وكِيعٌ ، أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وكِيعٌ , حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينِ" . يَعْنِي: الْحَسْوَ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ، لَمْ تَزَلْ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَلْتَقِي أَحَدَ طَرَفَيْهِ، يَعْنِي: يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ میں سے اگر کوئی بیمار ہوجاتا تو اس وقت تک ہنڈیا چولہے پر چڑھی رہتی تھی جب تک دو میں سے کوئی ایک کام نہ ہوجاتا یعنی تندرستی یا موت۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25066]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أم كلثوم