بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 31 از 67
حدیث نمبر: 25059 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، حَبِيبٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُصَلِّي الْمُسْتَحَاضَةُ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مستحاضہ عورت نماز پڑھے گی اگرچہ اس کا خون چٹائی پر ٹپک رہا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25059]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25060 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقٌ بِالْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ" . يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ. قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں مونچھیں تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پورے دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیرناف بال صاف کرنا اور استنجاء کرنا، راوی کہتے ہیں کہ دسویں چیز میں بھول گیا شاید وہ کلی کرنا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 261
الحكم: إسناده صحيح، م: 261
حدیث نمبر: 25061 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا كُنْتُ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ، إِلَّا وَهُوَ عِنْدِي نَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سحری کے وقت ہمیشہ اپنے پاس سوتا ہوا پاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1132، م: 742
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1132، م: 742
حدیث نمبر: 25062 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجْنَ مَعَهُ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ يَغْتَسِلْنَ فِيهِ، وَيَعْرَقْنَ، لَا يَنْهَاهُنَّ عَنْهُ مُحِلَّاتٍ وَلَا مُحْرِمَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمروبن سوید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عائشہ بنت طلحہ کے سامنے محرم کے خوشبو لگانے کا مسئلہ بیان ہو رہا تھا، انہوں نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئیں، انہوں نے اپنے سر کے بال چپکا رکھے تھے اور یہ پٹی انہوں نے احرام سے پہلے باندھ رکھی تھی، پھر وہ اس پٹی کو سر پر باندھے باندھے غسل کرلیتی تھیں، انہیں پسینہ آتا تو وہ غسل کرلیتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25063 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عِرَاكٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ فَعَلُوهَا، اسْتَقْبَلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25063]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فى متنه. خالد بن ابي الصلت لم يسمع من عراك وهو ضعيف ايضاً
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه. خالد بن ابي الصلت لم يسمع من عراك وهو ضعيف ايضاً
حدیث نمبر: 25064 مسند احمد
وَكِيعٌ ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعَهُ مِنْهُ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ، بَعْضُهُ عَلَيْهَا، وَهِيَ حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ رضی اللہ عنہا پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے رہتے حالانکہ میں " ایام " سے ہوتی تھی [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 514
الحكم: إسناده صحيح، م: 514
حدیث نمبر: 25065 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْمِقْدَامِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَإِذَا مَطَرَتْ، قَالَ: " اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بادل دیکھتے تو رخ انور سرخ ہوجاتا اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ! موسلا دھار ہو اور نفع بخش۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25065]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 253
الحكم: إسناده صحيح، م: 253
حدیث نمبر: 25066 مسند احمد
وكِيعٌ ، أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وكِيعٌ , حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينِ" . يَعْنِي: الْحَسْوَ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ، لَمْ تَزَلْ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَلْتَقِي أَحَدَ طَرَفَيْهِ، يَعْنِي: يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ میں سے اگر کوئی بیمار ہوجاتا تو اس وقت تک ہنڈیا چولہے پر چڑھی رہتی تھی جب تک دو میں سے کوئی ایک کام نہ ہوجاتا یعنی تندرستی یا موت۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25066]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
حدیث نمبر: 25067 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبُو عُقَيْلٍ ، بُهَيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُقَيْلٍ ، عَنْ بُهَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ" . يَعْنِي: الْمَوْتَ. وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: الشُّونِيزُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کلونجی کو اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25067]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عقيل ولجهالة بهية
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى عقيل ولجهالة بهية
حدیث نمبر: 25068 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَمِسْعَرٌ ، مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَمِسْعَرٌ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نظر بد سے بچنے کے لئے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5738، م: 2195
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5738، م: 2195
حدیث نمبر: 25069 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً، فَقَالَ: " رَحِمَهُ اللَّهُ، لَقَدْ ذَكَّرَنِي آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل کرے، اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جو میں بھول گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25069]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2665، م: 788
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2665، م: 788
حدیث نمبر: 25070 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، بُرْدٍ ، عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رُبَّمَا أَوْتَرَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ بَعْدَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی سونے سے پہلے غسل فرمالیتے تھے اور کبھی غسل سے پہلے سو جاتے اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی سونے سے پہلے اور کبھی سونے کے بعد وتر پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25071 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٍ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي شَيْئًا مِنَ الشِّعْرِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، شِعْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، كَانَ يَرْوِي هَذَا الْبَيْتَ: " وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ " اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25071]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك وتمثل النبى صلى الله عليه و آله وسلم بشعر ابن رواحة صحيح لغيره
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك وتمثل النبى صلى الله عليه وسلم بشعر ابن رواحة صحيح لغيره
حدیث نمبر: 25072 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25072]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25073 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاء ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاء ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25073]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2647، م: 1455
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2647، م: 1455
حدیث نمبر: 25074 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، شِمْرٍ ، يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا رَكِبَتْ جَمَلًا، فَلَعَنَتْهُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَرْكَبِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہوئیں تو اس پر لعنت بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس پر سواری نہ کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25074]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأن أعمش لم يسمع من شمر و كذا يحيى بن وثاب لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأن أعمش لم يسمع من شمر و كذا يحيى بن وثاب لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25075 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَكَّ بُزَاقًا فِي الْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں تھوک کو مٹی میں مل دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25075]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 407، م: 549
الحكم: إسناده صحيح، خ: 407، م: 549
حدیث نمبر: 25076 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلَ ، مُصْعَبِ بْنِ إِسْحَاقَ بنِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ إِسْحَاقَ بنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ أَنِّي رَأَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے لئے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ میں نے جنت میں عائشہ کی ہتھیلی کی سفیدی دیکھی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25076]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة مصعب بن إسحاق بن طلحة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة مصعب بن إسحاق بن طلحة
حدیث نمبر: 25077 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أُسَامَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلًا يَفْقَهُهُ كُلُّ أَحَدٍ، لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُهُ سَرْدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گفتگو بالکل واضح ہوتی تھی اور ہر شخص اسے سمجھ لیتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25077]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
الحكم: إسناده حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
حدیث نمبر: 25078 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي ، سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، أُمِّ حَكِيمٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّيْتُ صَلَاةً كُنْتُ أُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ أَنَّ أَبِي نُشِرَ، فَنَهَانِي عَنْهَا، مَا تَرَكْتُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں ایک نماز پڑھتی ہوں جو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں بھی پڑھا کرتی تھی اگر میرے والد بھی زندہ ہو کر مجھے اس سے منع کریں تو میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25078]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين
الحكم: حديث محتمل للتحسين