بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 44 از 67
حدیث نمبر: 25319 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَرَوْحٌ ، حَنْظَلَةُ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَرَوْحٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ. قَالَ رَوْحٌ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ عَشْرَ رَكَعَاتٍ، يُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، فَتِلْكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رات کو نماز گیارہ رکعتوں پر مشتمل ہوتی تھی اور ایک رکعت پر وتر بناتے تھے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1140، م: 738
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1140، م: 738
حدیث نمبر: 25320 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَنْظَلَةُ ، ابْنِ سَابِطٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَبْطَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا حَبَسَكِ يَا عَائِشَةُ؟" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ، قَالَ: فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچنے میں تاخیر ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! تمہیں کس چیز نے رکے رکھا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مسجد میں ایک آدمی تھا، میں نے اس سے اچھی تلاوت کرنے والا نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں گئے تو دیکھا کہ وہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یا اللہ کا شکر جس نے میری امت میں تم جیسا آدمی بنایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25320]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره
الحكم: حديث حسن لغيره
حدیث نمبر: 25321 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشُ ، رَجُلٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ وَصَلَاتِهِ، وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25321]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه و شاهده، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن مسروق
الحكم: حديث حسن بطرقه و شاهده، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن مسروق
حدیث نمبر: 25322 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ ابْنَةِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ابْنَةِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَى النِّسَاءِ مِنْ جِهَادٍ؟ قَالَ: " نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا عورتیں پر بھی جہاد فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں قتال نہیں ہے یعنی حج اور عمرہ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25322]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2875
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 25323 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیص اور عمامہ نہ تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25323]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1271، م: 941
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1271، م: 941
حدیث نمبر: 25324 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ذَكْوَانُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ ذَكْوَانُ مَوْلَى عَائِشَةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُسْتَأْمَرُ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّهَا تَسْتَحِي، فَتَسْكُتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، میں نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25324]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6946، م: 1420
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6946، م: 1420
حدیث نمبر: 25325 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: " حَسْبُكُنَّ الْحَجُّ، أَوْ جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا جہاد حج ہی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25325]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2875
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 25326 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، ابْنَ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أُنْكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثًا وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ اشْتَجَرُوا، فَإِنَّ السُّلْطَانَ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہوجائے گا اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25326]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سليمان
حدیث نمبر: 25327 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَيْءٍ أَسْرَعَ مِنْهُ إِلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَلَا إِلَى غَنِيمَةٍ يَطْلُبُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی چیز کی طرف اور کسی غنیمت کی تلاش میں اتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا نماز فجر سے پہلے دو رکعتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25327]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حكيم بن جبير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حكيم بن جبير
حدیث نمبر: 25328 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجِهَادِ؟ فَقَالَ: " بِحَسْبِكُنَّ الْحَجُّ، أَوْ قَالَ: جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا جہاد حج ہی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25328]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2875
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2875
حدیث نمبر: 25329 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا". قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ؟ قَالَتْ:" كَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق مروی ہے کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25329]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25330 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25331 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَتْ لِي: " رُبَّمَا اغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ" . قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالتِ جنابت میں سوجاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا بعض اوقات سونے سے پہلے غسل کرلیتے تھے اور بعض اوقات غسل سے پہلے سوجاتے تھے البتہ وضو کرلیتے تھے، میں نے کہا اس اللہ کا شکر ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25331]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 307
الحكم: إسناده صحيح، م: 307
حدیث نمبر: 25332 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ يَذْكُرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابهِ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا، فَأَخَذَتْهَا، فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، ثُمَّ قَامَتْ، فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، كُنَّ سِتْرًا لَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس وقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25332]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح بإثبات عبدالله بن أبى بكر، خ: 1418، م: 2629
الحكم: إسناده صحيح بإثبات عبدالله بن أبى بكر، خ: 1418، م: 2629
حدیث نمبر: 25333 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِأَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ مِنْ بَيْنِ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ، الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشی صحن میں کرتب دکھا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے وہ کرتب دکھانے کے لئے اپنی چادر سے پردہ کرنے لگے، میں ان کے کانوں اور کندھے کے درمیان سر رکھے ہوئے تھی، پھر وہ میری وجہ سے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی واپس چلی گیئں، اب تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ایک نوعمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25333]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5190، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5190، م: 892
حدیث نمبر: 25334 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَلْعَبُ بِاللُّعَبِ، فَيَأْتِينِي صَوَاحِبِي، فَإِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَرْنَ مِنْهُ، فَيَأْخُذُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَرُدُّهُنَّ إِلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی، میری سہیلیاں آ جاتیں اور میرے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوجاتیں اور جونہی وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آتے ہوئے دیکھتیں تو چھپ جاتیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں پھر میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25334]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6130، م: 2440
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6130، م: 2440
حدیث نمبر: 25335 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ مِنْهُ بِالْمُعَوِّذَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں " معوذات " پڑھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25335]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5735، م: 2192
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5735، م: 2192
حدیث نمبر: 25336 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْغَيْثَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بارش برستے ہوئے دیکھتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ! خوب موسلا دھار اور خوشگوار بنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25336]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25337 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم: " نِمْتُ، فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَلِكَ الْبِرُّ، كَذَلِكَ الْبِرُّ" . وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی آواز سنائی دی، میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہیں، تمہارے نیک لوگ اسی طرح کے ہوتے ہیں نیک لوگ اسی طرح ہوتے ہیں اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25337]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25338 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَرَضٍ، أَوْ وَجَعٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِذَنْبِهِ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، أَوْ النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت یا بیماری پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25338]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572