بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1339
صفحہ 38 از 67
حدیث نمبر: 25199 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُجِّيَ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تو انہیں دھاری دار یمنی چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25199]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
حدیث نمبر: 25200 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِيهِ ، خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، الْبَهِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25200]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 373
الحكم: إسناده صحيح، م: 373
حدیث نمبر: 25201 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، رَجُلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِيمَا يَفِيضُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ مِنَ الْمَاءِ. قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى الْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی شخص نے پوچھا کہ مرد و عورت کے درمیان تعلقات پر غسل کب واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت غسل فرماتے تھے جب انزال ہوجاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25201]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لابهام الرجل من بني سوءة
الحكم: إسناده ضعيف لابهام الرجل من بني سوءة
حدیث نمبر: 25202 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٍ ، وَيُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَيُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ" أَوْ قَالَ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ. شَكَّ ابْنُ الْمُبَارَكِ. قَالَتْ:" وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی کا آغاز سب سے پہلے سچے خوابوں کے ذریعے ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے صبح کی روشنی کی طرح اس کی تعبیر نمایاں ہو کر سامنے آجاتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25202]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4953، م: 160
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4953، م: 160
حدیث نمبر: 25203 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٍ ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ: قُلْتُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ؟ قَالَتْ: " رُبَّمَا رَفَعَ، وَرُبَّمَا خَفَضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہری قرأت فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25203]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25204 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ فِي بَيْعَةٍ قَطُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں کی بیعت کے حوالے سے مروی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی ہاتھ سے کسی عورت کا ہاتھ نہیں پکڑا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25204]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5814، م: 942
حدیث نمبر: 25205 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ، لَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وُضُوءًا بَعْدَ الْغُسْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کرتے اور دو رکعتیں پڑھ لیتے، غالباً وہ غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25205]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه دون قولها: ويصلي ركعتين وصلاته الغداة وقد تفرد بها زهير
الحكم: حديث حسن بطرقه دون قولها: ويصلي ركعتين وصلاته الغداة وقد تفرد بها زهير
حدیث نمبر: 25206 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، السُّدِّيِّ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَائِشَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنے ازواج کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25206]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك ، خ: 1927، م: 1106
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك ، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 25207 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، دَاوُدُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَطَاءٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَّهُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ. قَالَ عَطَاءٌ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: " أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور فرماتے تھے کہ کیا یہ تمہاری مائیں، بہنیں اور پوپھیاں نہیں ہوتیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25207]
حکم دارالسلام
صلاته وهى معترضة بين يديه صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صلاته وهى معترضة بين يديه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 25208 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ جَمَعَ يَدَيْهِ، فَيَنْفُثُ فِيهِمَا، ثُمَّ يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ" . قَالَ عُقَيْلٌ: وَرَأَيْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا! سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی ہتھیلیاں جمع کرتے اور ان پر سورت اخلاص اور معوذ تین پڑھ کر پھونکتے اور جہاں جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر ان ہاتھوں کو پھیر لیتے اور سب سے پہلے اپنے سر اور چہرے اور سامنے کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25208]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5017
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5017
حدیث نمبر: 25209 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدٌ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ قَائِمًا، وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ النِّدَاءَيْنِ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آٹھ رکعتیں کھڑے ہو کر پڑھیں، پھر دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھیں، جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی ترک نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25209]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1159
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1159
حدیث نمبر: 25210 مسند احمد
مُؤَمَّلُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، مُوسى بْنِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ مُوسى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَدِيجَةَ، فَأَطْنَبَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْهَا، فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ، فَقُلْتُ: لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ. قَالَتْ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا لَمْ أَرَهُ تَغَيَّرَ عِنْدَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ أَوْ عِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَعْلَمَ: رَحْمَةٌ أَوْ عَذَابٌ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ جب کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جو فوت ہوگئی اور جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ اس طرح سرخ ہوگیا جس طرح صرف نزول وحی کے وقت ہوتا تھا، یا بادل چھا جانے کے وقت جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دیکھتے تھے کہ یہ باعث رحمت ہے یا باعث زحمت۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25210]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2437
الحكم: إسناده صحيح، م: 2437
حدیث نمبر: 25211 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتِي دَيْنًا، ثُمَّ جَهَدَ فِي قَضَائِهِ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَهُ، فَأَنَا وَلِيُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص فرض کا بوجھ اٹھائے اور اسے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوت ہوجائے لیکن وہ قرض ادا نہ کرسکا ہو تو میں اس کا ولی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25211]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25212 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ؟ فَأَخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ وَقَعَ الطَّاعُونُ فِي بَلَدِهِ، فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے " طاعون " کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جو اللہ جس پر چاہتا تھا بھیج دیتا تھا، لیکن اس امت کے مسلمانوں پر اللہ نے اسے رحمت بنادیا ہے، اب جو شخص طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوا اور اس شہر میں ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے رکا رہے اور یقین رکھتا ہو کہ اسے صرف وہی مصیبت آسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے، تو اسے شہید کے برابر اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25212]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3474
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3474
حدیث نمبر: 25213 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ، أَوْ فِي جَنَازَةِ قَتِيلٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں ہے، الاّ یہ کہ وہ مسجد میں ہو یا کسی شہید کے جنازے میں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25213]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة ولجهالة الوليد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة ولجهالة الوليد
حدیث نمبر: 25214 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، وَحُسَيْنٌ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ سُلَيْمَانَ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ . وَحُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ؟ فَقَالَ: " دِبَاغُهَا طَهُورُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مردار جانوروں کی کھال کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کی دباغت ہی ان کی طہارت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25214]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 25215 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ: " فُوَيْسِقٌ". وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمْرَ بِقَتْلِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چپکلی کو (نقصان دہ) قرار دیا ہے، لیکن میں نے انہیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25215]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1831
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1831
حدیث نمبر: 25216 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، يَحْيى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، عَائِشَةَ ، وَعُثْمَانَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُثْمَانَ ، حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَاسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ:" اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ" فَقَضَيتُ إِلَيْهِ حَاجَتَي ثُمَّ انْصَرَفَ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ" . قَالَ لَيْثٌ: وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ:" أَلَا أَسْتَحِي مِمَّنْ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟!"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ ران مبارک سے کپڑا ہٹ گیا تھا، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی حال پر بیٹھے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی آپ نے کپڑا سمیٹنے کے لئے فرمایا جب وہ لوگ چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ سے ابوبکر و عمر نے اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب عثمان نے اجازت چاہی تو آپ نے اپنے اوپر کپڑا ڈھانپ لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں واللہ جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25216]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2401
الحكم: إسناده صحيح، م: 2401
حدیث نمبر: 25217 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابِسٌ مِرْطًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25217]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2402
الحكم: إسناده صحيح، م: 2402
حدیث نمبر: 25218 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، امْرَأَتِهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : قَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مِنْ سَفَرٍ، فَقَدَّمْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ، فَقَالَ: لَا آكُلُهُ حَتَّى أَسْأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَسَأَلَهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوهُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قربانی کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں سفر سے واپس آئے، ہم نے انہیں قربانی کا گوشت پیش کیا، انہوں نے کہا کہ میں جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق خود نہ پوچھ لوں، اسے نہیں کھاؤں گا، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ذی الحجہ سے دوسری ذی الحجہ تک اسے کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25218]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يزيد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يزيد