عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" وَاللَّهِ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ"، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضُ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں یہ نماز پڑھ لیتی ہوں، نیز فرمایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24559]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718