بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 43 از 67
حدیث نمبر: 25299 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة الأحزاب آية 29 دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَدَأَ بِي، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ؟" قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ، أنَّ أبوي لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ. قَالَتْ: فَقَرَأَ عَلَيَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28، فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟! فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25299]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4786، م: 1475
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4786، م: 1475
حدیث نمبر: 25300 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُ الْمُؤْمِنَاتِ إِلَّا بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ سورة الممتحنة آية 12 وَلَا وَلَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مومن عورتوں کا امتحان اسی آیت سے کرتے تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا " جب آپ کے پاس مومن عورتیں آئیں " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25300]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7214، م: 1866
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7214، م: 1866
حدیث نمبر: 25301 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: بَدَأَ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ". ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ"، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ حَتَّى بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29، قَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ. قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قسم کھالی کہ ایک ماہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے، ٢٩ دن گذرنے کے بعد سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے تو ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میری شمار کے مطابق تو آج ٢٩ دن ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا بھی ہوتا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا اس معاملے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25301]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1083، 1475
الحكم: إسناده صحيح، م: 1083، 1475
حدیث نمبر: 25302 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اخلاق کے بارے بتایئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاق تو قرآن ہی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25302]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25303 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " يَأْتِينِي أَحْيَانًا لَهُ صَلْصَلَةٌ كَصَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، فَيَنْفَصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ، وَذَلِكَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، وَيَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي صُورَةِ الرَّجُلِ أَوْ قَالَ: الْمَلَكِ فَيُخْبِرُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات مجھ پر گھنٹی کی سنسناہٹ کی سی آواز میں وحی آتی ہے، یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، لیکن جب یہ کیفیت مجھ سے دور ہوتی ہے تو میں پیغامِ الہٰی سمجھ چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ میرے پاس انسانی شکل میں آتا ہے اور جو کہتا ہے میں اسے محفوظ کرلیتا ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25303]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2، م: 2333
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2، م: 2333
حدیث نمبر: 25304 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25304]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6789، م: 1684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6789، م: 1684
حدیث نمبر: 25305 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ، فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمْ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ يَهُودَ أن َيَأْخُذُوه بِذَلِكَ الْخَرْصِ، أَمْ يَدْفَعُونَهُ إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ؟ وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِالْخَرْصِ، لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ، قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثَّمَرَةُ وَيُفَرَّقَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیبر کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کے پاس بھیجتے تھے، جب کھجور کھانے کے قابل ہوجاتی تو وہ اس کا اندازہ لگاتے تھے، پھر یہودیوں کو اس بات کا اختیار دے دیتے تھے کہ وہ اس اندازے کے مطابق اسے لیتے ہیں یا مسلمانوں کو دیتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اندازہ لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ پھل کھانے اور الگ کرنے سے پہلے زکوٰۃ کا حساب لگا لیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25305]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه لأن ابن جريج لم يسمع هذا الحديث من ابن شهاب
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن ابن جريج لم يسمع هذا الحديث من ابن شهاب
حدیث نمبر: 25306 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْهُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ التَّمْرِ"، وَقَالَ:" قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ".
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 25307 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا". فَحِضْتُ، فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي؟ قَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ". فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي، أَمْرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ عَنْهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ھدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو اور عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبد الرحمٰن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ اب تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25307]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 25308 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، وَهِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَهِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ضباعہ بنت زیبر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں کہ میں حج کرنا چاہتی ہوں لیکن میں بیمار ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم حج کے لئے روانہ ہوجاؤ اور یہ شرط ٹھہرا لو کہ اے اللہ! میں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں تو نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25308]
حکم دارالسلام
اسناداه صحيحان، خ: 5089، م: 1207
الحكم: اسناداه صحيحان، خ: 5089، م: 1207
حدیث نمبر: 25309 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ، أُخْبِرَ أَنَّ صَفِيَّةَ حَائِضٌ، فَقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟" فَأُخْبِرَ أَنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، فَأَمَرَهَا بِالْخُرُوجِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی للہ عنہا کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25309]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4401، م: 1211
حدیث نمبر: 25310 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحِدَأَةِ، وَالْعَقْرَبِ، وَالْفَأْرَةِ، وَالْغُرَابِ، وَالْكَلْبِ الْعَقُورِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25310]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 25311 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25311]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
الحكم: حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 25312 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثم ركع، فأطالَ الركوع جدًَّا، وهو دون الركوع الأوَّل ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ القيامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ. فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَكَبِّرُوا، وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا. يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ، أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ. يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا، پھر سجدے میں جانے سے پہلے سر اٹھا کر طویل قیام کیا، البتہ یہ پہلے قیام سے مختصر تھا، پھر رکوع کیا اور طویل رکوع کیا البتہ یہ پہلے رکوع سے مختصر تھا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے پھر وہی کیا جو پہلی رکعت میں کیا تھا، البتہ اس رکعت میں پہلے قیام کو دوسرے کی نسبت لمبا رکھا اور پہلا رکوع دوسرے کی نسبت زیادہ لمبا تھا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز مکمل کی جبکہ سورج گرہن ختم ہوگیا تھا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا شمس و قمر اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جنہیں کسی کی موت وحیات سے گہن نہیں لگتا، جب تم انہیں گہن لگتے ہوئے دیکھو تو اللہ کی کبریائی بیان کیا کرو، اس سے دعا کیا کرو، نماز اور خیرات کیا کرو، اے امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے زیادہ کسی کو اس بات پر غیرت نہیں آسکتی کہ اس کا کوئی بندہ یا بندی بدکاری کرے، اے امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بخد اگر تمہیں وہ کچھ معلوم ہوتا جو مجھ معلوم ہے تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے، کیا میں نے پیغامِ الٰہی پہنچا دیا؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25312]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1044، م: 901
حدیث نمبر: 25313 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: يا رَسُولُ اللَّهِ، مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلَّا حَابِسَتُنَا. قَالَ: " أَوَلَمْ تَكُنْ أَفَاضَتْ"، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ:" فَلَا حَبْسَ عَلَيْكِ". فَنَفَرَ بِهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ طواف زیارت کے بعد حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25313]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على قلب فى متنه
الحكم: حديث صحيح على قلب فى متنه
حدیث نمبر: 25314 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى، وَأَرْمِي الْجَمْرَةَ، مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ. فَقِيلَ لَهَا: وَكَانَتْ اسْتَأْذَنَتْهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّهَا كَانَتْ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَذِنَ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کاش! میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لیتی اور فجر کی نماز منیٰ میں جا کر پڑھ لیتی اور لوگوں کے آنے سے پہلے اپنے کام پورے کرلیتی، لوگوں نے پوچھا کیا حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت لے رکھی تھی؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1680، م: 1290
حدیث نمبر: 25315 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَيُخَفِّفُهُمَا، حَتَّى أَقُولَ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25315]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 25316 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَرْجِعُ نِسَاؤُكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ لَيْسَ مَعَهَا عُمْرَةٌ؟ " فَأَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالْبَطْحَاءِ، وَأَمَرَهَا فَخَرَجَتْ إِلَى التَّنْعِيمِ"، وَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَحْرَمَتْ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ أَتَتْ الْبَيْتَ، فَطَافَتْ بِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَقَصَّرَتْ، فَذَبَحَ عَنْهَا بَقَرَةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤنگی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی خاطر بطحاء میں رک گئے اور اپنے بھائی عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم روانہ ہوگئیں، وہاں عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور قصر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی طرف سے گائے ذبح کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25316]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25317 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25317]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 783
الحكم: حديث صحيح، م: 783
حدیث نمبر: 25318 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ، كَيْفَ كَانَ صِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَلَمْ أَرَهُ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے کہ ہم کہتے تھے اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناغے ہی کرتے رہیں گے اور میں نے جس کثرت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے صرف چند دن کو چھوڑ کر تقریبا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25318]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد