بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 3 از 67
حدیث نمبر: 24499 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَصَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَصَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ،، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَمَرَتْ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ يُمَرَّ بِهَا عَلَيْهَا، فَمُرَّ بِهَا عَلَيْهَا، فَبَلَغَهَا أَنْ قَدْ قِيلَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَتْ: مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ , وَاللَّهِ " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ نے حضرت سعد کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24499]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24500 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24500]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
حدیث نمبر: 24501 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا:" يَا عَائِشَةُ، اسْتَتِرِي مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنَّهَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَسَدَّهَا مِنَ الشَّبْعَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے عائشہ! جہنم کی آگ سے کوئی رکاوٹ تیار کرلو خواہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو، کیونکہ کھجور بھی بھوکے آدمی کو سہارا دے دیتی ہے جو سیراب آدمی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24501]
حکم دارالسلام
قوله : استري ... بشق تمرة وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لم يدرك عائشة
الحكم: قوله : استري ... بشق تمرة وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24502 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَائِشَةَ بِنْت طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْت طَلْحَةَ تَذْكُرُ، وَذُكِرَ عِنْدَهَا الْمُحْرِمُ يَتَطَيَّبُ، فَذَكَرَتْ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: " أَنَّهُنَّ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ، قَدْ اضْطَمَدْنَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ، ثُمَّ يَغْتَسِلْنَ وَهُوَ عَلَيْهِنَّ، يَعْرَقْنَ وَيَغْتَسِلْنَ لَا يَنْهَاهُنَّ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن سوید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عائشہ بنت طلحہ کے سامنے محرم کے خوشبو لگانے کا مسئلہ بیان ہو رہا تھا، انہوں نے بتایا کہ ام المومینن حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئیں، انہوں نے اپنے سر کے بال چپکا رکھے تھے اور یہ پٹی انہوں نے احرام سے پہلے باندھ رکھی تھی، پھر وہ اس پٹی کو سر پر باندھے باندھے غسل کرلیتی تھیں، انہیں پسینہ آتا تو وہ غسل کرلیتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24502]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24503 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ ، عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمَّتِهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهَا عَائِشَةُ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَيْجًا حَتَّى يَرَى غَيْمًا، فَإِذَا أَمْطَرَ ذَلِكَ الْغَيْمُ، ذَهَبَ ذَلِكَ الْهَيْجُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے پر ہیجان کے آثار کبھی نہیں دیکھے، ہاں! اگر کوئی بادل نظر آجاتا (تو اس کے آثار واضح ہوتے) اور جب وہ بادل برس جاتا تو وہ اثرات بھی ختم ہوجاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24503]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 24504 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، حُسَيْنٌ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: وَقَالَ يَحْيَى حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ، وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ، اجْتَنِبْ الْأَرْضَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا اے ابوسلمہ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24504]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2453، م: 1612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2453، م: 1612
حدیث نمبر: 24505 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ أَخُو الْعَشِيرَةِ"، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی طرف سے طرح متوجہ ہیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید بارگاہ رسالت میں اس کا بڑا اونچا مقام ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24505]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى الأحوص
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى الأحوص
حدیث نمبر: 24506 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، يُحَنَّسَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُحَنَّسَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو یہ بات معلوم ہوجاتی کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کیا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں کے لئے ضرور آتے خواہ انہیں اپنے گھٹنوں کے بل گھسٹ کے آنا پڑتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24506]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24507 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، الْأَشْعَثِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں کا استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24507]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عبدالله بن معقل مجهول ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، عبدالله بن معقل مجهول ولكن توبع
حدیث نمبر: 24508 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْأَشْجَعِيُّ ، سُفْيَانَ ، ثَوْرٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ، وَيَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24508]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، لأن خالد بن معدان لم يلق عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، لأن خالد بن معدان لم يلق عائشة
حدیث نمبر: 24509 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو سُفْيَانَ ، سُفْيَانَ ، ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَائِشَةَ
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَد: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو سُفْيَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَحَرَّى صَوْمَ شَعْبَانَ، وَصَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ شعبان اور پیر اور جمعرات کے دن کا خصوصیت کے ساتھ روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24509]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 24510 مسند احمد
هَاشِمٌ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٌ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24510]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7557، م: 1207
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7557، م: 1207
حدیث نمبر: 24511 مسند احمد
هَاشِمٌ ، اللَّيْثُ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24511]
حکم دارالسلام
راجع حديث: 4475
الحكم: راجع حديث: 4475
حدیث نمبر: 24512 مسند احمد
هَاشِمٌ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ إِذَا أُصِيبَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهَا، فَتَفَرَّقَ نِسَاءُ الْجَمَاعَةِ عَنْهَا، وَبَقِيَ نِسَاءُ أَهْلِ خَاصَّتِهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ، فَطُبِخَتْ، ثُمَّ أَمَرَتْ بِثَرِيدٍ فَيُثْرَدُ، وَصَبَّتْ التَّلْبِينَةَ عَلَى الثَّرِيدِ، ثُمَّ قَالَتْ: كُلُوا مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ التَّلْبِينَةَ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ کے اہل خانہ میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو جماعت کی عورتوں کے جانے کے بعد جب خاص ان کے گھر کی عورتیں رہ جاتیں تو وہ ایک ہانڈی چڑھانے کا حکم دیتیں جس میں دلیا پکایا جاتا، پھر ثرید بنانے کا حکم دیتیں پھر اس دلیے کو ثرید پر ڈال کر فرماتیں اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دلیا مریض کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور غم کے کچھ اثرات کو دور کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24512]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5417 م: 2216
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5417 م: 2216
حدیث نمبر: 24513 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، فَإِنَّهُمْ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ". قَالَتْ: وَلَوْلَا ذَلِكَ، أُبْرِزَ قَبْرُهُ، غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کجہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اس مرض میں " جس سے آپ جانبر نہ ہوسکے " ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24513]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1330، م: 529
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1330، م: 529
حدیث نمبر: 24514 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مُسْلِمٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا، فَاسْتَغَلَّهُ، ثُمَّ وَجَدَ أَوْ رَأَى بِهِ عَيْبًا، فَرَدَّهُ بِالْعَيْبِ، فَقَالَ الْبَائِعُ: غَلَّةُ عَبْدِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک غلام خریدا، اسے اپنے کام میں لگایا، پھر اس میں کوئی عیب نظر آیا تو بائع (بچنے والا) کو واپس لوٹا دیا، بائع (بچنے والا) کہنے لگے کہ میرے غلام نے جتنے دن کام کیا ہے اس کی مزدوری؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24514]
حکم دارالسلام
حديث حسن، مسلم إن كان ضعيفاً ولكن تابعه غير واحد
الحكم: حديث حسن، مسلم إن كان ضعيفاً ولكن تابعه غير واحد
حدیث نمبر: 24515 مسند احمد
هَاشِمٌ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ ، عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيِّ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: أُتِيتُ بِسَارِقٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ خَالَتِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنْ لَا تَعْجَلَ فِي أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ، حَتَّى آتِيَكَ، فَأُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مَنْ عَائِشَةَ فِي أَمْرِ السَّارِقِ. قَالَ: فَأَتَتْنِي وَأَخْبَرَتْنِي، أنها سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْطَعُوا فِي رُبُعِ الدِّينَارِ، وَلَا تَقْطَعُوا فِيمَا هُوَ أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ" وَكَانَ رُبُعُ الدِّينَارِ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ، وَالدِّينَارُ اثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا. قَالَ: وَكَانَتْ سَرِقَتُهُ دُونَ رُبُعِ الدِّينَارِ، فَلَمْ أَقْطَعْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن غسانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، تو ابوبکر بن محمد بن عمرہ رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی جو اس زمانے میں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک چور لایا گیا تو مجھے میری خالہ عمرہ بنت عبدالرحمن نے یہ پیغام بھجوایا کہ میرے آنے تک اس شخص کے معاملے میں عجلت نہ کر، میں تمہیں آکر بتاتی ہوں کہ چور کے حوالے سے میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کیا حدیث سنی ہے، چنانچہ وہ آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوتھائی دینار چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹ دیا کرو، لیکن اس سے کم میں نہ کاٹا کرو، اس زمانے میں چوتھائی دینار تین درہم کے برابر تھا اور ایک دینار بارہ درہم کے ہوتا تھا اور اس نے جو چوری کی تھی وہ چوتھائی دینار سے کم تھی لہٰذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24515]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6789، م: 1684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6789، م: 1684
حدیث نمبر: 24516 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، يَحْيَى ، سَالِمٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى دَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ , تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24516]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24517 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24517]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 619، م: 724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 619، م: 724
حدیث نمبر: 24518 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قِيلَ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، رُؤِيَ هَذَا الشَّهْرُ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ! قَالَتْ: وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْ ذَاكَ، لَمَا " صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کہ اے ام المومنین! اس دفعہ تو چاند ٢٩ ویں تاریخ کو ہی نظر آگیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ٣٠ سے زیادہ ٢٩ کے روزے رکھے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح