بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 40 از 67
حدیث نمبر: 25239 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گوشہ نشینی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25239]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25240 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ :" أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ، جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُسْمِعُنِي ذَلِكَ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ جَلَسَ حَتَّى أَقْضِيَ سُبْحَتِي لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عروہ سے فرمایا کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے تعجب نہیں ہوتا؟ وہ آئے اور میرے حجرے کی جانب بیٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے حدیثیں بیان کرنے لگے اور میرے کانوں تک اس کی آواز آتی رہی، میں اس وقت نوافل پڑھ رہی تھی، وہ میرے نوافل ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے، اگر میں انہیں ان کی جگہ پر پا لیتی تو انہیں بات پلٹا کر ضرور سمجھاتی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25241 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ، إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْتَرَ مِنْهَا، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِنَّهُمَا يَقْتُلَانِ الصَّبِيَّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَيُغَشِّيَانِ الْأَبْصَارَ، مَنْ تَرَكَهُمَا، فَلَيْسَ مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے ان سانپوں کے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں اور جو شخص ان سانپوں کو چھوڑ دے ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25241]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: اقتلوا الحيات كلهن وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: حديث صحيح دون قوله: اقتلوا الحيات كلهن وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 25242 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25242]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 25243 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ شَيْطَانٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انتہائی کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25243]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ليث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ليث
حدیث نمبر: 25244 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَدِيثًا، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ الْحَدِيثُ حَدِيثَ خُرَافَةَ؟ فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ؟ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ، أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَكَثَ فِيهِنَّ دَهْرًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ، فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنَ الْأَعَاجِيبِ، فَقَالَ النَّاسُ: حَدِيثُ خُرَافَةَ" . قَالَ أَبِي: أَبُو عَقِيلٍ هَذَا ثِقَةٌ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازوج مطہرات کو رات کے وقت ایک کہانی سنائی ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو خرافہ جیسی کہانی معلوم ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ " خرافہ " کون تھا؟ خرافہ بنو عذرہ کا ایک آدمی تھا جسے زمانہ جاہلیت میں ایک جن نے قید کرلیا تھا اور وہ آدمی ایک طویل عرصے تک ان میں رہتا رہا، پھر وہ لوگ اسے انسانوں میں چھوڑ گئے اور اس نے وہاں جو تعجب خیز چیزیں دیکھی تھیں، وہ لوگوں سے بیان کیا کرتا تھا، وہاں سے لوگوں نے مشہور کردیا کہ " خرافہ کی کہانی ہے " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25244]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد ابن سعيد وللاختلاف عليه فى وصله وإرساله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد ابن سعيد وللاختلاف عليه فى وصله وإرساله
حدیث نمبر: 25245 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، دَوُادُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، مَنْصُورٌ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا دَوُادُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ: التَّمْرِ وَالْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5383، م: 2975
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5383، م: 2975
حدیث نمبر: 25246 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، دَاوُدُ ، مَنْصُورٌ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 301
الحكم: إسناده صحيح، م: 301
حدیث نمبر: 25247 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، دَوُادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَاه حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا دَوُادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 301
الحكم: إسناده صحيح، م: 301
حدیث نمبر: 25248 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي حَفْصَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي حَفْصَةَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرْتْهُ، أنه لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ وَأَمَرَ فَنُودِيَ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ. فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ فِي صَلَاتِهِ. قَالَ: فَأَحْسِبُهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَامَ مِثْلَ مَا قَامَ، وَلَمْ يَسْجُدْ، ثُمَّ رَكَعَ، فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ وَجُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں جب سورج گرہن ہوا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، حکم دیا، نماز کا اعلان کردیا گیا کہ نماز تیار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور نماز میں طویل قیام فرمایا اور غالباً اس میں سورت بقرہ کی تلاوت فرمائی، پھر ایک طویل رکوع کیا، پھر "۔ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " کہہ کر پہلے کی طرح کافی دیر کھڑے رہے اور سجدے میں نہیں گئے بلکہ دوبارہ رکوع کیا، پھر سجدے میں گئے اور دوسری رکعت میں کھڑے ہو کر بھی اس طرح کیا کہ ہر رکعت میں دو رکوع کئے، پھر التحیات میں بیٹھ گئے اور اس دوران سورج گرہن ختم ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25248]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حفصة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى حفصة
حدیث نمبر: 25249 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا اگر قریش کے فخر و غرور میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں بتاتا کہ اللہ کے یہاں ان کا کیا مقام و مرتبہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25249]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25250 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعِقَّ عَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً، وَعَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ، وَأَمَرَنَا بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں برابر کی ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری نیز یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بکری قربان کردیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25250]
حکم دارالسلام
حديث العقيقة صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل حفصة بنت عبدالرحمن
الحكم: حديث العقيقة صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل حفصة بنت عبدالرحمن
حدیث نمبر: 25251 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تُعَيِّرُ النِّسَاءَ اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَعْرِضَ نَفْسَهَا بِغَيْرِ صَدَاقٍ؟ فَنَزَلَ، أَوْ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكَ سورة الأحزاب آية 51، قَالَتْ: إِنِّي أَرَى رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان عورتوں پر طعنہ زنی کرتی تھیں جو خود اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کردیتی تھیں اور ان کی رائے یہ تھی کہ کسی عورت کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے آپ کو بغیر مہر کے پیش کردیتی ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں موخر کردیں اور جسے چاہیں اپنے قریب کرلیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا میں تو یہی دیکھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی خواہشات پوری کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25251]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4788، م: 1464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4788، م: 1464
حدیث نمبر: 25252 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ قَالَ: " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، ثُمَّ يُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ، وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي مَلَكٌ فِي مِثْلِ صُورَةِ الرَّجُلِ، فَأَعِي مَا يَقُولُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغام الہٰی سمجھ چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور وہ کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3215، م: 2333
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3215، م: 2333
حدیث نمبر: 25253 مسند احمد
عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيُّ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عامر ابن صالح وهو متروك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عامر ابن صالح وهو متروك
حدیث نمبر: 25254 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النعمان ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، أَبِي يُونُسَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النعمان ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ". فَلَمَّا دَخَلَ، هَشَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ". فَلَمَّا دَخَلَ، لَمْ يَنْبَسِطْ إِلَيْهِ كَمَا انْبَسَطَ إِلَى الْآخَرِ، وَلَمْ يَهَشَّ لَهُ كَمَا هَشَّ. فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَأْذَنَ فُلَانٌ، فَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ، ثُمَّ هَشَشْتَ لَهُ، وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ، وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَا قُلْتَ وَلَمْ أَرَكَ صَنَعْتَ بِهِ مَا صَنَعْتَ لِلْآخَرِ؟! فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ اتُّقِيَ لِفُحْشِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، جب وہ چلا گیا تو ایک اور آدمی نے اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ اپنے قبیلے کا بہت اچھا آدمی ہے، لیکن جب وہ اندر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے کی طرح اس سے ہشاش بشاش ہو کر اس کی جانب توجہ نہ فرمائی، جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے اس کے متعلق اس اس طرح فرمایا: پھر اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو بھی فرمائی اور دوسرے آدمی کے ساتھ اس طرح نہ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بدترین آدمی وہ ہوگا جسے لوگوں نے اس کی فحش گوئی سے بچنے کیلئے چھوڑ دیا ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25254]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون ذكر الرجل الآخر الذى قال فيه النبى صلى الله عليه و آله وسلم : نعم أبن العشير فإسناده حسن
الحكم: حديث صحيح دون ذكر الرجل الآخر الذى قال فيه النبى ﷺ : نعم أبن العشير فإسناده حسن
حدیث نمبر: 25255 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْءٌ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، يَقُولُ: " مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبُكُمْ، وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيكُمْ، وَتَسْتَنْصِرُونِي، فَلَا أَنْصُرُكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے سے محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت میں کچھ گھٹن ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور کسی سے بات کئے بغیر واپس چلے گئے، میں نے حجروں کے قریب ہو کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے لوگو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم مجھے پکارو اور میں تمہاری دعائیں قبول نہ کروں، تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں کچھ عطا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد مانگو تو میں تمہاری مدد نہ کروں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25255]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عاصم بن عمر، الصحيح فى عثمان بن عمرو، عمرو بن عثمان بن هاني
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عاصم بن عمر، الصحيح فى عثمان بن عمرو، عمرو بن عثمان بن هاني
حدیث نمبر: 25256 مسند احمد
بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، شُعْبَةَ بْنَ الْحَجَّاجِ ، نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ بْنَ الْحَجَّاجِ يُحَدِّثُ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى بِالنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صف میں تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25257 مسند احمد
شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، شُعْبَةُ ، نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25257]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25258 مسند احمد
شَبَابَةُ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَةُ؟ فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گے اور لوگوں کو ان کی آواز سنائی نہ دے گی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم تو یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3384
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3384