بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 6 از 67
حدیث نمبر: 24559 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" وَاللَّهِ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ"، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضُ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں یہ نماز پڑھ لیتی ہوں، نیز فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24559]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
حدیث نمبر: 24560 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِذَهَبٍ كَانَتْ عِنْدَنَا فِي مَرَضِهِ، قَالَتْ: فَأَفَاقَ، فَقَالَ:" مَا فَعَلْتِ؟" قَالَتْ: لَقَدْ شَغَلَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْكَ. قَالَ:" فَهَلُمِّيهَا"، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهَا إِلَيْهِ سَبْعَةَ أَوْ تِسْعَةَ، أَبُو حَازِمٍ يَشُكُّ، دَنَانِيرَ، فَقَالَ حِينَ جَاءَتْ بِهَا: " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ، وَمَا تُبْقِي هَذِهِ مِنْ مُحَمَّدٍ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا کہ وہ سونا خرچ کردوں جو ہمارے پاس موجود تھا، افاقہ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ سات سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جب کہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24560]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 24561 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، أَبُو حَازِمٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ . قَالَ حُسَيْنٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ يَمُرُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ وَهِلَالٌ وَهِلَالٌ، مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ نَارٌ"، قُلْتُ: يَا خَالَةُ، عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ؟ قَالَتْ: عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ، التَّمْرِ وَالْمَاءِ قَالَ حُسَيْنٌ: إِنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ: إِنَّهُ كَانَ يَمُرُّ بِنَا هِلَالٌ وَهِلَالٌ، مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ، فَقُلْتُ: يَا خَالَةُ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات ہم پر کئی کئی مہینے اس حال میں گذر جاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا خالہ جان! پھر آپ لوگ کس طرح گذارہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24561]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
الحكم: حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
حدیث نمبر: 24562 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 383، م: 512
حدیث نمبر: 24563 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُسْتَتِرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ، فَهَتَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو اسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو مكرر الحديث: 24556
الحكم: إسناده صحيح، وهو مكرر الحديث: 24556
حدیث نمبر: 24564 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَتَّكِئَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَأَغْسِلُ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَسَائِرُ جَسَدِهِ فِي الْمَسْجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں اپنے حجرے میں ہوتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سارا جسم مسجد میں ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24564]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح، خ: 301، م: 297
الحكم: إستاده صحيح، خ: 301، م: 297
حدیث نمبر: 24565 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبُو عُبَيْدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَقَدْ نَفِسْتُ وَأَنَا مُنَكِّسَةٌ، فَقَالَ لِي:" أَنَفِسْتِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا أَحْسِبُ النِّسَاءَ خُلِقْنَ إِلَّا لِلشَّرِّ، فَقَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ ابْتُلِيَ بِهِ نِسَاءُ بَنِي آدَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام " سرف " میں میرے پاس تشریف لائے، مجھے اس وقت ایام شروع ہوگئے تھے اور میں سر لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہارے ایام شروع ہوگئے؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! اور میرا تو خیال ہے کہ عورتوں کو شر کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں بنی آدم کی ساری عورتیں ہی مبتلا ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24565]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإرساله، لأن أبا عبيد لم يدرك عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله، لأن أبا عبيد لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 24566 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَتْ إِحْدَانَا عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَ مِنْ آخِرِ كَلَامٍ كَلَّمَهُ، أَنْ ضَرَبَ مَنْكِبَهُ، وَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، يَا عُثْمَانُ، إِنَّ اللَّهَ عَسَى أَنْ يُلْبِسَكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ، فَلَا تَخْلَعْهُ حَتَّى تَلْقَانِي" ثَلَاثًا فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ كَانَ هَذَا عَنْكِ؟ قَالَتْ: نَسِيتُهُ وَاللَّهِ فَمَا ذَكَرْتُهُ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمْ يَرْضَ بِالَّذِي أَخْبَرْتُهُ حَتَّى كَتَبَ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ اكْتُبِي إِلَيَّ بِهِ، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ بِهِ كِتَابًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عثمان غنی کو بلا بھیجا، وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس گفتگو کے آخر میں حضرت عثمان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیض پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا، حضرت نعمان کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اے ام المومنین! اب تک یہ بات آپ نے کیوں ذکر نہیں فرمائی؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں یہ بات بھول گئی تھی، مجھے یاد ہی نہیں رہی تھی، وہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہ روایت حضرت امیر معاویہ کو سنائی لیکن وہ صرف میرے کہنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ام المومنین کو خط لکھا کہ مجھے یہ لکھ کر بھجوا دیجئے، چنانچہ انہوں نے وہ حدیث ایک خط میں لکھ کر حضرت معاویہ کو بھیج دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 24567 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَمَّنْ ، مَكْحُولًا ، مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَمَّنْ سَمِعَ مَكْحُولًا يُحَدِّثُ , عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَمَشَى حَافِيًا وَنَاعِلًا، وَانْصَرَفَ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر بھی پانی پیا ہے اور بیٹھ کر بھی، برہنہ پاؤں بھی چلے ہیں اور جوتے پہن کر بھی اور دائیں جانب سے بھی واپس آئے ہیں اور بائیں جانب سے بھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24567]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: ومشي حافيا وناعلا ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن مكحول، ولا نقطاعه بين مكحول ومسروق
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: ومشي حافيا وناعلا ، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن مكحول، ولا نقطاعه بين مكحول ومسروق
حدیث نمبر: 24568 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، أَبِي ، مُحَمَّدٌ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ , قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبِي : قَالَ مُحَمَّدٌ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْوَزَغِ: " فُوَيْسِقٌ". وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھپکلی کو " فویسق " (نقصان دہ) قرار دیا ہے، لیکن میں نے انہیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1831
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1831
حدیث نمبر: 24569 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّهْرِيِّ : عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چیل، چوہا، باؤلا، کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24569]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 24570 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قالَ: فَحَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ , وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ؟ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسُوا بِشَيْءٍ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيُقِرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِئَةِ كَذْبَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے " کاہنوں " کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! بعض اوقات وہ جو بات بتاتے ہیں وہ سچ ثابت ہوجاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سچ ثابت ہونے والی وہ بات کسی جن نے فرشتوں سے سن کر اچک لی ہوتی ہے، پھر وہ اپنے موکل کے کان میں مرغے کی آواز کی طرح اس ڈال دیتا ہے جس میں وہ کاہن سو سے بھی زیادہ جھوٹ ملا کر آگے بیان کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7561، م: 2228
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7561، م: 2228
حدیث نمبر: 24571 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ، فَكَبَّرَ، وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَكَبَّرَ، وَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ، وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ. ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ" ، وَكَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ مِثْلَ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: فَإِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ بِالْمَدِينَةِ، لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ! فَقَالَ أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مصلیٰ پر پہنچ کر نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبار کھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی زندگی اور موت سے گہن نہیں لگتا، اس لئے جب ایسا ہو تو فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24571]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1046، م: 902
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1046، م: 902
حدیث نمبر: 24572 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا، فَأَخَذَتْهَا، فَشَقَّتْهَا بِاثْنَيْنِ بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، ثُمَّ قَامَتْ، فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24572]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2629
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2629
حدیث نمبر: 24573 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا اللہ تعالیٰ کفارہ فرما دیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24573]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5640، م: 2572
حدیث نمبر: 24574 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشُ، هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ"، فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا نَرَى .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ عائشہ! حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَعَلَیِہ السَلاَمُ وَرَحمَۃ اللَہِ اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کچھ دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6201، م: 2447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6201، م: 2447
حدیث نمبر: 24575 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا، فَأَذِنَ لَهَا، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْ بُنَيَّةُ، أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟" فَقَالَتْ: بَلَى، فَقَالَ:" فَأَحِبِّي هَذِهِ"، لِعَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَامَتْ فَاطِمَةُ فَخَرَجَتْ، فَجَاءَتْ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَتْهُنَّ بِمَا قَالَتْ، وَبِمَا قَالَ لَهَا، فَقُلْنَ لَهَا: مَا أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ، فَارْجِعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام: وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا. فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، فَاسْتَأْذَنَتْ، فَأَذِنَ لَهَا، فَدَخَلَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْسَلُنَنِي إِلَيْكَ أَزْوَاجُكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ وَقَعَتْ بِي زَيْنَبُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَطَفِقْتُ أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى يَأْذَنُ لِي فِيهَا، فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ، قَالَتْ: فَوَقَعْتُ بِزَيْنَبَ، فَلَمْ أَنْشَبْهَا أَنْ أَفْحَمْتُهَا، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات نے حضرت فاطمہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ ان کی چادر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آئی اور کہنے لگیں یارسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پیاری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کروگی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ کے متعلق فرمایا کہ پھر ان سے بھی محبت کرو، یہ سن کہ حضرت فاطمہ کھڑی ہوئیں اور واپس چلی گئیں اور ازواج مطہرات کو اپنے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان ہونے والی گفتگو بتادی، جسے سن کر انہوں نے کہا آپ ہمارا کوئی کام نہ کرسکیں، آپ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جایئے تو حضرت فاطمہ نے کہا واللہ اب میں اس سے معاملے میں ان سے بھی بات نہیں کروں گی۔ پھر ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا، انہوں نے اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں تو انہوں نے بھی کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر حملے شروع کردیئے (طعنے) میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتی رہی کہ کیا وہ مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہوگیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہوگیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینا شروع کیا اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک انہیں خاموش نہیں کرا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دوران مسکراتے رہے، پھر فرمایا یہ ہے بھی تو ابوبکر کی بیٹی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2581، م: 2442
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2581، م: 2442
حدیث نمبر: 24576 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24576]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 24577 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ، كَانَتْ تِلْكَ صَلَاتَهُ، يَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُنَادِي لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھا نے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 626، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 626، م: 736
حدیث نمبر: 24578 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ". قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ، حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے تھے اے اللہ! عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، مسیح دجال اور زندگی اور موت کے فتنے سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں گناہوں اور تاوان سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا یارسول اللہ! آپ اتنی کثرت سے تاوان سے پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان پر جب تاوان آتا ہے (اور وہ مقروض ہوتا ہے) تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24578]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 832، م: 589
الحكم: إسناده صحيح، خ: 832، م: 589