنہ دجال کا تعلق ہے تو کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا نہ ہو اور میں تمہیں اس کے متعلق اس طرح متنبہ کروں گا کہ کسی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی امت کو نہ کہا ہوگا، یاد رکھو! وہ کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہوسکتا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا۔ باقی رہا فتنہ قبر تو میرے ذریعے تمہاری آزمائش کی جائے گی اور میرے متعلق تم سے پوچھا جائے گا، اگر مرنے والا نیک آدمی ہو تو فرشتے اسے اس کی قبر میں اس طرح بٹھاتے ہیں کہ اس پر کوئی خوف اور گھبراہٹ نہیں ہوتی، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے کس دین میں وقت گذارا؟ وہ کہتا ہے اسلام میں، پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون آدمی تھا جو درمیان میں تھا؟ وہ کہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے اور ہم نے ان کی تصدیق کی، اس پر اسے جہنم کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اس لئے تمہارا ٹھکانہ دوسرا ہے یہ کہہ کر اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر وہ اٹھ کر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو فرشتہ اسے سکون سے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔ اور اگر وہ برا ہو تو فرشتہ جب اس سے پوچھتا ہے کہ تم اس آدمی کے متعلق کیا کہتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں، البتہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تھا، فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ جانا، نہ تلاوت کی اور نہ ہدایت پائی، پھر اسے جنت کا ایک دروازہ کھول کر دکھایا جاتا ہے اور فرشتہ اس سے کہتا ہے کہ اگر تم اپنے رب پر ایمان لائے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہاں ہوتا، لیکن چونکہ تم نے اس کے ساتھ کفر کیا، تم شک میں مبتلا تھے، اسی حال میں مرے اور اسی حال میں اٹھائے جاؤ گے (ان شاء اللہ) پھر اسے سزا دی جاتی ہے، اس لئے اللہ نے تمہارا ٹھکانہ یہاں سے بدل دیا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قریب المرگ آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر نیک آدمی ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس طیبہ! " جو پاکیزہ جسم میں رہا " یہاں سے نکل، قابل تعریف ہو کر نکل اور روح و ریحان کی خوشخبری قبول کر اور اس رب سے ملاقات کر جو تجھ سے ناراض نہیں، اس کے سامنے یہ جملے باربار دہرائے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی روح نکل جاتی ہے، اس کے بعد اسے آسمان پر لے جایا جاتا ہے، دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے، آواز آتی ہے کون؟ جواب دیا جاتا ہے؟ " فلاں " آسمان والے کہتے ہیں اس پاکیزہ نفس کو جو پاکیزہ جسم میں رہا، خوش آمدید! قابل تعریف ہو کر داخل ہوجاؤ اور روح و ریحان اور ناراض نہ ہونے والے رب سے ملاتات کی خوشخبری قبول کرو، یہی جملے اس سے ہر آسمان میں کہے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اسے اس آسمان پر لے جایا جاتا ہے جہاں پروردگار عالم خود موجود ہے۔ اور اگر وہ گناہگار آدمی ہو تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح " جو خبیث جسم میں رہی " نکل، قابل مذمت ہو کر نکل کھولتے ہوئے پانی اور کانٹے دار کھانے کی خوشخبری قبول کر اور اس کے علاوہ دیگر انواع و اقسام کے عذاب کی خوشخبری بھی قبول کر، اس کے سامنے یہ جملے باربار دہرائے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی روح نکل جاتی ہے، فرشتے اسے لے کر آسمانوں پر چڑھتے ہیں اور دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں، پوچھا جاتا ہے کون؟ بتایا جاتا ہے کہ " فلاں " وہاں سے جواب آتا ہے کہ اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں رہی، کوئی خوش آمدید نہیں، اسی حال میں قابل مذمت واپس لوٹ جا، تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، چنانچہ وہ آسمان سے واپس آ کر قبر میں چلی جاتی ہے۔ پھر نیک آدمی کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے وہی تمام جملے کہے جاتے ہیں جو پہلے مرتبہ کہے گئے تھے اور گناہگار آدمی کو بھی اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جاتا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25089]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25090 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو : فَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، وَاخْرُجِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ. فَلَا يَزَالُ، يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ، قَالُوا: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي مِنْهُ ذَمِيمَةً، وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ. فَمَا يَزَالُ، يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا، فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟، فَيُقَالُ: فُلَانٌ، فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً، فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ" ، فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، فَيُقَالُ لَهُ" وَيَرُدُّ مِثْلَ مَا فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ سَوَاءً." ويُجْلَسُ الرَّجُلُ السُّوءُ، فيقال له" ويَرِدُ مثلُ ما في حديث عائشة سواء.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو موصول بإسناد سابقه
الحكم: إسناده صحيح وهو موصول بإسناد سابقه
حدیث نمبر: 25091 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، دِقْرَةُ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي دِقْرَةُ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ ، قَالَتْ: كُنَّا نَطُوفُ بِالْبَيْتِ مَعَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَرَأَتْ عَلَى امْرَأَةٍ بُرْدًا فِيهِ تَصْلِيبٌ، فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ :" اطْرَحِيهِ اطْرَحِيهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَحْوَ هَذَا قَضَبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
دقرہ ام عبدالرحمن کہتی ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ طواف کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت کے جسم پر صلیب کی تصویر والی ایک چادر دیکھی، تو اسے فرمایا کہ اسے اتارو، اتارو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ایسی چیز دیکھتے تو اسے ختم کردیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25091]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25092 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبَّادَ بْنَ عبدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ عبدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ احتَرَقَ. فَسَأَلَهُ:" مَا شَأْنُهُ؟" فَقَالَ: أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، فَأَتَاهُ مِكْتَلٌ يُدْعَى الْعَرَقَ، فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ:" أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟" فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں جل گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ میں رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کر بیٹھا، (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ، وہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا) اسی اثناء میں میں ایک آدمی ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، اس کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا تھا (وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ میرا صدقہ ہے) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جل جانے والا کہاں ہے؟ وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ! میں یہاں موجود ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ لے لو اور اسے صدقہ کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1935، م: 1112
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1935، م: 1112
حدیث نمبر: 25093 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِلَى جَنْبِهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ: " لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ"، قَالتَ: فَبَيْنَا أَنَا عَلَى ذَلِكَ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلَاحِ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" قَالَ: أَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ:" مَا جَاءَ بِكَ؟"، قَالَ: جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَوْمِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جاگ رہے تھے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پہلو میں لیٹی تھیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کاش! میرے ساتھیوں میں سے کوئی نیک آدمی آج پہرہ دیتا، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ میں نے اسلحہ کے کھنکھنانے کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کون ہے؟ اس نے جواب دیا میں سعد بن مالک ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیسے آنا ہوا انہوں نے جواب دیا یارسول اللہ! آپ کی چوکیداری کے لئے آیا ہوں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے نیند کے دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2885، م: 2410
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2885، م: 2410
حدیث نمبر: 25094 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ، فَفَطَّرَتْنِي، فَكَانَتْ ابْنَةَ أَبِيهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدیئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25094]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري
الحكم: إسناده ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري
حدیث نمبر: 25095 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، وَكَانَتْ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذَا عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِحَيْضَةٍ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" ، قَالَ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہ " جو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کسی رگ کا خون ہے، دم حیض نہیں اس لئے ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو چنانچہ وہ اسی طرح کرتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 367، م: 334
الحكم: إسناده صحيح، خ: 367، م: 334
حدیث نمبر: 25096 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ: فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ معًا، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَمَنْ كَانَ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَ مناسكَ الحَجِّ، ومن أَهَلَّ بحجٍّ مُفرَدٍ لم يَحِلَّ من شيء ممّا حَرَّم الله عزَّ وجَلَّ عليه، حتي يقضيَ حَجَّه، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ وَقَصَّرَ، أَحَلَّ مِمَّا حُرِمَ مِنْهُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم تین قسموں میں منقسم تھے، ہم میں سے بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا، بعض نے صرف حج کا اور بعض نے صرف عمرے کا، سو جس شخص نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا، وہ تو اس وقت تک حلال نہیں ہوا جب تک حج کے تمام ارکان مکمل نہ کرلیے اور جس نے عمرے کا احرام باندھ کر طواف، سعی اور قصر کرلیا تھا، وہ حج کا احرام باندھنے تک حلال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25096]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1211
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1211
حدیث نمبر: 25097 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ. قَالَتْ: فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ ورائي يعني حِسَّ الأرض، قَالَتْ: فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ، يَحْمِلُ مِجَنَّهُ. قَالَتْ: فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ، قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ، فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ. قَالَتْ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ. قَالَتْ: فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: لَيْتَ قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا حَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ: فَقُمْتُ، فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً، فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ تَسْبِغَةٌ لَهُ يَعْنِي مِغْفَرًا، فَقَالَ عُمَرُ: مَا جَاءَ بِكِ؟! لَعَمْرِي وَاللَّهِ إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ، وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ بَلَاءٌ، أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ؟ قَالَتْ: فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ، فَدَخَلْتُ فِيهَا. قَالَتْ: فَرَفَعَ الرَّجُلُ السَّبْغَةَ عَنْ وَجْهِهِ، فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا عُمَرُ، وَيْحَكَ!، إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ، وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوْ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟! قَالَتْ: وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرَقَةِ، فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ، فَقَطَعَهُ، فَدَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَعْدٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ. قَالَتْ: وَكَانُوا حُلَفَاءَهُ وَمَوَالِيَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. قَالَتْ: فَرَقَأ كَلْمُهُ، وَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَكَفَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ، وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا، فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَعَهُ بِتِهَامَةَ، وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي صَيَاصِيهِمْ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَضَعَ السِّلَاحَ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ. قَالَتْ: فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَنَقْعُ الْغُبَارِ، فَقَالَ: أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ؟ وَاللَّهِ مَا وَضَعَتْ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ، اخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، فَقَاتِلْهُمْ. قَالَتْ: فَلَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأْمَتَهُ، وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَخْرُجُوا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ، وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ حَوْلَهُ، فَقَالَ:" مَنْ مَرَّ بِكُمْ؟" قَالُوا: مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ وَسِنُّهُ وَجْهُهُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام. فَقَالَتْ: فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ، قِيلَ لَهُمْ: انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ، أَنَّهُ الذَّبْحُ. قَالُوا: نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ"، فَنَزَلُوا، وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ، قَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ، وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَمْرٍو، حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ. قَالَتْ: لَا يُرْجِعُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا، وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمْ، الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: قَدْ آنَ لِي أَنْ لا أُبَالِيَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ. قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزَلُوهُ". فَقَالَ عُمَرُ: سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ: أَنْزِلُوهُ، فَأَنْزَلُوهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْكُمْ فِيهِمْ"، قَالَ سَعْدٌ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ، أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ وَقَالَ يَزِيدُ بِبَغْدَادَ: وَيُقْسَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ". قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا، فَأَبْقِنِي لَهَا، وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ. قَالَتْ: فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ، وَكَانَ قَدْ بَرِئَ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ، وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ، وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ سورة الفتح آية 29. قَالَ عَلْقَمَةُ: قُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ، فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَتْ: كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجِدَ، فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں غزوہ خندق کے موقع پر لوگوں کے نشانات قدم کی پیروی کرتے ہوئے نکلی، میں نے اپنے پیچھے زمین کے چیرنے کی آواز سنی، میں نے پلٹ کر دیکھا تو اچانک میرے سامنے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آگئے، ان کے ساتھ ان کا بھتیجا حارث بن اوس تھا جو ڈھال اٹھائے ہوئے تھا، میں زمین پر بیٹھ گئی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہاں سے گذر گئے، انہوں نے لوہے کی زرہ پہن رکھی تھی اس سے ان کے اعضاء باہر نکلے ہوئے تھے جن کے متعلق مجھے نقصان کا اندیشہ ہونے لگا، کیونکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ تمام لوگوں میں عظیم تر اور طویل تر تھے، وہ میرے قریب سے گذرتے ہوئے یہ رجزیہ شعر پڑھ رہے تھے تھوڑی دیر انتطار کرو، لڑائی اپنا بوجھ اٹھائے گی اور وہ موت کتنی اچھی ہے جو وقت مقررہ پر آجائے۔ اس کے بعد میں وہاں سے اٹھی اور ایک باغ میں گھس گئی، دیکھا کہ وہاں مسلمانوں کی جماعت موجود ہے، جس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور ان میں سے ایک آدمی کے سر پر خود بھی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ کر فرمایا تم کیوں آئی ہو؟ واللہ تم بڑی جری ہو، تم اس چیز سے کیسے بےخطر ہوگئی ہو کہ کوئی مصیبت آجائے یا کوئی تمہیں پکڑ کرلے جائے؟ وہ مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ میں تمنا کرنے لگی کہ اس وقت زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں، اسی دوران اس آدمی نے اپنے چہرے سے خود ہٹایا تو وہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ کہنے لگے ارے عمر! آج تو تم نے بہت ہی حد کردی، اللہ کے علاوہ کہاں جانا ہے اور کہاں پکڑ کر جمع ہونا ہے۔ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر مشرکین قریش میں سے ایک آدمی " جس کا نام ابن عرقہ تھا " تیر برسانے لگا اور کہنے لگا کہ یہ نشانہ روکو کہ میں ابن عرقہ ہوں، وہ تیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ گیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اس وقت تک موت نہ دیجئے گا جب تک میری آنکھیں بنو قریظہ کے معاملے میں ٹھندی نہ ہوجائیں، بنو قریظہ کے لوگ زمانہ جاہلیت میں ان کے حلیف اور آزاد کردہ غلام تھے، بہر حال! ان کا زخم بھر گیا اور اللہ نے مشرکین پر آندھی مسلط کردی اور لڑائی سے مسلمانوں کی کفایت فرمالی اور اللہ طاقتور غالب ہے۔ اس طرح ابو سفیان اور اس کے ساتھی تہامہ واپس جلے گئے، عیینہ بن بدر اور اس کے ساتھی نجد چلے گئے، بنو قریظہ واپس اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ واپس آگئے اور اسلحہ اتار کر حکم دیا کہ چمڑے کا ایک خیمہ مسجد میں سعد کے لئے لگا دیا جائے، اسی دوران حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے، غبار جن کے دانتوں پر اپنے آثار دکھا رہا تھا، وہ کہنے لگے کہ کیا آپ نے اسلحہ اتار کر رکھ دیا؟ واللہ ملائکہ نے تو ابھی تک اپنا اسلحہ نہیں اتارا، بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوجائے اور ان سے قتال کیجئے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زرہ پہنی اور لوگوں میں کوچ کی منادی کرادی اور روانہ ہوگئے۔ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر بنوغنم پر ہوا جو کہ مسجد نبوی کے آس پاس رہنے والے پڑوسی تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ ابھی تمہارے پاس سے کوئی گذر کرگیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس سے دحیہ کلبی گذر کرگئے ہیں، دراصل حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی ڈاڑھی، دانت اور چہرہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے مشابہہ تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو قریظہ کے قریب پہنچ کر اس کا محاصرہ کرلیا اور پچیس دن تک محاصرہ جاری رکھا، جب یہ محاصرہ سخت ہوا اور ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا تو انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دو، انہوں نے حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں مشورہ مانگا تو انہوں نے اشارے سے بتایا کہ انہیں قتل کردیا جائے گا، اس پر وہ کہنے لگے کہ ہم سعد بن معاذ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی یہ بات مان لی انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہیں ایک گدھے پر سوار کرکے لایا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان پڑا ہوا تھا، ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں گھیر رکھا تھا اور وہ ان سے کہہ رہے تھے کہ اے ابو عمر! یہ تمہارے ہی حلیف، آزاد کردہ غلام اور کمزور لوگ ہیں اور وہ جنہیں تم جانتے ہو، لیکن وہ انہیں کچھ جواب دے رہے تھے اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کر رہے تھے، جب وہ ان کے گھروں کے قریب پہنچ گئے تو اپنے قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اب وہ وقت آیا ہے کہ میں اللہ کے بارے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پرواہ نہ کروں، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کے لئے کھڑے ہوجاؤ انہیں سواری سے اتارو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے ک [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25097]
حکم دارالسلام
بعضه صحيح وجزء منه حسن، وهذا اسناد فيه ضعف لجهالة عمرو بن علقمة، خ: 21, 22، 41 م: 1769
الحكم: بعضه صحيح وجزء منه حسن، وهذا اسناد فيه ضعف لجهالة عمرو بن علقمة، خ: 21, 22، 41 م: 1769
حدیث نمبر: 25098 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَخْرُجُ، فَيُصَلِّي وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْبُقَعِ فِي ثَوْبِهِ مِنْ أَثَرِ الْغَسْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادہ منویہ کو دھو دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے چلے گئے تھے اور مجھے ان کے کپڑوں پر پانی کے نشانات نظر آرہے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 229، م: 289
الحكم: إسناده صحيح، خ: 229، م: 289