بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 28 از 67
حدیث نمبر: 24999 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24999]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، واختلف فى سماع عبدالله من عائشة، خ: 1950، م: 1146
الحكم: حديث صحيح، واختلف فى سماع عبدالله من عائشة، خ: 1950، م: 1146
حدیث نمبر: 25000 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيذِ؟ فَقَالَتْ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ وَالْحَنْتَمِ". وَدَعَتْ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً، فَقَالَتْ لِي: سَلْ هَذِهِ، فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ أُوكِئُهُ وَأُعَلِّقُهُ، فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ. قَالَتْ: كُنْتُ أَنْبِذُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثمامہ بن حزن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دباء نقیر، مقیر اور حنتم میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا، پھر انہوں سے ایک حبشی باندی کو بلایا اور فرمایا اس سے پوچھ لو، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی۔ اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت ایک مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے نبیذ بناتی تھی اور اس کا دہانہ باندھ کر لٹکا دیتی تو جب صبح ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25000]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1990
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1990
حدیث نمبر: 25001 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ، قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی مریض لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25001]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5675، م: 2191
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5675، م: 2191
حدیث نمبر: 25002 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، شُمَيْسَة ، عَائِشَةَ ، عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، شُمَيْسَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ شُمَيْسَة ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ، فَاعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ، وَفِي إِبِلِ زَيْنَبَ فَضْلٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَعِيرًا لِصَفِيَّةَ اعْتَلَّ، فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكِ". فَقَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ. قَالَ: فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ، شَهْرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، لَا يَأْتِيهَا، قَالَتْ: حَتَّى يَئِسْتُ مِنْهُ وَحَوَّلْتُ سَرِيرِي. قَالَتْ: فَبَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا بِنِصْفِ النَّهَارِ، إِذَا أَنَا بِظِلِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ . قَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنِيهِ حَمَّادٌ ، عَنْ شُمَيْسَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ عَنْ شُمَيْسَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وقَالَ بَعْدُ: فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ. قَالَ: وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے، دوران سفر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیمار ہوگیا، حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے پاس اونٹ میں گنجائش موجود تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صفیہ کا اونٹ بیمار ہوگیا ہے، اگر تم انہیں اپنا ایک اونٹ دے دو تو ان کے لئے آسانی ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں گی؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ذوالحجہ اور محرم دو ماہ یا تین ماہ تک چھوڑے رکھا، ان کے پاس جاتے ہی نہ تھے۔ وہ خود کہتی ہیں کہ بالآخر میں ناامید ہوگئی اور اپنی چارپائی کی جگہ بدل لی، اچانک ایک دن نصف النہار کے وقت مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سایہ سامنے سے آتا ہوا محسوس ہوا (اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے راضی ہوگئے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25002]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة شميسة ولتردد حماد بين وصله وإرساله
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة شميسة ولتردد حماد بين وصله وإرساله
حدیث نمبر: 25003 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً سَوْدَاءَ مِنْ صُوفٍ، فَذَكَرَ سَوَادَهَا وَبَيَاضَهُ، فَلَبِسَهَا، فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ، قَذَفَهَا، وَكَانَ يُحِبُّ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی۔ اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کو بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25004 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ... سورة آل عمران آية 7 حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا، قَالَ: " قَدْ سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاحْذَرُوهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی " اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں۔ ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں "۔۔۔۔۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
حدیث نمبر: 25005 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا:" فِي أَيِّ يَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: فِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ. فَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، إِنِّي لَا أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ. قَالَ: فَفِيمَ كَفَّنْتُمُوهُ؟ قَالَتْ: فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: انْظُرِي ثَوْبِي هَذَا، فِيهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٌ، فَاغْسِلِيهِ وَاجْعَلِي مَعَهُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا أَبَتِ هُوَ خَلِقٌ. قَالَ: إِنَّ الْحَيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ، وَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَعْطَاهُمْ حُلَّةً حِبَرَةً، فَأُدْرِجَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَخْرَجُوهُ مِنْهَا، فَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ. قَالَ: فَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ الْحُلَّةَ، فَقَالَ: لَأُكَفِّنَنَّ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَسَّ جِلْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ وَاللَّهِ لَا أُكَفِّنُ نَفْسِي فِي شَيْءٍ مَنَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفَّنَ فِيهِ. فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ، وَدُفِنَ لَيْلًا، وَمَاتَتْ عَائِشَةُ، فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے بتایا پیر کا دن ہے، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے فرمایا پھر مجھے بھی آج رات تک یہی امید ہے، انہوں نے پوچھا کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کس چیز میں کفن دیا تھا، ہم نے بتایا تین سفید یمنی سحولی چادروں میں، جن میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا، وہ کہتی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک کپڑا تھا جس پر گیرو کے رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے اس کپڑے کو دھو دینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملا کر مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، ہم نے عرض کیا کہ ہم سارے کپڑے ہی نئے کیوں نہ لے لیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں، یہ تو کچھ دیر کے لئے ہوتے ہیں اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک دھاری دار یمنی چادر دی، جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لپیٹ دیا گیا، پھر لوگوں نے وہ چادر نکال کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین چادروں میں کفن دے دیا، عبداللہ نے اپنی چادر لے لی اور کہنے لگے میں اس چادر کو اپنے کفن میں شامل کرلوں گا جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسم لگا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد ان کی رائے یہ ہوئی کہ میں اس چیز کو اپنے کفن میں شامل نہیں کروں گا جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کفن میں شامل نہیں ہونے دی، بہرحال! وہ منگل کی رات کو انتقال کرگئے اور راتوں رات ہی ان کی تدفین بھی ہوگئی، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے انہیں بھی رات ہی کو دفن کیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 941
الحكم: إسناده صحيح، خ: 941
حدیث نمبر: 25006 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، أَبِي عُذْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ ، قَالَ: وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَآزِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبند کے ساتھ حمام میں جاسکتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25006]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى عذرة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى عذرة
حدیث نمبر: 25007 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ , أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ:" جَعَلْتُمُونَا بِمَنْزِلَةِ الْكَلْبِ وَالْحِمَارِ! لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا تَحْتَ كِسَائِي بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْنَحَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ تَحْتِ الْقَطِيفَةِ انْسِلَالًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ تم لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان چادر اوڑھ کر لیٹی ہوتی تھی اور ان کے سامنے سے گذرنے کو ناپسند کرتی تھی لہٰذا چادر کے نیچے سے کھسک جاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25007]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25008 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَذْهَبُ، فَيُصَلِّي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جا کر انہی کپڑوں میں نماز پڑھا دیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25008]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حماد متابع
الحكم: حديث صحيح، حماد متابع
حدیث نمبر: 25009 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَة ، يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَة ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب صبح ہوجاتی تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25009]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6310، م: 736
الحكم: حديث صحيح، خ: 6310، م: 736
حدیث نمبر: 25010 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، الْمُفَضَّلُ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا، فَلَمْ تَجِدْهُ، فَقَالَتْ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ نَأْكُلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ؟" قَالَتْ: لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ"، فَسَكَبَتْ، فَقَالَ:" نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ"، فَفَعَلَتْ، فَقَالَ:" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ، فَسَكَبَتْ، فَنَاوِلِي عَائِشَةَ"، فَنَاوَلَتْهَا، فَشَرِبَتْ، ثُمَّ قَالَ:" اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ"، فَسَكَبَتْ، فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَرِبَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ أَسْلَمْ، وَأَبْرَدَهَا عَلَى الْكَبِدِ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ؟ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ، هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا، وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ، وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا، فَلَيْسُوا الْأَعْرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سنبلہ بارگاہ نبوت میں دودھ کا ہدیہ لے کر حاضر ہوئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں موجود نہ تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیہاتیوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور فرمایا اے ام سنبلہ! یہ تمہارے ساتھ کیا چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! دودھ ہے، جو میں آپ کے لئے ہدیہ لائی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام سنبلہ! اسے نکالو، انہوں نے نکالا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ ابوبکر کو دو، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، دوسری مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے ڈالنے کو کہا، پھر تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو انڈیل کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرمانے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ اسلم کا دودھ نوش فرما رہے تھے اور وہ جگر کو ٹھندک بخش رہا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یارسول اللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے دیہاتیوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! یہ لوگ گنوار نہیں ہیں، یہ تو ہمارا دیہات ہیں اور ہم ان کا شہر ہیں، جب انہیں بلایا جائے تو یہ لبیک کہتے ہیں، یہ گنوار نہیں ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25010]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عبدالرحمن بن حرملة
الحكم: إسناده حسن من أجل عبدالرحمن بن حرملة
حدیث نمبر: 25011 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَبُو زُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت نامی برتنوں کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5595، م: 1995
حدیث نمبر: 25012 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي حَازِمٍ ، مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ يَسْتَطِيبُ بِهِنَّ، فَإِنَّهُنَّ تُجْزِئُ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لئے جائے تو اسے تین پتھروں سے استنجاء کرنا چاہیے کیونکہ تین پتھر اس کی طرف سے کفایت کرجاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25012]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن قرط
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مسلم بن قرط
حدیث نمبر: 25013 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ الْخُلُقِ دَرَجَةَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پالیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25013]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لم يدرك عائشة
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، المطلب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25014 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ : أَمَرَتْ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ تَمُرَّ عَلَيْهَا فِي الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَهَا أَنْ قِيلَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَتْ:" مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى الْقَوْلِ وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں جب حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال ہوا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا کہ ان کا جنازہ ان کے پاس سے گذارا جائے، مسجد میں جنازہ آنے کی وجہ سے دشواری ہونے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی، بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا لوگ باتیں بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ ہی مسجد میں پڑھائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25014]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، صالح بن عجلان توبع
الحكم: حديث صحيح، صالح بن عجلان توبع
حدیث نمبر: 25015 مسند احمد
النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرمالیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25015]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل النضر بن إسماعيل
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل النضر بن إسماعيل
حدیث نمبر: 25016 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ بَهْزٌ: إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَبَسَطَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيَّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ ضَرَبْتُ، أَوْ آذَيْتُ، فَلَا تُعَاقِبْنِي بِهِ" . قَالَ بَهْزٌ: فِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے، قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذا پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25016]
حکم دارالسلام
ضعيف بهذه السياقة، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: ضعيف بهذه السياقة، ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 25017 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَقِفَ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ، وَأَذِنَ لِي، وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ حَتَّى يَقِفَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کاش! میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منیٰ میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کرلیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت لے رکھی تھی؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
حدیث نمبر: 25018 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت صرف نیزہ بازی اور طاعون سے ہلاک ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25018]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد