بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 66 از 67
حدیث نمبر: 25759 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں پڑھتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25759]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
حدیث نمبر: 25760 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِيَّاكُنَّ وَقَشْرَ الْوَجْهِ، فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنِ الْخِضَابِ؟ فَقَالَتْ:" لَا بَأْسَ بِالْخِضَابِ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ، لِأَنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے ایک الگ جگہ بنا رکھی ہے، ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ اے ام المومنین! مہندی کے متعلق آپ کیا کہتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا رنگ اچھا لگتا تھا لیکن مہک اچھی نہیں لگتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25760]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل كريمة بنت همام فإنها مستورة
الحكم: إسناده ضعيف لأجل كريمة بنت همام فإنها مستورة
حدیث نمبر: 25761 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، جَاءَهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ قَالَ الْأَعْمَشُ: رَقِيقٌ وَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي، فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ، وَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي، فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ". فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ: مَكَانَكَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکیں گے، اس لئے آپ عمر کو اس کا حکم دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا، ہم نے بھی اپنی بات دہرا دی، تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، تم تو یوسف والیاں ہو، چنانچہ میں نے والد صاحب کے پاس پیغام بھیج دیا۔ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی مرض سے تحفیف محسوس ہوئی اور وہ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح نکلے کہ ان کے پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب محسوس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ہی رہو اور خود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک جانب بیٹھ گئے، اب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25761]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 664، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 664، م: 418
حدیث نمبر: 25762 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٌ ، جَابِرٍ ، زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ مَقْعَدَتَهُ ثَلَاثًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی شرمگاہ کو تین مرتبہ دھویا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25762]
حکم دارالسلام
إسناده مسلسل بالضفعاء
الحكم: إسناده مسلسل بالضفعاء
حدیث نمبر: 25763 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي ، أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي الْوُضُوءِ وَالتَّرَجُّلِ وَالتَّنَعُّلِ" . وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: الِانْتِعَالِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب امکان اپنے پھر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25763]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الجراح بن مليح حسن الحديث وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، الجراح بن مليح حسن الحديث وقد توبع
حدیث نمبر: 25764 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25764]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 261، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 261، م: 321
حدیث نمبر: 25765 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ، وَكُنْتُ أَتَعَرَّقُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا۔ اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25765]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح، م: 300
الحكم: إستاده صحيح، م: 300
حدیث نمبر: 25766 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" . قَالَ عُرْوَةُ: قُلْتُ لَهَا: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ؟ قَالَ: فَضَحِكَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لئے چلے گئے اور نیا وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ وہ آپ ہی ہوسکتی ہیں، تو وہ ہنسنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1928، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1928، م: 1106
حدیث نمبر: 25767 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي رَوْقٍ الْهَمْدَانِيِّ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبَّلَ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لئے چلے گئے اور نیا وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25767]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن إبراهيم لم يسمع من عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن إبراهيم لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25768 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر پانی بہا دیا، دھویا نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25768]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5355، م: 286
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5355، م: 286
حدیث نمبر: 25769 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، وَيَحْيَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، وَيَحْيَى ، قَالَا: لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ:" مَنْ؟" قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا، قَالَ:" فَمَنْ الْبِكْرُ؟" قَالَتْ: ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ:" وَمَنْ الثَّيِّبُ؟" قَالَتْ: سَوْدَةُ ابْنَةُ زَمْعَةَ، قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ، قَالَ: " فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهِمَا عَلَيَّ". فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ رُومَانَ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ؟ قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ، قَالَتْ: انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عز وجل عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ. قَالَ: وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ، إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ، فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ. قَالَ:" ارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقُولِي لَهُ: أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ، وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي". فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: انْتَظِرِي، وَخَرَجَ. قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ: إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ قَدْ كَانَ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ، فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ وْعِدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ؟ وَعِنْدَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ الْفَتَى، فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، لَعَلَّكَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُهُ فِي دِينِكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ إِنْ تَزَوَّجَ إِلَيْكَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ، لِلْمُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ آقَوْلَ هَذِهِ، تَقُولُ: قَالَ: إِنَّهَا تَقُولُ ذَلِكَ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ، وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَهُ، فَرَجَعَ، فَقَالَ لِخَوْلَةَ: ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَتْهُ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، وَعَائِشَةُ يَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ. ثُمَّ خَرَجَتْ، فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ؟ قَالَتْ: مَا ذَاكَ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ. قَالَتْ: وَدِدْتُ، ادْخُلِي إِلَى أَبِي، فَاذْكُرِي ذَاكَ لَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَهُ السِّنُّ، قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ، فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالَتْ: خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ، قَالَ: فَمَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ، قَالَ: كُفْءٌ كَرِيمٌ، مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ؟ قَالَتْ: تُحِبُّ ذَاكَ، قَالَ: ادْعُهَا لِي، فَدَعَتُهَا، قَالَ: أَيْ بُنَيَّةُ، إِنَّ هَذِهِ تَزْعُمْ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ، وَهُوَ كُفْءٌ كَرِيمٌ، أَتُحِبِّينَ أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ادْعِيهِ لِي، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَجَاءَهَا أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنَ الْحَجِّ، فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ، فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ لَعَمْرُكَ، إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ مْنِ الْخَزْرَجِ فِي السُّنْحِ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بَيْتَنَا، وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ، فَجَاءَتْنِي أُمِّي، وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عَذْقَيْنِ تَرْجَحُ بِي، فَأَنْزَلَتْنِي مِنَ الْأُرْجُوحَةِ، وَلِي جُمَيْمَةٌ، فَفَرَقَتْهَا، وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ بِي عِنْدَ الْبَابِ، وَإِنِّي لَأَنْهَجُ، حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفْسِي، ثُمَّ دَخَلَتْ بِي، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا، وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَجْلَسَتْنِي فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ قَالَتْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُكِ، فَبَارَكَ اللَّهُ لَكِ فِيهِمْ، وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكِ، فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ، فَخَرَجُوا وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا، مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ، وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بِجَفْنَةٍ كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ اور یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ فوت ہوگئیں تو خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہ " جو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! آپ نکاح کیوں نہیں کرلیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کس سے؟ انہوں نے عرض کیا اگر آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور شوہر دیدہ بھی موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کنواری لڑکی کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی مخلوق میں آپ کو سب سے محبوب آدمی کی بیٹی یعنی عائشہ بنت ابی بکر، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا شوہر دیدہ کون ہے، انہوں نے عرض کیا سودہ بنت زمعہ، جو آپ پر ایمان رکھتی ہے اور آپ کی شریعت کی پیروی کرتی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور دونوں کے یہاں میرا تذکرہ کردو۔ چنانچہ حضرت خولہ رضی اللہ عنہ سیدنا صدیق اکبر کے گھر پہنچیں اور کہنے لگیں اے ام رومان! اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیرو برکت داخل کرنے والا ہے، ام رومان نے پوچھا وہ کیسے؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے، ام رومان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوبکر کے آنے کا انتظار کرلو، تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت خولہ رضی اللہ عنہ اور ان کے درمیان بھی یہی سوال جواب ہوتے ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا جائز ہے؟ کیونکہ وہ تو ان کی بھتیجی ہے، خولہ رضی اللہ عنہ واپس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچیں اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں جا کر کہہ دو کہ میں تمہارا اور تم میرے اسلامی بھائی ہو، اس لئے تمہاری بیٹی سے میرے لئے نکاح کرنا جائز ہے، انہوں نے واپس آکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ جواب بتادیا، انہوں نے فرمایا تھوڑی دیر انتظار کرو اور خود باہر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ام رومان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے اپنے بیٹے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگا تھا اور واللہ ابوبکر نے کبھی بھی وعدہ کر کے وعدہ خلافی نہیں کی تھی، لہذا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے مطعم بن عدی کے پاس گئے، اس کے پاس اس کی بیوی ام الفتی بھی موجود تھی، وہ کہنے لگی، اے ابن ابی قخافہ! اگر ہم نے اپنے بیٹے کا نکاح آپ کے یہاں کردیا تو ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے بیٹے کو بھی دین میں داخل کرلیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطعم بن عدی سے پوچھا کہ کیا تم بھی یہی رائے رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس کی بات صحیح ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل آئے اور ان کے ذہن پر وعدہ خلافی کا جو بوجھ تھا وہ اللہ نے اس طرح دور کردیا اور انہوں نے واپس آکر خولہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میرے یہاں بلا کرلے آؤ، خولہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے آئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کردیا، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ سال تھی۔ اس کے بعد خولہ رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیروبرکت داخل کرنے والا ہے، سودہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ کیسے؟ خولہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس اپنی جانب سے پیغام نکاح دیکر بھیجا ہے، انہوں نے کہا بہتر ہے کہ تم میرے والد کے پاس جا کر ان سے اس بات کا ذکر کرو، سودہ کے والد بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور ان کی عمر اتنی زیادہ ہوچکی تھی کہ وہ حج نہیں کرسکتے تھے، خولہ ان کے پاس گئیں اور زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق انہیں اداب کہا، انہوں نے پوچھا کون ہے؟ بتایا کہ میں خولہ بنت حکیم ہوں، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ خولہ نے کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بن عبداللہ نے سودہ سے اپنا پیغام نکاح بھیجا ہے، زمعہ نے کہا کہ وہ تو بہترین جوڑ ہے، تمہاری سہیلی کی کیا رائے ہے؟ خولہ نے کہا کہ اسے یہ رشتہ پسند ہے، زمعہ نے کہا کہ اسے میرے پاس بلاؤ، خولہ نے انہیں بلایا تو زمعہ نے ان سے پوچھا پیاری بیٹی! ان کا کہنا ہے کہ محمد بن عبداللہ نے اسے تم سے اپنا پیغام نکاح دے کر بھیجا ہے اور وہ بہترین جوڑ ہے تو کیا تم چاہتی ہو کہ میں ان سے تمہارا نکاح کر دوں؟ سودہ رضی اللہ عنہ نے حامی بھر لی، زمعہ نے مجھ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میرے پاس بلا کرلے آؤ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور زمعہ نے ان سے حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کا نکاح کردیا، چند دنوں کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا، اسے اس رشتے کا علم ہوا تو وہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کہتے [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25769]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25770 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا أُنْزِلَتْ آيَةُ التَّخْيِيرِ؟ قَالَ: بَدَأَ بِعَائِشَةَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا، فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ" قَالَتْ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ؟ قَالَ:" قَالَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29" قَالَتْ: إِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، وَلَا أُؤَامِرُ فِي ذَلِكَ أَبَوَيَّ أَبَا بَكْرٍ وَأُمَّ رُومَانَ، قَالَتْ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَقْرَأَ الْحُجَرَ، فَقَالَ:" إِنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: فَقُلْنَ مِثْلَ الَّذِي، قَالَتْ عَائِشَةُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔ الخ۔ " میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں اور والدین سے مشورے کی ضرورت نہیں سمجھتی، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے اور دیگر ازواج مطہرات کے حجروں کی طرف چلے گئے اور فرمایا عائشہ نے یہ کہا ہے اور دیگر ازواج نے بھی وہی جواب دیا جو انہوں نے دیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25770]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25771 مسند احمد
عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيُحَنِّكُهُمْ، وَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ، فَبَالَ فِي حِجْرِهِ صَبِيٌّ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَتْبَعَ الْبَوْلَ الْمَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اپنے بچے کو لاتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25771]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 222، م: 286
الحكم: حديث صحيح، خ: 222، م: 286
حدیث نمبر: 25772 مسند احمد
عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" قُلْتُ: هَذِهِ فُلَانَةٌ، وَهِيَ تَقُومُ اللَّيْلَ أَوْ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، فَكَرِهَ ذَلِكَ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رک جاؤ اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن کی تم میں طاقت بھی ہو، واللہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤ گے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25772]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: فكره ذلك حتى ... فهو حسن لغيره، خ: 1151، م: 785
الحكم: حديث صحيح دون قولها: فكره ذلك حتى ... فهو حسن لغيره، خ: 1151، م: 785
حدیث نمبر: 25773 مسند احمد
عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي، كَانَ يَرْقُدُ عَلَيْهِ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بستر جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کجھور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25773]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6456، م: 2082
الحكم: حديث صحيح، خ: 6456، م: 2082
حدیث نمبر: 25774 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي عَنْ أَشْيَاءَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ ظُهْرًا فِي بَيْتِهِمْ، وَلَيْسَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا ابْنَتَاهُ عَائِشَةُ، وَأَسْمَاءُ، إِذَا هُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ , وَكَانَ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمًا أَنْ يَأْتِيَ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ جَاءَ ظُهْرًا، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ إِلَّا أَمْرٌ حَدَثَ؟ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْبَيْتَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ، فَقَالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ عَيْنٌ، إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ. قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذِنَ لِي بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمَدِينَةِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّحَابَةَ، قَالَ:" الصَّحَابَةَ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: خُذْ إِحْدَى الرَّاحِلَتَيْنِ وَهُمَا الرَّاحِلَتَانِ اللَّتَانِ كَانَ يَعْلِفُ أَبُو بَكْرٍ يُعِدُّهُمَا لِلْخُرُوجِ إِذَا أُذِنَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ إِحْدَى الرَّاحِلَتَيْنِ، فَقَالَ: خُذْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارْكَبْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالملک بن مروان نے انہیں ایک خط لکھا جس میں ان سے کچھ چیزوں کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے جواب میں لکھا "۔۔۔۔۔۔۔۔! میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اما بعد! آپ نے مجھ سے کئی چیزوں کے متعلق پوچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا ہے کہ اس دن وہ ظہر کے وقت اپنے گھر میں تھے، اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی صرف دو بیٹیاں عائشہ اور اسماء تھیں، اچانک سخت گرمی میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگئے، قبل ازیں کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ دن کے دونوں حصوں یعنی صبح شام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر نہ آتے ہوں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے والدین حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نثار، اس وقت کسی اہم کام کی وجہ سے حضور تشریف لائے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی تو اندر تشریف لا کر فرمایا: ان پاس والے آدمیوں کو باہر کردو کیونکہ ایک پوشیدہ بات کرنا ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یہ تو صرف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر والے ہی ہیں ارشاد فرمایا مجھے یہاں سے ہجرت کر جانے کی اجازت مل گئی، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا مجھے رفاقت کا شرف ملے گا؟ فرمایا: ہاں! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے والدین نثار، ان دونوں اونٹنیوں میں سے آپ ایک لے لیجئے فرمایا میں مول لیتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25774]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2138
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2138
حدیث نمبر: 25775 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25775]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: بعد أيام ، وهذا إسناد حسن لأجل حماد
الحكم: حديث صحيح دون قولها: بعد أيام ، وهذا إسناد حسن لأجل حماد
حدیث نمبر: 25776 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ بِهَا وَيُقِيمُ فِينَا حَلَالًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25776]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1702، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1702، م: 1321
حدیث نمبر: 25777 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَصْدُرَ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ: " إِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا". فَقَالُوا: إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ:" فَلْتَنْفِرْ إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25777]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1561، م: 1211
الحكم: حديث صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 25778 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25778]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، حماد وهو ابن أبى سليمان توبع
الحكم: حديث صحيح، حماد وهو ابن أبى سليمان توبع