يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، عَامِرٌ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُفْتِينَا أَنَّهُ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صِيَامَ لَهُ، فَمَا تَقُولِينَ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَتْ:" لَسْتُ أَقُولُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَدْ كَانَ الْمُنَادِي يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَأَرَى حَدَرَ الْمَاءِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، ثُمَّ يُصَلِّي الْفَجْرَ، ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے ان کی رائے معلوم کی، انہوں نے فرمایا میں تو اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتی، بعض اوقات مؤذن اذان دیتا تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان پانی بہتے ہوئے دیکھتی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے اور اس دن روزہ رکھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25675]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر