بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 12 از 67
حدیث نمبر: 24679 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ، فَقِيلَ لَهَا: مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ؟ فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ" فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24679]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن محمد بن على لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24680 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا تَصَدَّقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، كَانَ لَهَا بِهِ أَجْرٌ، وَلِلزَّوْجِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا يَنْقُصُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ أَجْرِ صَاحِبِهِ شَيْئًا، لِلزَّوْجِ بِمَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24680]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، راجع: 24171
الحكم: حديث صحيح، راجع: 24171
حدیث نمبر: 24681 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يَغْتَسِلُ، ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ" ، فَأَخْبَرْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بِقَوْلِهَا، فَقَالَ لِي: أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ. فَقُلْتُ: إِنَّهُ لِي صَدِيقٌ، فَأُحِبُّ أَنْ تُعْفِيَنِي، فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ إِلَيْهِ. فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهَا، فَقَالَ عَائِشَةُ: إِذَنْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن کے روزے کی نیت فرمالیتے تھے، میں نے مروان بن حکم کو یہ حدیث سنائی تو اس نے مجھ سے کہا کہ حضرت عائشہ کی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کر آؤ، میں نے اس سے کہا کہ وہ میرے دوست ہیں، آپ مجھے اس سے معاف ہی رکھیں تو بہتر ہے، اس نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ان کے پاس ضرور جاؤ، چنانچہ میں اور مروان حضرات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوگئے اور انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24681]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 24682 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ، أَوْ أَضْحًى، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ عِيدَنَا هَذَا الْيَوْمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن حضرت صدیق اکبر ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر نے انہیں ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3931، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3931، م: 892
حدیث نمبر: 24683 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" كَانَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ، فَتَجِيءُ عَائِشَةُ، فَيُخْرِجُ رَأْسَهُ، فَتُرَجِّلُهُ وَهِيَ حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 301، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 301، م: 297
حدیث نمبر: 24684 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُصَيْنٍ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَخْبِرِينِي بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمَنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کثرت سے یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میں نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2716
الحكم: إسناده صحيح، م: 2716
حدیث نمبر: 24685 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثرت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4293، م: 484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4293، م: 484
حدیث نمبر: 24686 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَمْرَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَمْرَةُ أَعْطِنِي قِطْعَةً مِنْ أَرْضِكَ أُدْفَنْ فِيهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ: " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ مِثْلُ كَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ" . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، يُحَدِّثُهُ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی تو ڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24686]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 24687 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، أَوْ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، أَقُولُ: يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 24688 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، بُدَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ، فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ، أَوْ خَشَعَ، قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24688]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 24689 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، سُلَيْمَانَ بْنَ مَرْثَدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَزْيَدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24689]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن سليمان ابن مرثد لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لأن سليمان ابن مرثد لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 24690 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، خَيْثَمَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَمِعْتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَبَّتْ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24690]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24691 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَقَرَّ وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وتر پہنچے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24691]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 996، م: 745
الحكم: إسناده صحيح، خ: 996، م: 745
حدیث نمبر: 24692 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " لَمَّا أُنْزِلَتْ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ، فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " ہیں نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد کی طرف روانہ ہوئے، ان کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24692]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4541
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4541
حدیث نمبر: 24693 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، الدَّرَاوَرْدِيُّ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ: هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ الْعَذْبُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24693]
حکم دارالسلام
إسناده جيد محتمل للتحسين
الحكم: إسناده جيد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 24694 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ" وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ:" وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور تیسرے مجنون یہاں تک کہ اپنے ہوش و حواس میں آجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24694]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه شيئ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه شيئ
حدیث نمبر: 24695 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، ثَابِتٍ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ أَخْبَرَنِي، عَنْ ثَابِتٍ ، قالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ"، قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ؟ قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24695]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 298
الحكم: إسناده صحيح، م: 298
حدیث نمبر: 24696 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، الْحَسَنُ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: " أَمَّا فِي مَوَاطِنَ ثَلَاثَةٍ فَلَا: الْكِتَابُ، وَالْمِيزَانُ، وَالصِّرَاطُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن آپ اپنے اہل خانہ کو یاد رکھیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین جگہوں پر نہیں، حساب کتاب کے موقع پر، میزان عمل کے پاس اور پل صراط پر۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24696]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن الحسن لم يسمع من عائشة، والقاسم من الحسن
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن الحسن لم يسمع من عائشة، والقاسم من الحسن
حدیث نمبر: 24697 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، الْحَسَنُ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ: يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ سورة إبراهيم آية 48 أَيْنَ النَّاسُ؟ قَالَ: " إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي قَبْلَكِ، النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اس آیت یوم تُبدَ لُ الارضُ غَیرَ الاَرضِ۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر اور یہ ایسا سوال ہے جو تم سے پہلے میری امت میں سے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24697]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، راجع: 24069
الحكم: حديث صحيح، راجع: 24069
حدیث نمبر: 24698 مسند احمد
عَفَّانُ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا" قَالَ بِشْرٌ: هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يُلْبَسُ تَحْتَ الدِّثَارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے " شعار " میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے، بشر کہتے ہیں کہ " شعار " سے مراد وہ کپڑا ہے جو جسم پر اوپر والے کپڑے کے نیچے پہنا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24698]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع