بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 61 از 67
حدیث نمبر: 25659 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا:" أَرَدْتِ الْحَجَّ؟". قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي"، فَقَالَ:" قُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" . وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ضاعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں کہ میں حج کرنا چاہتی ہوں لیکن میں بیمار ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم حج کے لئے روانہ ہوجاؤ اور یہ شرط ٹھہرا لو کہ اے اللہ! میں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں تو نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا اور وہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25659]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5089، م: 1207
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5089، م: 1207
حدیث نمبر: 25660 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي، فَأَضَعُ ثَوْبِي، فَأَقُولُ: إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ، فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُ إِلَّا وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي حَيَاءً مِنْ عُمَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میرے گھر کے جس کمرے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور میرے والد کی قبریں تھیں، میں وہاں اپنے سر پر دو بٹہ نہ ہونے کی حالت میں بھی چلی جاتی تھی کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ یہاں صرف میرے شوہر اور والد ہی تو ہیں، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بھی تدفین ہوئی تو واللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حیاء کی وجہ سے میں جب بھی اس کمرے میں گئی تو اپنی چادر اچھی طرح لپیٹ کر ہی گئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25660]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25661 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٌ ، وَوَكِيعٌ ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ، فَيَسُبُّ نَفْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہئے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے اور بیخبر ی میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25661]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
الحكم: إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
حدیث نمبر: 25662 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ صَفِيَّةَ، قَالُوا: حَاضَتْ، قَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟" قَالُوا: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ:" فَلَا إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25662]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
حدیث نمبر: 25663 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ"، قُلْتُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ". فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: " صَوَاحِبَ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ". فَالْتَفَتَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ، فَقَالَتْ: لَمْ أَكُنْ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے، کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، میں نے حفصہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہہ دو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو آہ و بکاء کی وجہ سے کچھ سنا نہیں پائیں گے اس لئے آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) یہ سن کر حضصہ نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ مجھے تم سے بھلائی حاصل نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25663]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 679، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 679، م: 418
حدیث نمبر: 25664 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، أَشْعَثَ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَفِي تَرَجُّلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب امکان اپنے پھر کام میں وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25664]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
الحكم: إسناده صحيح، خ: 168، م: 268
حدیث نمبر: 25665 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٌ بن عروة ، أَبِي ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ بن عروة ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَصُومُ، يَعْنِي أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کیا یا سول اللہ! میں مستقل روزے رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزے رکھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25665]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1942، م: 1121
حدیث نمبر: 25666 مسند احمد
يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، عَامِرٌ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ؟ فَقَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25666]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5263
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5263
حدیث نمبر: 25667 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، وَلَكِنْ كَانَ يَتَوَضَّأُ مِثْلَ وُضُوءِ الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو اختیار فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25667]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 288، م: 305
الحكم: إسناده صحيح، خ: 288، م: 305
حدیث نمبر: 25668 مسند احمد
يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عُمَارَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ، فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ هَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کی اولاد بھی اس کی پاکیزہ کمائی ہے لہذا ان کا مال تم رغبت کے ساتھ کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25668]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم عمارة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم عمارة
حدیث نمبر: 25669 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانُ ، وَحَمَّادٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانُ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ" . إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ قَالَ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ: فَقُلْتُ: الْجَرِّ أَوْ الْحَنْتَمِ؟ قَالَ: مَا أَنَا بِزَائِدِكَ عَلَى مَا سَمِعْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المونین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل بیت کو دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25669]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 25670 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا أَقْضِي لَهُ بِمَا يَقُولُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ، بِقَوْلِهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، فَلَا يَأْخُذْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کر دے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں، (اس لئے یاد رکھو!) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، لہذا اسے چاہئے کہ وہ نہ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25670]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6967، م: 1713
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6967، م: 1713
حدیث نمبر: 25671 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، أَشْعَثُ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَشْعَثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الدَّائِمُ مِنَ الْعَمَلِ". قَالَ: فَقُلْتُ: أَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ؟ قَالَتْ:" إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25671]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1132، م: 741
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1132، م: 741
حدیث نمبر: 25672 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ". قَالَ: قِيلَ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي، فَتَسْكُتُ؟ قَالَ:" فَهُوَ إِذْنُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، کسی نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6946، م: 1420
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6946، م: 1420
حدیث نمبر: 25673 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ. قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ ، فَكِلْتَاهُمَا قَالَتَا:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ" . فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَيَا مَرْوَانَ، فَحَدَّثَاهُ. قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَّا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَحَدَّثْتُمَاهُ، فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَاهُ، قَالَ: هُمَا قَالَتَاهُ لَكُمَا؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: هُمَا أَعْلَمُ، إِنَّمَا أَنْبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ دونوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو یہ بات فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، البتہ وہ دونوں زیادہ بہتر جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1109
الحكم: إسناده صحيح، م: 1109
حدیث نمبر: 25674 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٌ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ، فَيَغْتَسِلُ بَعْدَمَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ، ثُمَّ يُتِمُّ صِيَامَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل واجب ہوجاتا اور ان کا ارادہ روزہ رکھنے کا ہوتا تو وہ طلوع فجر کے بعد غسل کر کے اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1926، م: 1109
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1926، م: 1109
حدیث نمبر: 25675 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، عَامِرٌ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُفْتِينَا أَنَّهُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صِيَامَ لَهُ، فَمَا تَقُولِينَ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَتْ:" لَسْتُ أَقُولُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَدْ كَانَ الْمُنَادِي يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَأَرَى حَدَرَ الْمَاءِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، ثُمَّ يُصَلِّي الْفَجْرَ، ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ان کی رائے معلوم کی، انہوں نے فرمایا میں تو اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی، بعض اوقات مؤذن اذان دیتا تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان پانی بہتے ہوئے دیکھتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے اور اس دن روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25675]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر
حدیث نمبر: 25676 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا تَعْنِي إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کفارہ ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25676]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5640، م: 2572
الحكم: حديث صحيح، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 25677 مسند احمد
يَحْيَى ، أَبِي حَرَّةَ ، الْحَسَنُ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي حَرَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کو نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو نماز کا آغاز دو حفیف رکعتوں سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 382، م: 767
الحكم: إسناده صحيح، خ: 382، م: 767
حدیث نمبر: 25678 مسند احمد
يَحْيَى ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ: الْحَيَّةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الكلب" . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ:" يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25678]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198